Wednesday, 28 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

ہمایوں سعید کا مطالبہ: پہلے اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم بنائیں، پھر دنیا خود آئے گی

ٹیلی ویژن اسٹوڈیو کے کنٹرول روم میں مانیٹر اور مکسنگ کنسول کا منظر

ہمایوں سعید نے وہ بات کہہ دی ہے جو پاکستانی شوبز انڈسٹری برسوں سے ٹالتی آ رہی ہے: دنیا کے دروازے پر دستک دینے سے پہلے اپنا گھر تو سنواریں۔ علی سلمان کو دیے گئے انٹرویو میں اداکار اور پروڈیوسر نے کہا کہ پاکستانی ڈراموں کو عالمی ناظرین تک پہنچانے کے لیے ملک کو اپنا اوور دی ٹاپ (او ٹی ٹی) اسٹریمنگ پلیٹ فارم بنانا ہو گا، صرف نیٹ فلکس کا انتظار کرنا کافی نہیں۔

یہ موقف اس لیے اہم ہے کہ یہ محض شکوہ نہیں، ایک ترتیب تجویز کرتا ہے۔ ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈراموں کا اپنا مخصوص انداز ہے — تحریر کا اپنا رنگ، مکالموں کی ادائیگی کا اپنا طریقہ اور اردو کا اپنا لہجہ۔ ان کے الفاظ میں، “اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بنے ہوئے ڈرامے نیٹ فلکس پر جانے چاہئیں، تو ہاں۔ ہمارا اپنا انداز ضرور ہے۔” مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ او ٹی ٹی مواد عموماً زیادہ بے باک اور مختلف ہوتا ہے، اور اس میدان میں پاکستانی انڈسٹری ابھی ماہر نہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں ان کی تجویز وزنی ہو جاتی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ بھارت میں مقامی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پہلے آئے، جو گزشتہ 12 سے 13 برس سے پروان چڑھ رہے ہیں، اور پھر عالمی پلیٹ فارمز نے وہاں قدم جمائے۔ پاکستان میں یہ بنیاد ہی موجود نہیں، اس لیے مقامی فلم سازوں اور اداکاروں کے پاس اپنا کام دکھانے کا کوئی مضبوط پلیٹ فارم نہیں۔ ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم بنے گا تو نیٹ فلکس جیسے اداروں کی توجہ بھی خود بخود آئے گی۔

ہمایوں سعید نے یہ بھی کہا کہ نیٹ فلکس کے پاکستان سے متعلق رویے میں سیاسی عوامل کا بھی کردار ہو سکتا ہے، مگر انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ مقامی پروڈکشنز کب اس پلیٹ فارم پر آئیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تفریحی صنعت پر زیادہ توجہ دے اور اس کی مدد کرے، بشمول نیٹ فلکس سے بات چیت۔

انٹرویو کا دوسرا اہم حصہ انڈسٹری کے اندرونی نظم و ضبط سے متعلق ہے۔ نیٹ فلکس کی سیریز “دی کراؤن” میں ڈاکٹر حسنات خان کا کردار نبھانے والے ہمایوں سعید نے بتایا کہ عالمی پروڈکشنز میں ٹرانسپورٹ، میک اپ، کھانے اور رپورٹنگ کے اوقات پہلے سے طے اور واضح طور پر بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی شریک اداکارہ الزبتھ ڈیبکی کی پابندی اور شیڈول کی پاسداری کی تعریف کی، اور کہا کہ پاکستان کی انڈسٹری کو اپنی تنظیم بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بات محض انتظامی تفصیل نہیں۔ ایک انڈسٹری جو وقت کی پابندی اور پیشہ ورانہ نظم میں کمزور ہو، وہ عالمی معیار کی پروڈکشن کے ساتھ مقابلہ کیسے کرے گی؟ ہمایوں سعید کا اشارہ واضح ہے: پلیٹ فارم بنانا صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں، کام کرنے کے طریقے بدلنے کا معاملہ بھی ہے۔

انٹرویو میں سوشل میڈیا کا کردار بھی زیر بحث آیا۔ ہمایوں سعید نے کہا کہ ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز نے نئے اداکاروں کے لیے راستے کھول دیے ہیں، مگر آن لائن مقبولیت ہمیشہ اداکاری کی صلاحیت کی ضمانت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہانیہ عامر کو انہوں نے پہلی بار ڈب سمیش پر دیکھا تھا، پھر انہیں ڈرامے میں کاسٹ کیا۔ خود ان کے اپنے سفر کی کہانی بھی دلچسپ ہے: فیکٹری میں کام کے دوران ندیم احمد نے انہیں آڈیشن کے لیے آمادہ کیا، جہاں سے ان کا شوبز کا سفر شروع ہوا۔

اپنی شہرت کے بارے میں ان کا رویہ حیران کن حد تک سادہ ہے۔ “میں خود کو اسٹار نہیں سمجھتا۔ یہ صرف میرا کام ہے۔ کام کرنے سے کوئی اسٹار نہیں بن جاتا،” انہوں نے کہا، اور فہد مصطفیٰ اور فواد خان کو اسٹار کی مثال کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے انداز سے کام کرنا پسند کرتے ہیں، پروڈکشن سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کا سماجی حلقہ محدود ہے۔

ان کے حالیہ کام اس دعوے کی تائید کرتے ہیں۔ 2025 میں ندیم بیگ کی ہدایت میں بننے والی رومانوی کامیڈی “لو گرو” میں وہ ماہرہ خان کے ساتھ نظر آئے، اسی سال ٹیلی ویژن ڈراما “میں مانتو نہیں ہوں” بھی نشر ہوا، اور “جوانی پھر نہیں آنی” فرنچائز کی تیسری فلم بھی زیر تیاری بتائی جاتی ہے۔

اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا انڈسٹری اور حکومت اس تجویز کو سنجیدگی سے لیں گے۔ ہمایوں سعید نے راستہ دکھا دیا ہے: پہلے اپنا پلیٹ فارم، اپنی تنظیم اور اپنی کہانیاں مضبوط کریں، پھر دنیا خود دروازے پر آئے گی۔ دوسری صورت میں پاکستانی ڈرامے یوٹیوب کلپس اور مداحوں کے ذریعے ہی دنیا تک پہنچتے رہیں گے، اور یہ ان کی اصل پہنچ سے بہت کم ہو گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *