واشنگٹن — امریکہ میں آج، منگل 3 نومبر کو، مڈٹرم انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہ انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے آدھے راستے پر ہو رہے ہیں، اور ان کا نتیجہ یہ طے کرے گا کہ آئندہ دو برس میں واشنگٹن میں قانون سازی کس کے ہاتھ میں رہے گی۔ نتائج ابھی نہیں آئے ہیں — یہ مضمون صرف یہ بتا رہا ہے کہ آج کیا ہو رہا ہے اور کیا داؤ پر لگا ہے۔
آج کن نشستوں پر ووٹ پڑ رہے ہیں؟
ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستیں اس بار انتخاب کے لیے پیش ہیں۔ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر بھی ووٹ ہو رہے ہیں، جن میں 33 باقاعدہ نشستیں اور فلوریڈا اور اوہائیو میں دو ضمنی انتخابات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ 36 ریاستوں میں گورنر بھی چنے جا رہے ہیں۔ کئی ریاستوں میں ستمبر سے ڈاک کے ذریعے اور قبل از وقت ووٹنگ جاری تھی، لیکن آج ووٹ ڈالنے کا آخری دن ہے۔
ایوان میں کس کی اکثریت خطرے میں ہے؟
اس وقت ایوان میں ریپبلکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے: 219 نشستیں ریپبلکنز کے پاس ہیں اور 214 ڈیموکریٹس کے پاس، جبکہ فلوریڈا اور ٹیکساس کی دو نشستیں خالی ہیں۔ اتنی پتلی اکثریت میں چند نشستوں کا ادھر ادھر ہونا بھی اقتدار کا توازن بدل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابات ٹرمپ کی پارٹی کے لیے خاصے مشکل نظر آ رہے ہیں، کیونکہ تاریخی طور پر مڈٹرم میں صدر کی پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
سینیٹ میں کیا صورتحال ہے؟
سینیٹ کی دوڑ زیادہ قریبی سمجھی جا رہی ہے۔ پیش گوئی کی منڈیوں (پولی مارکیٹ اور کالشی) کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے سینیٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کا امکان تقریباً 75 فیصد لگایا جا رہا ہے، لیکن یہ سروے نہیں بلکہ سٹے بازی کی منڈیوں کا تخمینہ ہے، اور اسے حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ سینیٹ کا فیصلہ کئی ریاستوں میں بہت قریبی مقابلوں پر منحصر ہوگا۔
نتائج کب معلوم ہوں گے؟
پولنگ کا اختتام مشرقی وقت کے مطابق رات گئے ہوگا، اور ہوائی و الاسکا میں آخری پولنگ اسٹیشن رات 12 سے ایک بجے کے درمیان بند ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں نتائج کی پہلی جھلک بدھ کی صبح سے آنا شروع ہوگی، لیکن قریبی مقابلوں والی ریاستوں میں گنتی میں دنوں یا ہفتوں بھی لگ سکتے ہیں۔ اس لیے آج رات کوئی حتمی دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
دنیا کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
مڈٹرم کا نتیجہ صرف امریکی اندرونی سیاست تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر ڈیموکریٹس ایوان یا سینیٹ میں سے کوئی ایک بھی جیت لیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قانون سازی، بجٹ اور خارجہ پالیسی کے فیصلے مشکل ہو جائیں گے۔ ایران کے ساتھ جنگ، تجارتی پالیسی اور یوکرین جیسے معاملات پر کانگریس کا موقف براہ راست اثر انداز ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قشم جزیرے پر امریکی حملے جیسے فیصلوں پر بھی انتخابی ماحول کا سایہ صاف نظر آتا ہے۔
دوسری طرف، اگر ریپبلکنز اپنی اکثریت بچا لیتے ہیں تو ٹرمپ کو اپنی مدت کے بقیہ دو برس میں کھل کر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ دونوں صورتوں میں، آج کا ووٹ اگلے دو برس کی عالمی سیاست کی سمت طے کرے گا — بالکل اسی طرح جیسے حال ہی میں اسرائیل کے انتخابات نے وہاں حکومت سازی کی سمت طے کی تھی۔

قارئین کے تبصرے (0)