یوکرین کے جنوبی شہر اولیشکی سے نکلنے والے شہریوں کا قافلہ ہفتے کی سہ پہر بالآخر یوکرین کے زیرِ کنٹرول علاقے میں پہنچ گیا۔ صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ انخلا کیے گئے تمام یوکرینی شہری چرنیہیو کے علاقے میں یوکرین کی سرحد عبور کر چکے ہیں اور اب انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے گی۔ یہ اسی انسانی ہمدردی کے مشن کا اختتام ہے جو امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والی مقامی جنگ بندی کے تحت شروع ہوا تھا۔
سرحد پر سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والا منظر ایک جوڑے کی ملاقات تھی۔ 54 سالہ دیمترو اپنی اہلیہ لاریسا کا انتظار کر رہے تھے، جن سے وہ 1711 دن سے نہیں ملے تھے۔ جب لاریسا کو لے جانے والی بس یوکرین بیلاروس سرحد پر پہنچی تو دونوں نے یوکرینی پرچموں میں لپٹ کر ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔ دیمترو یوکرینی فوج کے سپاہی ہیں، اور اسی وجہ سے ان کی اہلیہ روسی قبضے والے شہر میں زیادہ خطرے میں تھیں۔ سیکڑوں شہریوں کے ساتھ ان کے پالتو جانور بھی تھے، جن کے لیے سرحد پر امدادی خیمے، کافی کے اسٹال اور جانوروں کا چارہ تک رکھا گیا تھا۔
یہ سفر آسان نہیں تھا۔ شہر سے نکلنے والے شہریوں نے جمعے کو بسوں کے قافلوں میں اولیشکی چھوڑا، پھر مقبوضہ جزیرہ نما کریمیا سے گزر کر روس کے شہر اناپا پہنچے، جہاں سے انہیں چار طیاروں میں بیلاروس کے شہر گومل لے جایا گیا۔ ہفتے کی صبح چوتھا اور آخری طیارہ بھی گومل اتر گیا، جس کے بعد بسوں کے ذریعے انہیں یوکرین کی سرحد تک پہنچایا گیا۔ یوکرین کے انسانی حقوق کے کمشنر دیمترو لوبینیتس خود اس قافلے کے ساتھ سفر کرتے رہے۔ گومل ہوائی اڈے سے جاری ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا تھا: “ہم جلد گھر پہنچ جائیں گے۔”
میلانیا ٹرمپ نے جمعے کو بتایا تھا کہ یہ قافلہ 750 سے زیادہ افراد کو بحفاظت نکال سکتا ہے، جس میں 25 بسیں، 50 طبی ماہرین اور ایمبولینسیں شامل ہیں۔ شہر میں رہ جانے والے تقریباً دو ہزار باشندوں کو تین انتخاب دیے گئے تھے: یوکرین جانا، روس جانا، یا تازہ خوراک اور ادویات کے ساتھ شہر میں ہی رہنا۔ کیف اور ماسکو نے نکالے گئے افراد کی حتمی تعداد ابھی ظاہر نہیں کی، اور روسی میڈیا کے مطابق کچھ شہری کریمیا کے شہر سمفروپول میں قائم عارضی رہائش گاہوں میں بھی پہنچے ہیں۔
یہ پورا آپریشن منگل 27 اکتوبر کی صبح تین بجے شروع ہونے والی جنگ بندی کے سائے میں ہوا، جو اتوار کی شام تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ یہ جنگ بندی پوپ لیو چہاردہم کی اپیل اور میلانیا ٹرمپ کی ثالثی سے طے پائی تھی۔ اس سے پہلے سڑکوں سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے دو دن کا ڈی مائننگ آپریشن کرنا پڑا، کیونکہ دریائے دنیپرو کے راستے براہ راست انخلا ممکن نہیں تھا — راستے بارودی سرنگوں اور ڈرونز کے ملبے سے اٹے ہوئے ہیں۔ جمعے کو یوکرینی اور روسی حکام نے مل کر شہر کا دورہ کیا اور امداد تقسیم کی، جو ساڑھے چار سالہ جنگ میں تعاون کی ایک نادر مثال ہے۔
سرحد پر چرنیہیو علاقائی اسپتال کے ڈائریکٹر آندرے ژیدنکو اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طویل غذائی قلت کے بعد انخلا کیے گئے افراد کو احتیاط سے کھانا دینا ہوگا، کیونکہ بھوکے پیٹ اچانک زیادہ کھانا ان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایک اور خاتون تمارا نے بتایا کہ وہ پہلے اپنے جانوروں کی وجہ سے نکلنے میں ہچکچا رہی تھیں۔
صدر زیلنسکی نے اپنے پیغام میں کہا: “اب تک، اولیشکی سے تعلق رکھنے والے یوکرینی شہری چرنیہیو کے علاقے میں یوکرین کی سرحد عبور کر چکے ہیں۔ ان سب کو وہ مدد ملے گی جس کی انہیں ضرورت ہے۔” انہوں نے امریکی فریق اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا ثالثی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ “جب دنیا توجہ دیتی ہے، تو لوگ بچ جاتے ہیں۔” یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس تجربے کو دوسرے مقبوضہ علاقوں تک بھی پھیلانے کی کوشش کی جائے گی، اور اس دوران جنگی قیدیوں کے تبادلے اور خاندانوں کی دوبارہ ملاقات پر بھی بات ہوئی ہے۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ ساڑھے چار سال سے جاری جنگ میں روس اور یوکرین کا کسی ایک شہر کے لیے اس طرح مل کر کام کرنا تقریباً بے مثال ہے۔ اولیشکی جنگ سے پہلے 24 ہزار آبادی کا شہر تھا، جو اب محض دو ہزار کے لگ بھگ نفوس تک سمٹ چکا ہے، اور 2023 میں کاخوفکا ڈیم کی تباہی کے بعد اس کا 90 فیصد حصہ سیلاب میں ڈوب گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ انسانی ہمدردی کی کھڑکی اتوار کی شام جنگ بندی ختم ہونے کے بعد بھی کھلی رہے گی، یا یہ صرف ایک شہر کی ایک بار کی کہانی بن کر رہ جائے گی۔ اس کا جواب اگلے چند دنوں میں ملے گا، مگر آج کی شام کم از کم ان خاندانوں کے لیے ہے جو 1711 دن بعد دوبارہ ایک دوسرے سے ملے ہیں۔
مزید پڑھیں: میلانیا ٹرمپ کا بڑا سفارتی کارنامہ: روس اور یوکرین اولیشکی میں جنگ بندی پر رضامند | پوپ لیو کی پوٹن سے فون پر بات — یوکرین کے محصور شہر اولیشکی میں امداد کی اپیل
جنگ بندی کے اعلان سے متعلق وائٹ ہاؤس کا سرکاری بیان یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)