Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

دوشنبہ میں ایس سی او سربراہانِ حکومت کا اجلاس: اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان کی شرکت

دوشنبہ میں اسماعیل سامانی یادگار کا منظر

اہم نکات

  • شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کا اجلاس 19 اور 20 اکتوبر کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں جاری ہے۔
  • پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں، جو تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ کی دعوت پر پہنچے۔
  • اجلاس میں بیلاروس، چین، قازقستان، کرغزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے وزرائے اعظم، ایران کے نائب صدر اور بھارت کے وزیر خارجہ شریک ہیں۔
  • ایجنڈے میں معیشت، مالیات، تجارت، رابطے اور تنظیم کے بجٹ کے معاملات شامل ہیں؛ مشترکہ اعلامیے کی منظوری متوقع ہے۔
  • اسحاق ڈار نے تاجک قیادت سے ملاقات میں تجارت، توانائی، رابطے اور قدرتی آفات کے انتظام میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

دوشنبہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ حکومت کا دو روزہ اجلاس اپنے دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاکستان کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق ڈار تاجکستان کے وزیراعظم قاہر رسول زادہ کی دعوت پر پیر کو دوشنبہ پہنچے تھے۔

دوشنبہ آمد پر اسحاق ڈار کا استقبال تاجکستان کے وزیرِ توانائی و آبی وسائل دلیر جمعہ نے کیا، جو پاکستان۔تاجکستان مشترکہ کمیشن کے بھی شریک سربراہ ہیں۔ تاجکستان میں پاکستان کے سفیر عرفان احمد اور ایس سی او کے لیے پاکستان کے قومی رابطہ کار خلیل ہاشمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

سربراہانِ حکومت کا یہ فورم ایس سی او کا دوسرا اہم ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے۔ دفتر خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں معاشی و مالی امور، تجارت، رابطے، سماجی و اقتصادی تعاون اور تنظیم کے بجٹ سے متعلق رہنمائی دی جاتی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ، بیانات اور اہم فیصلوں کی منظوری متوقع ہے۔

تاجک وزیراعظم سے ملاقات

اجلاس سے ایک روز قبل اسحاق ڈار نے تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، رابطے، دفاع، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ موسمیاتی تبدیلی اور آبی تحفظ پر بھی گفتگو ہوئی، اور اسحاق ڈار نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تجربے کی بنیاد پر قدرتی آفات کے انتظام میں تعاون کی پیشکش کی۔

اسحاق ڈار نے تاجکستان کو آزادی کی 35ویں سالگرہ پر مبارکباد دی اور اجلاس کے انتظامات پر تاجک قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ اس دورے میں وہ تاجک صدر اور وزیراعظم سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جبکہ رکن ممالک کے ہم منصبوں سے اجلاس کے حاشیے پر دوطرفہ بات چیت بھی طے ہے۔

پاکستان کے لیے یہ اجلاس کیوں اہم ہے؟

ایس سی او کا سربراہانِ حکومت اجلاس بنیادی طور پر معاشی ایجنڈے کا فورم ہے — تجارت کے راستے، توانائی کے منصوبے اور سرحد پار رابطے۔ پاکستان کے لیے یہ اس لیے اہم ہے کہ وسطی ایشیا تک رسائی اور تجارتی راستوں کی توسیع اسی فورم کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ تاجکستان سے توانائی اور آبی وسائل پر تعاون کی گفتگو اسی سمت کی ایک کڑی ہے۔

ایک اور پہلو بھی توجہ کا مستحق ہے: اسی اجلاس میں بھارت کے وزیر خارجہ بھی شریک ہیں۔ کثیر الجہتی فورمز پر پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ حکام کی ایک ہی میز پر موجودگی اگرچہ براہ راست دوطرفہ بات چیت کا متبادل نہیں، لیکن یہ ایسے اجلاسوں کو علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں غیر معمولی اہمیت دے دیتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حالیہ متحرک انداز کو دیکھیں تو — آج ہی فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کے دورے پر ہیں اور گزشتہ ہفتے عمان کے وزیر خارجہ اسلام آباد آئے تھے — دوشنبہ کا یہ اجلاس اسی سفارتی سلسلے کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔ اب نظریں مشترکہ اعلامیے پر ہوں گی کہ تجارت اور رابطے کے شعبے میں کون سے ٹھوس فیصلے سامنے آتے ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *