Monday, 26 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

بولسونارو نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا: برازیل کے انتخابات کالعدم قرار دینے کا مطالبہ

فلاویو بولسونارو اور ان کے بھائی ایڈورڈو سمیت برازیلی وفد اوول آفس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران

برازیلیا — برازیل کے صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد سینیٹر فلاویو بولسونارو نے نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ ان کی قانونی ٹیم انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کرے گی۔ یہ اعلان اتوار کی رات اس وقت سامنے آیا جب ملک کی اعلیٰ انتخابی عدالت نے صدر لوئز اناسیو لولا ڈی سلوا کی کامیابی کا حتمی اعلان کر دیا تھا۔

برازیلیا میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے بولسونارو نے کہا کہ ووٹنگ کے آخری لمحات میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد نتیجے کو ماننا ممکن نہیں۔ ان کے الفاظ میں: “نتائج کو اس پس منظر میں تسلیم کرنا ناممکن ہے جس میں یہ سب کچھ ہوا۔ ہم قانونی کارروائی کریں گے، ہم اس انتخاب کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کریں گے۔”

بولسونارو کا اعتراض سپریم کورٹ کے جج کرسٹیانو زانن کے اس فیصلے پر ہے جس کے تحت ووٹنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھا دیا گیا تھا۔ یہ حکم اس وقت آیا جب پولنگ کا مقررہ وقت ختم ہونے ہی والا تھا اور کئی پولنگ اسٹیشن بند ہو چکے تھے۔ بولسونارو نے اس توسیع کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے کھیل کے دوران قواعد بدل دیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ توسیع کی درخواست دونوں کیمپوں نے کی تھی۔ لولا کی ٹیم نے کئی ریاستوں میں ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے والی بسوں میں رکاوٹوں کا حوالہ دیا تھا، جبکہ بولسونارو کی ٹیم نے جنوب میں شدید بارشوں سے ووٹرز کو درپیش مشکلات کی طرف اشارہ کیا تھا۔ جج زانن نے لولا کیمپ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ووٹنگ کا وقت ملک بھر میں دو گھنٹے بڑھا دیا، جس سے گنتی میں تاخیر ہوئی اور پولنگ اسٹیشنوں پر کنفیوژن پھیلی۔

حتمی گنتی کے مطابق لولا نے 51.8 فیصد ووٹ حاصل کیے اور ان کی برتری تقریباً 44 لاکھ ووٹوں کی رہی۔ یہ نتیجہ کئی حوالوں سے تاریخی ہے: لولا 80 سال کی عمر میں چوتھی بار صدر منتخب ہوئے ہیں، اور 1989 میں براہ راست صدارتی انتخابات کی بحالی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی امیدوار پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہنے کے باوجود صدر بنا ہو۔ پہلے مرحلے میں بولسونارو 47 فیصد کے ساتھ آگے تھے جبکہ لولا کو 45 فیصد ووٹ ملے تھے، مگر دوسرے مرحلے میں پانسہ پلٹ گیا۔ لولا کی نئی مدت 5 جنوری 2027 سے شروع ہو گی۔ سرکاری نتائج برازیل کی اعلیٰ انتخابی عدالت کی ویب سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں: TSE نتائج۔

دوسری جانب لولا نے پیر کو اپنی جیت کو غیر ملکی مداخلت کے خلاف فتح قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے لوگوں کو قائل کیا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ووٹ دینا انتہائی اہم ہے۔ ہم نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر ملکی مداخلت کو شکست دی۔ برازیل کسی کا پچھواڑا نہیں۔”

یہ صورت حال برازیل کے لیے نئی نہیں۔ 2022 میں بھی فلاویو کے والد، سابق صدر جیئر بولسونارو نے لولا سے شکست کے بعد فوری طور پر نتیجہ تسلیم نہیں کیا تھا، اگرچہ بعد میں انہوں نے اقتدار کی منتقلی کی اجازت دے دی تھی۔ فرق یہ ہے کہ اس بار شکست خوردہ امیدوار نے کھلے عام عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ قانونی ماہرین کے نزدیک کالعدم قرار دینے کی درخواست کا کامیاب ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے، کیونکہ انتخابی عدالت حتمی گنتی جاری کر چکی ہے اور توسیع کی درخواست دونوں فریقوں کی طرف سے آئی تھی، مگر یہ اعلان برازیل کی سیاست میں کشیدگی برقرار رکھنے کا واضح اشارہ ہے — اور اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا بولسونارو کے حامی سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔ لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کی جماعتوں کی حالیہ کامیابیوں کے پس منظر میں لولا کی جیت ویسے ہی ایک بڑا موڑ تھی، اور اب اس جیت پر قانونی چیلنج نے اسے ایک اور رخ دے دیا ہے۔ یورپ میں بھی طلبہ کی تحریک نے سربیا میں اقتدار کا طویل دور ختم کر دیا تھا — دنیا بھر میں ووٹرز اس وقت قائم شدہ قوتوں کو چیلنج کر رہے ہیں، اور برازیل اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

اب سب کی نظریں بولسونارو کی قانونی ٹیم پر ہیں کہ وہ عدالت میں کیا درخواست دائر کرتی ہے اور انتخابی عدالت اس پر کیا فیصلہ دیتی ہے۔ اس دوران لولا کی ٹیم اقتدار کی منتقلی کی تیاری میں مصروف ہے، اور 5 جنوری 2027 کی حلف برداری کی تاریخ اپنی جگہ برقرار ہے — جب تک عدالت کوئی اور حکم نہ دے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *