Sunday, 1 November 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

جرمنی میں جنریشن زی احتجاج پرتشدد ہو گیا: فرینکفرٹ میں لوٹ مار، بندوقوں کی دکان پر حملہ

فرینکفرٹ کا اسکائی لائن — جرمنی کا مالیاتی مرکز، جہاں ہفتے کی رات احتجاج کے دوران دکانیں لوٹی گئیں

جرمنی میں نوجوانوں کی مہنگائی مخالف تحریک ہفتے کی رات پرتشدد رخ اختیار کر گئی۔ دن بھر 34 شہروں میں بڑی حد تک پُرامن رہنے والے مظاہرے اندھیرا چھاتے ہی کئی شہروں میں جھڑپوں میں بدل گئے — فرینکفرٹ میں دکانیں لوٹی گئیں، پولیس پر پٹرول بم پھینکے گئے، اور برلن، کولون اور ہیمبرگ میں بھی پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت استعمال کرنا پڑی۔

سب سے زیادہ ہنگامہ فرینکفرٹ میں ہوا۔ پولیس کے مطابق شہر کی مرکزی شاپنگ اسٹریٹ پر کئی دکانوں کے شیشے توڑ کر سامان لوٹ لیا گیا، اور ایک بندوقوں کی دکان کی کھڑکیاں بھی توڑ دی گئیں۔ ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد اس دکان سے لی گئی دو بندوقیں برآمد کر لی گئیں۔ پولیس نے شاپنگ اسٹریٹ کا بڑا حصہ گھیرے میں لے لیا اور رات گئے تک صورتحال پر قابو پانے کی کوشش جاری رہی۔ عینی شاہدین کے مطابق کم از کم دو دکانیں لوٹی گئیں اور کئی مزید کو نقصان پہنچا۔

کولون میں پولیس نے واٹر کینن استعمال کی، جب مظاہرین نے افسران پر آتش بازی کا سامان پھینکا۔ برلن میں مظاہرین نے بوتلیں اور انڈے پھینکے تو پولیس نے بعض مقامات پر مرچوں والا اسپرے استعمال کیا۔ برلن پولیس کے مطابق 27 اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں اور 56 تک مظاہرین کو کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا گیا۔ ہیمبرگ میں مظاہرین نے رکاوٹوں کو آگ لگا دی۔ کئی شہروں میں ایمرجنسی عملے پر پتھر، بوتلیں اور آتش بازی کا سامان پھینکا گیا۔

یہ مظاہرے نوجوانوں کی مہم “جنریشن زی ریگلٹ” — یعنی “جنریشن زی سنبھالتی ہے” — کے تحت ہوئے۔ مظاہرین کے مطالبات میں اسکولوں کے لیے زیادہ فنڈنگ، مہنگائی میں کمی، سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں کا خاتمہ اور لازمی فوجی سروس کی مخالفت شامل ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ دفاعی اخراجات بڑھانے کے بجائے رقم اسکولوں، سماجی خدمات اور ماحولیات پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔

شرکت کی تعداد پر پولیس اور منتظمین کے اعداد میں خاصا فرق ہے۔ فرینکفرٹ، میونخ اور برلن میں پولیس نے مجموعی طور پر 18 ہزار تک شرکا کا اندازہ لگایا، جبکہ منتظمین کی ویب سائٹ پر یہ تعداد تقریباً 36 ہزار بتائی گئی تھی۔ منتظمین نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ ملک بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ دن کے مظاہرے بڑی حد تک پُرامن رہے — رات کا تشدد اس کے مقابلے میں محدود گروہوں تک رہا۔

ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوزیک نے فرینکفرٹ میں پیش آنے والے واقعات کا ذمہ دار تقریباً 100 شناخت شدہ بائیں بازو کے انتہا پسندوں کو ٹھہرایا، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرے میں شامل ہو گئے تھے۔ انہوں نے مظاہرے کے اختتام کو “شرمناک” قرار دیا۔ پولیس نے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور گرفتاریوں کی حتمی تعداد ابھی سامنے نہیں آئی۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یورپ میں مہنگائی کے خلاف غصہ بڑھ رہا ہے۔ اسی روز فرانس میں بھی مسلسل تیسرے ہفتے مہنگائی کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے، اور پیرس میں مارچ کے اختتام پر جھڑپیں ہوئیں۔ جرمنی میں گزشتہ روز کے مظاہروں کی پیش گوئی میں ہی ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع بتائی گئی تھی — اب سوال یہ ہے کہ رات کا تشدد اس نوجوان تحریک کی ساکھ کو کتنا نقصان پہنچاتا ہے، اور کیا اگلے ہفتے کے مظاہرے بھی اسی رخ پر جائیں گے۔

اس تحریک کی اہمیت صرف ایک رات کے ہنگامے میں نہیں۔ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے، اور وہاں نوجوانوں کا اس پیمانے پر سڑکوں پر آنا اس بات کی علامت ہے کہ تعلیم، رہائش اور مہنگائی کے سوال اب محض معاشی اعداد نہیں رہے — وہ ایک نسل کے سیاسی شعور کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر یہ تحریک پُرامن دائرے میں رہتی ہے تو اس کا دباؤ حکومت کی ترجیحات بدل سکتا ہے؛ اگر تشدد اس کی پہچان بن گیا تو عوامی ہمدردی تیزی سے گھٹ سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر آنے والے ہفتوں میں اس تحریک کا مستقبل طے ہوگا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *