لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منگل 27 اکتوبر کو کھیلے گئے ون ڈے سہ ملکی سیریز کے پانچویں میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی۔ سری لنکن کپتان کوشل مینڈس نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، اور یہ فیصلہ پہلے ہی اوورز سے درست ثابت ہوا۔ پاکستان کی پوری ٹیم صرف 25.3 اوورز میں 110 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر دلشان مدوشنکا نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 34 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کیریئر کی بہترین کارکردگی ہے۔ انہوں نے چوتھے اوور میں فخر زمان کو شارٹ گیند پر آؤٹ کیا، پھر سعد بیگ، عرفات منہاس، حارث رؤف اور کپتان شاہین شاہ آفریدی کو بھی پویلین کی راہ دکھائی۔ سہان اراچیگے نے 24 رنز دے کر دو وکٹیں لیں۔
پاکستان کی بیٹنگ کا حال یہ تھا کہ اوپنرز فخر زمان 5 اور معاذ صداقت 8 رنز بنا کر جلد لوٹ گئے۔ بابر اعظم نے 33 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے 29 رنز بنائے اور ٹیم کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔ حسن نواز نے 17 اور شاہین آفریدی نے دو چھکوں کے ساتھ 15 رنز بنائے، مگر ان کے سوا کوئی بلے باز ڈبل فیگر میں بھی نہ جا سکا۔ سلمان علی آغا 9 اور شاداب خان محض 2 رنز بنا سکے۔
یہ پاکستان کا ہوم گراؤنڈ پر ون ڈے میں دوسرا کم ترین اسکور ہے۔ اس سے کم صرف 75 رنز کا اسکور ہے، جو 2009 میں اسی سری لنکا کے خلاف لاہور میں بنا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اس سے دو دن پہلے انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں ایک وکٹ سے جیتا تھا، مگر سری لنکا کے سامنے وہی بیٹنگ لائن مکمل طور پر بے بس نظر آئی۔
ہدف کے تعاقب میں سری لنکا نے 18.1 اوورز میں صرف دو وکٹوں کے نقصان پر 114 رنز بنا لیے، یعنی 191 گیندیں ابھی باقی تھیں۔ کامندو مینڈس 60 گیندوں پر 62 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ انہیں شروع میں وکٹ کیپر سعد بیگ نے ڈراپ کیا، اور 44 رنز پر ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ ریویو کے ذریعے ان کے حق میں گیا۔ پاون رتھنائیکے نے 26 گیندوں پر 23 رنز بنائے۔
اس نتیجے نے سیریز کی صورتحال بدل دی ہے۔ پاکستان تین جیتوں کے ساتھ چھ پوائنٹس لے کر پہلے ہی فائنل میں پہنچ چکا تھا، جبکہ سری لنکا نے چار پوائنٹس کے ساتھ فائنل کی جگہ پکی کر لی۔ انگلینڈ بغیر کسی جیت کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گیا ہے، اور جمعرات کو سری لنکا کے خلاف اس کا میچ اب محض رسمی کارروائی رہ گیا ہے۔ فائنل ہفتہ 31 اکتوبر کو لاہور میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جائے گا۔
میچ کے بعد پاکستان کے بیٹنگ کوچ مائیک اسمتھ نے فخر زمان اور بابر اعظم کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا، “فخر ایک ورلڈ کلاس کھلاڑی ہے۔ ہمیں اس پر مکمل اعتماد ہے اور فائنل میں اس سے شاندار کارکردگی کی امید ہے۔” بابر کے بارے میں ان کا کہنا تھا، “بابر ہمارے بہترین بلے باز ہیں۔ کوئی فکر کی بات نہیں۔ وہ اچھی بیٹنگ کر رہے ہیں اور بڑی اننگز بس قریب ہے۔”
بابر کے اعداد اس اعتماد کو ایک کڑا امتحان بناتے ہیں۔ وہ اس سیریز کی چار اننگز میں 118 رنز بنا چکے ہیں، مگر ابھی تک کوئی نصف سنچری نہیں بنا سکے۔ ہر بار اچھا آغاز ملتا ہے، پھر وکٹ گنوا دیتے ہیں۔ کوچ کا یہ کہنا درست ہے کہ کریز پر سیٹ ہونا بیٹنگ کا سب سے مشکل حصہ ہے، اور بابر وہ مرحلہ آسانی سے طے کر رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ آغاز کو بڑی اننگز میں بدلنا کب ہو گا۔ فائنل میں یہی ایک سوال پوری ٹیم کی قسمت طے کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک میچ کی شکست سیریز نہیں ہارتی، مگر 110 رنز کا اسکور محض برا دن کہہ کر ٹالا نہیں جا سکتا۔ ٹاپ آرڈر کا بار بار جلد گرنا، مڈل آرڈر کا دباؤ نہ سہار پانا اور بابر کی نصف سنچریوں سے محرومی — یہ تینوں مسائل ایک ساتھ فائنل میں دہرائے گئے تو ٹرافی ہاتھ سے نکل جائے گی۔ دوسری طرف، سری لنکا اب اعتماد کی لہر پر سوار ہے اور اس نے پاکستان کو اسی گراؤنڈ پر بے بس کیا ہے جہاں فائنل ہونا ہے۔
ہفتے کا فائنل اس لیے بھی دلچسپ ہو گا کہ دونوں ٹیمیں اس سیریز میں ایک ایک بار ایک دوسرے کو ہرا چکی ہیں۔ پاکستان نے افتتاحی میچ میں سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دی تھی، اور اب سری لنکا نے بدلہ لے لیا ہے۔ فیصلہ کن میچ میں جو ٹیم دباؤ میں بہتر کھیلے گی، ٹرافی اسی کی ہو گی۔

قارئین کے تبصرے (0)