Thursday, 29 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

بشریٰ بی بی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد — اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ

اسلام آباد میں عدالت کی عمارت کی فائل تصویر

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ عدالت نے احتجاج سے متعلق مقدمات میں دائر ان درخواستوں پر فیصلہ جمعرات کو سنایا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی مجموعی طور پر 250 درخواستوں پر غور کیا۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کے ساتھ جنید اکبر، لطیف کھوسہ، نعیم پنجوتھہ، اسد قیصر، علی زمان، ایمان وسیم، عاطف خان اور فضل محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج کر دیں۔

عدالتی کارروائی کے مطابق جن رہنماؤں کی درخواستیں مسترد کی گئیں وہ سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ جج نے واضح کیا کہ غیر حاضر رہنماؤں کی درخواستوں پر ریلیف نہیں دیا جا سکتا، جس کے بعد ان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی گئیں۔

دوسری جانب عدالت میں پیش ہونے والوں کے لیے صورتحال مختلف رہی۔ پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن اور شہریار آفریدی عدالت میں حاضر ہوئے اور اپنی حاضری درج کرائی۔ عدالت نے حاضر ہونے والے کارکنوں کی عبوری ضمانت میں 11 فروری تک توسیع کر دی، یعنی جو لوگ عدالت کے سامنے پیش ہوئے انہیں وقتی ریلیف برقرار رکھا گیا۔

بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف یہ مقدمات اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج سے جڑے ہیں۔ ان مقدمات میں کئی تھانوں میں درج کیسز شامل ہیں اور پارٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد گزشتہ کچھ عرصے سے ان قانونی کارروائیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ بشریٰ بی بی اس سے قبل بھی مختلف مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہوتی رہی ہیں، اور ان کی قانونی ٹیم ان کیسز میں ضمانت اور استثنیٰ کی درخواستیں دائر کرتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ اسی روز سامنے آیا ہے جب اسلام آباد کی ہی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سنائی گئی سزا کا فیصلہ سنایا تھا۔ ایک ہی دن میں دو اہم عدالتی فیصلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام آباد کی عدالتوں میں سیاسی نوعیت کے مقدمات کی سماعت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

فیصلے کی عملی اہمیت یہ ہے کہ جن رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہوئی ہے وہ اب اس تحفظ سے محروم ہو گئے ہیں۔ ضمانت قبل از گرفتاری کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ملزم کو گرفتاری سے پہلے عدالت سے تحفظ مل جائے، اور اس کے مسترد ہونے کے بعد متعلقہ رہنماؤں پر گرفتاری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری طرف حاضر ہونے والے کارکنوں کو ملنے والی توسیع یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ عدالت میں پیشی اور کارروائی میں شرکت ہی ریلیف برقرار رکھنے کا راستہ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مسترد شدہ درخواستوں والے رہنما اگلا قانونی قدم کیا اٹھاتے ہیں — آیا وہ دوبارہ عدالت سے رجوع کرتے ہیں یا ان کے خلاف گرفتاری کی کارروائی آگے بڑھتی ہے۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کی جانب سے اس فیصلے پر ردعمل کا انتظار ہے، اور آنے والے دنوں میں ان مقدمات کی اگلی سماعتوں پر سب کی نظریں ہوں گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *