بلغراد — سربیا کے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں طلبہ کی قیادت والی تحریک نے حکمران جماعت کو شکست دے دی ہے۔ صدر کے عہدے سے مستعفی ہو کر انتخابی مہم کی قیادت کرنے والے الیگزینڈر ووچچ نے اتوار کی رات خود شکست تسلیم کر لی، جس کے بعد دارالحکومت بلغراد کی سڑکوں پر جشن شروع ہو گیا۔
ووچچ نے اپنی جماعت سربین پروگریسو پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: “ابھی حتمی نتائج ہمارے پاس نہیں، لیکن ایک منظم نمونے کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ ہم یہ انتخابات ہار گئے ہیں۔” ان کے مطابق طلبہ کی فہرست کو 250 رکنی قومی اسمبلی میں 135 سے 140 نشستیں ملیں گی، جبکہ ان کی جماعت تقریباً 105 نشستوں تک محدود رہے گی۔ ووچچ نے بتایا کہ طلبہ کی فہرست نے تقریباً 22 لاکھ ووٹ لیے، جبکہ ان کی جماعت کو تقریباً 17 لاکھ ووٹ ملے۔
انتخابی نگران ادارے سی آر ٹی اے کے مطابق طلبہ کی فہرست نے 51.47 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ووچچ کی فہرست 40.42 فیصد پر رہی۔ پولنگ اداروں سیسڈ اور اپسوس کے نمونے میں بھی طلبہ کی فہرست کو 138 اور حکمران جماعت کو 104 نشستیں ملتی دکھائی دیں۔ ٹرن آؤٹ تقریباً 70 فیصد رہا، جو تین دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ووچچ کے اعلان کے ساتھ ہی بلغراد میں گاڑیوں کے ہارن بجنے لگے اور ہجوم “فتح، فتح” اور “الیگزینڈر جا چکا” کے نعرے لگانے لگا۔
طلبہ کے ہیڈکوارٹر میں بلغراد یونیورسٹی کے پروفیسر رادومیر سائچچ نے کہا: “پیارے سربیا، آج رات عوام کی آواز سنی جا رہی ہے۔ آج رات ہم فتح کا جشن مناتے ہیں، کل ہم مستقبل بنائیں گے۔” یہ اعلان اس وقت آیا جب ووچچ نے اپنی شکست کا ذمہ دار آزاد میڈیا، بعض یورپی ملکوں کی مبینہ مداخلت اور “امریکی ڈیپ اسٹیٹ” کو ٹھہرایا۔
یہ انتخاب اس تحریک کا نتیجہ ہے جو نومبر 2024 میں نووی ساد ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے شروع ہوئی تھی۔ اس حادثے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور طلبہ نے اسے بدعنوانی اور غفلت کا نتیجہ قرار دے کر احتجاج شروع کیا تھا۔ تقریباً دو سال تک جاری رہنے والے اس احتجاج نے ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر لی، اور آخرکار طلبہ نے اپنی انتخابی فہرست میدان میں اتار دی۔ ووچچ نے گزشتہ ماہ صدارت سے استعفیٰ دے کر اس انتخاب میں وزیراعظم بننے کی کوشش کی تھی، کیونکہ وہ دو صدارتی مدتیں تقریباً مکمل کر چکے تھے۔
یہ واضح رہے کہ ووچچ کی شکست کا اعلان ابتدائی تخمینوں اور نمونوں کی بنیاد پر ہوا ہے؛ ریپبلک الیکٹورل کمیشن کی سرکاری گنتی اور حتمی تصدیق ابھی جاری ہے۔ ووچچ کے علاوہ صرف اقلیتی جماعتیں پارلیمنٹ میں پہنچی ہیں، جن میں ووجوودینا کے ہنگری باشندوں کے اتحاد کی تین اور ایک البانوی فہرست کی ایک نشست شامل ہے۔
یہ نتیجہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ محض ایک جماعت کی جیت نہیں، بلکہ ایک احتجاجی تحریک کا پارلیمانی اکثریت میں بدلنا ہے۔ طلبہ نے سڑکوں سے شروع ہونے والی مہم کو ووٹوں میں تبدیل کر کے دکھایا ہے۔ اب اصل امتحان حکومت سازی کا ہوگا: نئی حکومت کو نہ صرف بدعنوانی کے خلاف کارروائی کے وعدے پورے کرنے ہیں، بلکہ سربیا کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات اور روس پر پابندیوں کے سوال پر بھی اپنا راستہ طے کرنا ہوگا، جس پر طلبہ کی فہرست خود بھی یکساں مؤقف نہیں رکھتی۔
یورپ میں طلبہ کی تحریکیں پہلے بھی سڑکوں پر نظر آ چکی ہیں — فرانس میں طلبہ کے احتجاج نے اسی ماہ سرخیاں بنائیں — اور سپین میں قبل از وقت انتخابات بھی اسی سیاسی ہلچل کی ایک مثال ہیں۔ مگر سربیا کا معاملہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہاں طلبہ نے صرف احتجاج نہیں کیا، بلکہ اقتدار کی باگ ڈور چھین لی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)