Sunday, 1 November 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

ملک بھر میں ڈاکٹروں کی دو روزہ ہڑتال آج سے: او پی ڈیز بند، ایمرجنسی کھلی رہے گی

لاہور کے جناح اسپتال کی عمارت کا سامنے کا منظر

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کی کال پر ملک بھر میں ڈاکٹروں کی دو روزہ ہڑتال آج، یکم نومبر سے شروع ہو رہی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکریٹریٹ کے اعلان کے مطابق ہڑتال کے دوران سرکاری اور نجی اسپتالوں کی آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس (او پی ڈیز)، معمول کے آپریشن اور معمول کی تشخیصی سہولتیں بند رہیں گی۔ ہڑتال دو نومبر تک جاری رہے گی۔

یہ اعلان اچانک نہیں ہوا۔ پی ایم اے نے 30 ستمبر کو بھی نجی او پی ڈیز اور معمول کی سہولتوں کی ملک گیر بندش کی تھی، اور 11 اکتوبر کو گجرات میں آل پاکستان ڈاکٹرز کنونشن میں تقریباً 500 سینئر ڈاکٹروں نے یکم نومبر کو حتمی تاریخ قرار دیا تھا۔ اس کنونشن میں پی ایم اے سینٹر اور اس کی صوبائی شاخوں کے ساتھ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اور دیگر تنظیمیں شریک تھیں۔

ڈاکٹروں کے مطالبات چار محاذوں پر ہیں: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس پالیسیاں، جن میں طبی خدمات پر پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم کی لازمی تنصیب بھی شامل ہے؛ اسپتالوں میں ڈاکٹروں سے مبینہ بدسلوکی اور پولیس ہراسانی؛ طبی پیچیدگیوں پر مقدمات کا اندراج؛ اور کام کی جگہ کی حفاظت۔ پی ایم اے پنجاب نے بھی مرکزی کال کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم اور دو نومبر کو کلینک اور اسپتال بند رہیں گے۔

مریضوں کے لیے کیا کھلا رہے گا؟ ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی سروسز بدستور چلیں گی۔ یعنی جان لیوا یا فوری نوعیت کے مریضوں کو ایمرجنسی میں دیکھا جائے گا۔ البتہ معمول کی اپائنٹمنٹ، پہلے سے طے شدہ غیر ضروری آپریشن اور معمول کے ٹیسٹ متاثر ہو سکتے ہیں۔ مریضوں کو مشورہ ہے کہ اسپتال روانہ ہونے سے پہلے اپنی اپائنٹمنٹ کی تصدیق کر لیں، کیونکہ ہر ادارے میں شرکت کی سطح مختلف ہو سکتی ہے۔

یہ ہڑتال ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک میں صحت کے کئی محاذ پہلے ہی دباؤ میں ہیں — حالیہ ہفتوں میں ڈینگی کے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر یہاں پڑھیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ٹیکس اور تحفظ کے تنازع کو سلجھائے گی، یا یہ احتجاج مرحلہ وار طویل ہوگا؟ 11 اکتوبر کے کنونشن میں ہی خبردار کیا گیا تھا کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو بندش مرحلہ وار بڑھائی جا سکتی ہے۔ اگلے دو دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ یہ احتجاج ایک علامتی دو روزہ بندش رہتا ہے یا ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان ایک طویل محاذ آرائی کی شروعات بنتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *