Tuesday, 3 November 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

قشم جزیرے پر امریکی حملہ: ٹرمپ کے “کوئی جنگ نہیں” کے دعوے کے برعکس خفیہ کارروائی کا انکشاف

آبنائے ہرمز کا سیٹلائٹ منظر، جس میں ایران کے ساحل کے قریب قشم جزیرہ نظر آ رہا ہے

امریکا نے ایران کے قشم جزیرے پر پیر کو حملہ کیا ہے — یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوام کے سامنے یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ایران کے ساتھ جنگ عملاً ختم ہو چکی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ واشنگٹن کی ان محدود کارروائیوں کی تازہ ترین کڑی ہے جو کئی ہفتوں سے خفیہ طور پر جاری ہیں اور جن کا اعلان عوام میں نہیں کیا جا رہا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قشم جزیرے پر پانچ دھماکے سنے گئے، جبکہ قریبی بندرگاہی شہر بندر لنگہ میں بھی دھماکوں کی اطلاعات آئیں۔ جزیرے کے رہائشیوں نے دو طیارے بھی جزیرے کے اوپر پرواز کرتے دیکھے۔ اب تک یہ واضح نہیں کہ حملے میں کن اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور آیا کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس بارے میں پوچھے گئے سوال کا فوری جواب نہیں دیا۔

امریکی حکام نے ان کارروائیوں کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد ایران کو یہ موقع نہ دینا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر آزادانہ حملے کر سکے۔ قشم جزیرہ اسی آبنائے کے دہانے پر واقع ہے، اور یہاں ایران کا ایک بڑا زیرِ زمین میزائل مرکز، بحری اڈہ اور پانی صاف کرنے کا ایک بڑا پلانٹ موجود ہے۔ یہ جزیرہ اس سے پہلے بھی لڑائی کے دوران نشانہ بن چکا ہے، اور امریکی حکام اس پر قبضے کے امکان پر بھی بات کر چکے ہیں۔

اس انکشاف اور ٹرمپ کے عوامی بیان میں کھلا تضاد ہے۔ پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا: “ہماری ایران کے ساتھ جنگ ہوئی۔ ہم جیت گئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ اسے جنگ بھی کہیں گے یا نہیں، کیونکہ مہینوں سے کوئی لڑائی نہیں ہو رہی۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے پر غور کر رہے ہیں، تو ان کا ایک لفظی جواب تھا: “نہیں۔” مگر جرنل کی رپورٹ کے مطابق، اسی روز قشم پر حملہ ہو رہا تھا، اور امریکی حکام تاحال انتخابات کے بعد کی کارروائی کے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔

ایران کی طرف سے بھی ردعمل آیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب تین امریکی ڈرون مار گرائے ہیں، جن میں دو ایم کیو ایم-170 جاسوسی ڈرون اور ایک ایم کیو-9 ڈرون شامل ہے — جسے وہ اپنا گرایا ہوا 55 واں ایم کیو-9 قرار دے رہا ہے۔ امریکا نے ان دعووں کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو تہران میں کہا کہ معاہدے کی گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ کسی بھی خطرے کا جواب فوری اور بغیر کسی جغرافیائی حد کے دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دوحہ میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو چکے ہیں، اور قطری ثالث اس ہفتے مزید ملاقاتوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ جرنل کے مطابق امریکا نے خلیجی ممالک کو پہلے ہی بتا رکھا ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد ایک مختصر مگر شدید کارروائی کے لیے تیار رہیں، اور سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کو صورتحال پر بریفنگ دے چکے ہیں۔ خطے میں امریکا کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی پہنچ چکا ہے۔

اس خبر کا پہلا اثر تیل کی منڈی میں نظر آیا۔ پیر کو تیل کی قیمت میں 7.6 فیصد کی بڑی گراوٹ کے بعد، منگل کو ایشیائی تجارت کے آغاز میں برینٹ خام تیل 48 سینٹ اضافے سے 105.25 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، کیونکہ تاجروں کو خدشہ ہے کہ آٹھ ماہ سے جاری یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کی تیل کی فراہمی کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز سے جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے خام تیل کی ترسیل ہوتی تھی، اس لیے اس راستے پر کوئی بھی کشیدگی پاکستان سمیت درآمدی ممالک میں پٹرول کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے — اور پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جو اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں شریک ہیں۔

یہ کہانی اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ امریکا کی ایران پالیسی کے دو چہرے ایک ساتھ دکھاتی ہے: ایک طرف مذاکرات کی بات اور جنگ ختم ہونے کا دعویٰ، دوسری طرف خفیہ حملے اور انتخابات کے بعد بڑی کارروائی کی تیاری۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سوال یہ نہیں رہے گا کہ جنگ دوبارہ شروع ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ وہ کس پیمانے پر اور کس کی قیمت پر شروع ہوگی — اور اس کی پہلی قیمت تیل کی منڈی میں پہلے ہی نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں ٹینکر جنگ کی تازہ صورتحال کے لیے یہ رپورٹ دیکھیں، اور ایران پر حملے کے بارے میں ٹرمپ کے اس سے پہلے کے اعلان کے لیے یہ خبر پڑھیں۔

اب سب کی نظریں دو چیزوں پر ہیں: کیا واشنگٹن قشم حملے کی باضابطہ تصدیق کرے گا، اور کیا تہران اپنے ڈرون گرانے کے دعوے سے آگے بڑھ کر کوئی جوابی کارروائی کرے گا؟ وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد امریکا کا اگلا قدم ہی بتائے گا کہ یہ خفیہ مہم محض دباؤ کی حکمتِ عملی تھی یا کسی بڑی کارروائی کا پیش خیمہ۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *