Tuesday, 3 November 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

رامائن 5 نومبر کو سینما گھروں میں، کراچی میں ہندو برادری کا جوش — پاکستان میں ریلیز غیر یقینی

رامائن کی جنگ کا ایک قدیم مصوری کا منظر

ممبئی — ہندوستانی سنیما کی سب سے بڑی فلموں میں سے ایک، نتیش تیواری کی “رامائن” دو دن بعد، 5 نومبر کو سینما گھروں میں آ رہی ہے۔ فلم کے پہلے حصے کا پریمیئر 27 اکتوبر کو لاس اینجلس میں ہوا تھا اور ابتدائی ردعمل حوصلہ افزا بتایا جا رہا ہے۔ لیکن اس فلم کی گونج سرحد کے اس پار بھی سنائی دے رہی ہے — کراچی میں ہندو برادری کی جانب سے فلم کے پوسٹر کی پذیرائی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

29 اکتوبر کو سامنے آنے والی اس ویڈیو میں کراچی کے ایک مندر میں لوگوں کو فلم کا پوسٹر لگاتے اور خوشی کا اظہار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو شیئر کرنے والوں کے مطابق کمیونٹی فلم سازوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ فلم پاکستان میں بھی ریلیز کی جائے۔ یہ واضح رہے کہ اس ویڈیو کی اصل جگہ اور تاریخ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اس لیے اسے حتمی ثبوت کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔

فلم کی کاسٹ ہی اس کی سب سے بڑی کشش ہے: رنبیر کپور رام کا کردار ادا کر رہے ہیں، سائی پلوئی سیتا ہیں، یش راون کے روپ میں ہیں، روی دوبے لکشمن اور سنی دیول ہنومان کا کردار نبھا رہے ہیں۔ ہدایت کار نتیش تیواری اور پروڈیوسر نمت ملہوترا نے اسے دو حصوں پر مشتمل عالمی معیار کی فلم کے طور پر پیش کیا ہے، جس کا دوسرا حصہ 2028 میں متوقع ہے۔

پاکستان میں فلم کی ریلیز کا سوال ابھی کھلا ہوا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث بھارتی فلموں کی پاکستان میں تقسیم پر دیرینہ پابندیاں عائد ہیں، اور اس پس منظر میں رامائن کی باضابطہ ریلیز مشکل نظر آتی ہے۔ اسی دوران بمبئی ہائی کورٹ نے 3 نومبر کو فلم کو قزاقی سے تحفظ فراہم کر دیا ہے، تاکہ ریلیز سے پہلے اس کا غیر قانونی پھیلاؤ روکا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق اس سے پہلے رنویر سنگھ کی فلم “دھرندھر” کی قزاق شدہ کاپی پاکستان میں لاکھوں بار ڈاؤن لوڈ ہوئی تھی، جو اس بات کی علامت ہے کہ مانگ موجود ہے، چاہے باضابطہ راستہ بند ہو۔

سنیما سرحد سے بڑا ہوتا ہے، سیاست چھوٹی

رامائن کی کہانی صرف ایک فلم نہیں — یہ برصغیر کی مشترکہ ثقافتی وراثت کا حصہ ہے، جسے پاکستان میں بھی صدیوں سے سنا اور سنایا جاتا رہا ہے۔ کراچی کی ویڈیو، چاہے اس کی تصدیق ابھی باقی ہو، ایک سادہ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے: فن اور کہانیاں سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتیں، لیکن ان کی باضابطہ نمائش سیاست کی محتاج ضرور ہوتی ہے۔

یہی تضاد اس خبر کو دلچسپ بناتا ہے۔ ایک طرف فلم ساز عالمی سطح پر اپنی فلم کی نمائش کی تیاری کر رہے ہیں، دوسری طرف پڑوس میں اس کے ناظرین صرف پوسٹر لگا کر اپنی خواہش کا اظہار کر سکتے ہیں۔ جب تک دونوں ملکوں کے درمیان فلمی تبادلے کی پالیسی نہیں بدلتی، پاکستانی ناظرین کے لیے رامائن کا تجربہ سوشل میڈیا کی ویڈیوز اور قزاق شدہ کاپیوں تک ہی محدود رہے گا — جو نہ فلم سازوں کے حق میں ہے اور نہ ناظرین کے۔

اس سے پہلے آئیفا 2026 میں دھرندھر کی کامیابی نے بھی دکھایا تھا کہ بھارتی سنیما کی بڑی فلمیں پاکستانی ناظرین میں کس قدر دلچسپی پیدا کرتی ہیں۔ اور کراچی میں ورلڈ کلچر فیسٹیول اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر میں ثقافتی سرگرمیوں کے لیے جگہ اور سامعین دونوں موجود ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا کبھی یہ دروازے فلموں کے لیے بھی کھلیں گے؟

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *