Monday, 26 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

برازیل انتخابات 2026: لولا نے دوسرے مرحلے میں بولسونارو کو شکست دے دی، چوتھی بار صدر منتخب

برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا

برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے اور فیصلہ کن مرحلے میں دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو کو شکست دے کر چوتھی بار صدارت جیت لی ہے۔ ملک کی اعلیٰ انتخابی عدالت نے رات گئے انہیں فاتح قرار دیا، ایک ایسا نتیجہ جس کی چند ہفتے پہلے تک کم ہی لوگوں کو توقع تھی۔

سپیریئر الیکٹورل کورٹ (ٹی ایس ای) کے سرکاری نتائج کے مطابق 99.86 فیصد پولنگ سیکشنز کی گنتی مکمل ہونے پر لولا کو 51.76 فیصد ووٹ ملے، یعنی 6 کروڑ 41 لاکھ 37 ہزار 770 ووٹ، جبکہ فلاویو بولسونارو 48.24 فیصد، یعنی 5 کروڑ 97 لاکھ 69 ہزار 627 ووٹوں پر رہے۔ دونوں کے درمیان فرق تقریباً 43 لاکھ 68 ہزار ووٹوں کا رہا۔ عدالت نے برازیلیا کے وقت کے مطابق رات 9 بج کر 13 منٹ پر نتیجہ ریاضیاتی طور پر فیصلہ کن قرار دیا، جو پاکستانی وقت کے مطابق پیر کی صبح 5 بج کر 13 منٹ بنتا ہے۔ سرکاری نتائج برازیل کی انتخابی عدالت کی ویب سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

یہ واپسی اس لیے تاریخی ہے کہ 4 اکتوبر کو پہلے مرحلے میں فلاویو بولسونارو 47.03 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے تھے اور لولا 45.16 فیصد پر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ انتخاب سے ایک روز پہلے آنے والے آخری سروے میں بھی بولسونارو کو 51 فیصد کے ساتھ برتری حاصل تھی۔ جمہوریت کی بحالی کے بعد برازیل میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امیدوار نے پہلا مرحلہ ہارنے کے بعد دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کی ہو۔

پہلے مرحلے کے نتائج کے بعد لولا نے کہا تھا: “میں مانتا ہوں کہ مجھے یقین تھا کہ میں پہلے ہی مرحلے میں جیت جاؤں گا۔ کھیل اب شروع ہو رہا ہے۔ اضافی وقت میں ہم برازیل کے عوام کا دل جیت لیں گے۔” تین ہفتے بعد وہی “اضافی وقت” ان کی جیت کی کہانی بن گیا۔

فلاویو بولسونارو سابق صدر جیئر بولسونارو کے بیٹے ہیں، جو 2022 کے انتخابات میں شکست کے بعد بغاوت کی کوشش کے الزام میں 27 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں اور خود انتخاب نہیں لڑ سکتے تھے، اس لیے انہوں نے اپنے بیٹے کو اپنا سیاسی جانشین بنایا تھا۔ فلاویو نے مہم کے دوران اپنے والد کے لیے معافی کا وعدہ کیا تھا۔ ان کی مہم اس وقت بھی تنازع میں آئی جب انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے اپنے والد کی زندگی پر فلم بنانے کے لیے ایک متنازع بینکار سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر قبول کیے تھے، جس پر ان کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات جاری ہیں۔

ووٹنگ کا دن بھی ہنگامہ خیز رہا۔ سپریم کورٹ نے آخری لمحات میں پولنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھا دیا، جب لولا کیمپ نے شکایت کی کہ کئی شہروں میں بسیں سڑکوں سے ہٹا لی گئی ہیں جس سے ان کے حامی ووٹ ڈالنے نہیں جا سکے۔ بولسونارو کیمپ نے جنوبی علاقوں میں شدید بارش کا حوالہ دیا تھا، مگر ملک گیر توسیع پر سخت اعتراض کیا۔

اکیاسی سالہ لولا مزدور یونین کے سابق رہنما ہیں۔ وہ 2003 سے 2010 تک دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں، 2022 میں تیسری بار منتخب ہوئے، اور اب چوتھی مدت جیت لی ہے۔ ان کی نئی مدت 5 جنوری 2027 سے شروع ہوگی، اور وہ حلف اٹھانے والے برازیل کے سب سے معمر صدر ہوں گے۔ مہم کے دوران انہوں نے اس انتخاب کو جمہوریت اور “بربریت” کے درمیان مقابلہ قرار دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ امریکی دباؤ کے سامنے برازیل کی خودمختاری داؤ پر لگی ہے۔

یہ نتیجہ صرف برازیل کا نہیں ہے۔ لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت، جس کا حجم 26 کھرب ڈالر ہے، اس فیصلے سے خطے کی سیاست کا رخ طے ہوگا۔ ارجنٹائن، چلی، کولمبیا اور پیرو میں دائیں بازو کی لہر کے برعکس برازیل نے بائیں بازو کا راستہ برقرار رکھا ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلاویو بولسونارو کی کھل کر حمایت کر رہے تھے اور ان کی پہلے مرحلے کی جیت کو “بہت بڑی” قرار دیا تھا۔ دنیا بھر میں حالیہ انتخابات میں حیران کن نتائج کا سلسلہ جاری ہے، سربیا میں بھی طلبہ کی قیادت والی فہرست نے اقتدار کی جماعت کو شکست دی تھی۔

تاہم لولا کی چوتھی مدت آسان نہیں ہوگی۔ پہلے مرحلے کے ساتھ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں دائیں بازو نے بڑی کامیابیاں حاصل کی تھیں، اس لیے انہیں ایک مخالف پارلیمان کے ساتھ کام کرنا پڑے گا۔ برازیل میں تقریباً 15 کروڑ 90 لاکھ شہری ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ گنتی کے اس مرحلے پر 12 کروڑ 80 لاکھ سے زائد بیلٹ گنے جا چکے تھے، جن میں 14 لاکھ سے زائد خالی اور 27 لاکھ کالعدم ووٹ شامل تھے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ بولسونارو کیمپ نتیجہ تسلیم کرتا ہے یا قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *