یوکرین کے وسطی شہر ڈنیپرو میں جمعرات کو ایک روسی ڈرون نے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑی مسافر ٹرین کو نشانہ بنایا، جس سے کم از کم 14 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے۔ علاقائی حکام کے مطابق زخمیوں میں سے چھ کی حالت تشویشناک ہے، جن میں ایک 11 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔
ڈنیپروپیٹرووسک کے علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیکسندر ہانژا نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد پہلے 13 تھی، جو بعد میں بڑھ کر 14 ہو گئی۔ ان کے مطابق زخمیوں میں سے 13 اسپتال میں داخل ہیں اور طبی عملہ ان کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
یوکرین کی سرکاری ریلوے کمپنی اکرزالیزنیتسیا کے مطابق حملے میں جیٹ انجن والا ایک روسی ڈرون استعمال ہوا۔ ڈرون اس پلیٹ فارم سے ٹکرایا جہاں اس وقت ٹرین نمبر 866 کھڑی تھی، جو ڈنیپرو سے زاپوریژیا جا رہی تھی۔ کمپنی کے مطابق اسی پلیٹ فارم پر ایک عام مسافر ٹرین اور ایک مضافاتی الیکٹرک ٹرین بھی موجود تھیں۔
ریلوے کمپنی کے سربراہ نے بتایا کہ حملے سے پہلے خطرے کی سطح بلند ہونے کا اعلان کیا جا چکا تھا، لیکن اس کے باوجود پلیٹ فارم پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ حملے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، طبی عملہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
ڈنیپرو کے میئر بوریس فیلاتوف نے فیس بک پر لکھا کہ ڈرون نے ایک عام شہری الیکٹرک ٹرین کو نشانہ بنایا۔ ان کے الفاظ میں، “بہت سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں، بہت سے زخمی ہیں۔ یہ نسل کشی کی جنگ ہے۔”
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو “خوفناک” قرار دیتے ہوئے امریکہ اور یورپ سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ روسیوں نے اس پلیٹ فارم پر حملہ کیا جہاں ایک عام مضافاتی ٹرین اور ایک باقاعدہ مسافر ٹرین کھڑی تھیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ روس کے خلاف پابندیاں اس وقت تک نرم نہیں ہونی چاہئیں جب تک یہ جنگ جاری ہے، اور یورپی یونین، امریکہ اور جی سیون ممالک کو نئے اور سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔
زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ علاقائی انتظامیہ کے مطابق ایک 40 سالہ شخص کی دونوں ٹانگیں کاٹنی پڑیں، جب کہ 11 سالہ بچے سمیت چھ افراد کو شیل کے متعدد زخم آئے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ باقی زخمیوں کی حالت نسبتاً مستحکم ہے، لیکن سبھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
یہ حملہ اسی دن ہوا جب یوکرین کے دیگر شہروں پر بھی حملے رپورٹ ہوئے، جن میں خارکیف، کریمنچک اور چرنیہیف شامل ہیں۔ یوکرین کی ریلوے کو جنگ کے آغاز سے ہی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے — روسی حملوں میں اب تک سینکڑوں انجن تباہ اور کئی ریلوے ملازمین ہلاک ہو چکے ہیں۔ یوکرین جیسے وسیع ملک میں ٹرینیں شہریوں کی نقل و حرکت کا سب سے اہم ذریعہ ہیں، جہاں مشرق سے مغرب کا سفر 24 گھنٹے تک بھی لے سکتا ہے۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ شہری انفراسٹرکچر پر براہ راست حملہ ہے — نہ کوئی فوجی اڈہ، نہ کوئی اسلحہ ڈپو، بلکہ ایک ریلوے پلیٹ فارم جہاں عام مسافر اپنی ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ ایسے حملے یوکرین کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کرنے اور خوف پھیلانے کی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ زیلنسکی نے فوری طور پر عالمی برادری سے پابندیوں میں سختی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف، روس نے اس حملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اکتوبر کے شروع میں کراماتورسک میں بھی اسی طرح کا حملہ ہوا تھا، جب دو بسوں پر بمباری میں 30 شہری ہلاک ہو گئے تھے — اور ڈنیپرو کا واقعہ اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جس میں شہری ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

قارئین کے تبصرے (0)