خلیج میں جنگ کے سائے تلے سفارت کاری کا ایک اور دور دوحہ میں جاری ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی مذاکرات کاروں نے ہفتے کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی، جس کا مقصد خلیج میں جنگ کے نئے دور سے بچنے کا راستہ نکالنا ہے۔ اس سے ایک روز پہلے تہران میں ایرانی اور قطری نمائندوں کے درمیان بارہ گھنٹے سے زیادہ بات چیت ہوئی تھی۔
بات چیت کا مرکز آبنائے ہرمز ہے — وہ تنگ آبی گزرگاہ جس سے دنیا کی تیل اور گیس تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ تہران امریکی نائب صدر کے خط کا جائزہ لے رہا ہے، اور ایران کا اپنا منصوبہ ہی وہ واحد تجویز ہے جو آبنائے کو دوبارہ کھول سکتی ہے۔ ایران کا یہ سات روزہ منصوبہ ستمبر سے میز پر ہے: واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے، منجمد اثاثے بحال کرے اور آبنائے سے گزرنے کا ایرانی حمایت یافتہ راستہ منظور کرے، جس کے بعد گزرگاہ کھولی جائے۔
دوسری طرف قطری ثالثوں نے ایک ہفتہ پہلے تہران کو ایک اور سات روزہ تجویز پہنچائی تھی، جس میں امریکا اور ایران روزانہ اعتماد سازی کے اقدامات کرتے اور پھر وسیع امن مذاکرات کی طرف بڑھتے۔ رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے جمعے کو کہا کہ یہ تجویز تہران کو تسلی بخش نہیں لگی۔ یعنی دونوں فریق سات دن کی مدت پر متفق ہیں، لیکن اس کے مندرجات پر نہیں — اور یہی فرق مذاکرات کی اصل رکاوٹ ہے۔
پس منظر میں فوجی تیاری بھی جاری ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سینئر کمانڈروں نے خلیجی ساحل، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اطراف اور ایران کی شمال مغربی و جنوب مشرقی سرحدوں پر اعلیٰ تیاری کی اطلاع دی ہے۔ امریکا میں وسط مدتی انتخابات اسی ہفتے ہو رہے ہیں، اور سفارت کاروں کو خدشہ ہے کہ انتخابات کے بعد کشیدگی پھر بھڑک سکتی ہے۔ اس لیے دوحہ کی بات چیت کو وقت کے خلاف دوڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ مذاکرات براہ راست اہمیت رکھتے ہیں۔ آبنائے کی بندش یا اس پر حملوں کا سلسلہ پہلے ہی تیل کی قیمتوں اور ایل این جی کی فراہمی پر اثر ڈال چکا ہے — حالیہ دنوں میں یہاں پڑھیں اسی دباؤ کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اگر سات روزہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو یہ خلیج میں کشیدگی کم کرنے کا پہلا ٹھوس قدم ہوگا؛ اگر ناکام ہوتا ہے تو خطہ ایک اور فوجی تصادم کے دہانے پر کھڑا رہے گا۔ اگلے چند دنوں میں دوحہ سے آنے والی خبریں ہی بتائیں گی کہ یہ بات چیت محض وقت گزاری ہے یا واقعی کسی معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)