اہم نکات: پنجاب کا پیوٹ منصوبہ 2026 تا 2029 تین سال پر محیط ہے؛ کل حجم 1,995 ارب روپے؛ سرکاری حصہ 1,089 ارب اور نجی سرمایہ کاری کا ہدف 906 ارب؛ برآمدات میں 6.8 ارب ڈالر اضافے اور 1,62,000 براہ راست نوکریوں کا ہدف؛ صنعت کے لیے 753.7 ارب روپے مختص؛ چار زرعی پروسیسنگ پارکس سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 30 اکتوبر کو لاہور میں صوبے کے پہلے “پنجاب انوویشن فار ویلیو، اپورچونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن” (پیوٹ) پروگرام کا آغاز کیا، جس کے ساتھ اسٹریٹجک ٹریڈ انہانسمنٹ پروگرام (اسٹیپ) پورٹل بھی لانچ ہوا۔ یہ منصوبہ پنجاب کو برآمدات پر مبنی صنعتی مرکز بنانے کا دعویٰ کرتا ہے — ٹیکسٹائل اور گارمنٹس، کھیلوں کا سامان، چمڑا اور جوتے، سرجیکل آلات، ادویات، کٹلری، پنکھے، اسٹیل اور سرامکس جیسی روایتی صنعتوں کو نئی قدر دینے کے ساتھ ساتھ سیاحت، ڈیجیٹل خدمات اور زرعی پروسیسنگ کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔
منصوبے کی مالی تفصیل بتاتی ہے کہ حکومت نے صنعت کی مضبوطی کے لیے 753.7 ارب روپے رکھے ہیں، جبکہ اسٹیپ کے تحت 300 ارب روپے کے رعایتی قرضے صفر سے پانچ فیصد شرح سود پر دیے جائیں گے۔ چار لاکھ دو ہزار ساٹھ افراد کو تین سال میں صنعت کی ضرورت کے مطابق تربیت دینے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ سولر اور بیٹری اسٹوریج کے لیے 50 ارب اور مشینری پر ڈیوٹی کی واپسی کے لیے بھی 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
نگرانی کے لیے سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی سربراہی میں پیوٹ بورڈ، محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں سیکریٹریٹ اور ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز کو فوکل پرسن بنایا گیا ہے۔ چھ ماہ میں منصوبے کو مکمل فعال کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
لیکن اس منصوبے کا اصل امتحان اعداد کے پیچھے چھپا ہے۔ صوبائی حکومت کا اپنا حصہ، 1,089 ارب روپے، پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (752 ارب روپے) سے بھی بڑا ہے — یعنی فنڈنگ کا شیڈول ہی طے کرے گا کہ پارک اور لیبارٹریاں کب زمین پر نظر آئیں گی۔ نجی سرمایہ کاری کا 906 ارب روپے کا ہدف بھی وعدہ ہے، یقین دہانی نہیں۔ اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملکی تجارتی خسارہ پہلی سہ ماہی میں 10.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، حالانکہ برآمدات 18 فیصد بڑھ کر 2.96 ارب ڈالر ہوئیں۔ پیوٹ اگر وعدے پورے کرے تو یہ خسارے کی کہانی بدل سکتا ہے؛ اگر کاغذ پر رہا تو یہ صوبائی حکومتوں کے بڑے اعلانات کی ایک اور فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ پہلا ثبوت چھ ماہ میں آنا چاہیے — اس وقت تک اس منصوبے کو وعدے کے طور پر ہی پڑھنا درست ہوگا۔
مزید: یہاں پڑھیں اور یہاں پڑھیں

قارئین کے تبصرے (0)