Tuesday, 3 November 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

بلغاریہ کی پہلی منتخب خاتون صدر: ایلیانا ایوتووا نے رن آف میں 57.6 فیصد ووٹ لیے

بلغاریہ کی صدر ایلیانا ایوتووا ایک مباحثے میں

صوفیہ — بلغاریہ نے اپنی تاریخ کی پہلی منتخب خاتون صدر چن لی ہے۔ قائم مقام صدر ایلیانا ایوتووا نے اتوار یکم نومبر کو ہونے والے صدارتی رن آف میں 57.58 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف آندرے گیوروف 39.47 فیصد ووٹوں تک محدود رہے۔ مرکزی الیکشن کمیشن کے تقریباً مکمل نتائج کے مطابق ایوتووا کو تقریباً 11 لاکھ ووٹ ملے اور گیوروف کو سات لاکھ 49 ہزار 500 کے قریب۔

اس جیت تک کا سفر

جنوری 2026: اس وقت کے صدر رومن رادیف نے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے استعفیٰ دیا۔ ان کی نائب صدر ایلیانا ایوتووا نے قائم مقام صدر کی ذمہ داری سنبھالی۔

25 اکتوبر 2026: پہلے مرحلے میں کسی امیدوار کو واضح اکثریت نہ ملی۔ ایوتووا اور ان کے ساتھی کریل والچیو نے 34.76 فیصد ووٹ لیے، جبکہ گیوروف اور جارجی کانڈیو 31.95 فیصد پر رہے۔ ٹرن آؤٹ صرف 22.98 فیصد رہا، جو کمیونزم کے خاتمے کے بعد سب سے کم تھا۔

یکم نومبر 2026: دوسرے مرحلے میں ایوتووا کی برتری پہلے مرحلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گئی۔ تقریباً 2.95 فیصد ووٹرز نے “میں کسی کی حمایت نہیں کرتا” کا آپشن چنا۔ تاہم دوسرے مرحلے میں بھی ٹرن آؤٹ 30 فیصد سے نیچے، تقریباً 27 فیصد رہا۔

جنوری 2027: اگر مرکزی الیکشن کمیشن حتمی نتائج کی تصدیق کر دیتا ہے تو ایوتووا اپنی مکمل مدت کے لیے صدر کا عہدہ سنبھالیں گی۔

بڑی جیت، کمزور مینڈیٹ؟

یہ نتیجہ ایک دلچسپ تضاد پیش کرتا ہے۔ ایک طرف 18 فیصد پوائنٹس سے زیادہ کا فرق ایک واضح فتح ہے، دوسری طرف دس میں سے سات سے زیادہ اہل ووٹرز نے ووٹ ہی نہیں ڈالا۔ ایسے میں ایوتووا کی کامیابی کو عوامی اعتماد کی مکمل مہر کہنا مشکل ہے، اور بلغاریہ کی سیاست میں یہ سوال ابھی لمبے عرصے تک زندہ رہے گا کہ خاموش اکثریت کیوں گھروں میں بیٹھی رہی۔

سیاسی طور پر یہ نتیجہ اہم اس لیے بھی ہے کہ ایوتووا آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں تھیں، لیکن انہیں رادیف کی پروگریسو بلغاریہ اور بلغاریہ سوشلسٹ پارٹی سمیت کئی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ رادیف نے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، جسے کئی سیاسی تجزیہ کار روس نواز قرار دیتے ہیں۔ اب صدارت اور حکومت ایک ہی سیاسی دھارے کے ہاتھ میں آ گئی ہیں، جو یورپی یونین اور نیٹو کے رکن ملک کے لیے ایک نئی صورتحال ہے۔

بلغاریہ میں صدارت کا عہدہ زیادہ تر رسمی سمجھا جاتا ہے، لیکن صدر کے پاس حکومت سازی اور خارجہ پالیسی میں اہم آواز ہوتی ہے۔ یوکرین جنگ کے سائے میں، اور جب جرمنی سمیت یورپ بھر میں سیاسی بے چینی بڑھ رہی ہے، صوفیہ سے آنے والا ہر اشارہ برسلز میں غور سے سنا جائے گا۔ ایوتووا کے سامنے پہلا امتحان یہی ہوگا کہ وہ کم ٹرن آؤٹ کے باوجود ایک متحد قومی آواز کیسے بنتی ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *