Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

پی ایس ایکس: مسلسل چوتھے ہفتے بھی انڈیکس سرخ — سرمایہ کار کس بات سے ڈر رہے ہیں؟

اسٹاک مارکیٹ چارٹ میں مندی کا رجحان دکھاتی کینڈل اسٹکس
اہم نکات

  • کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ 166,420 پر بند ہوا — 670 پوائنٹس (0.4 فیصد) کی کمی کے ساتھ مسلسل چوتھا منفی ہفتہ۔
  • پیر کو سب سے بڑا دھچکا لگا: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد ایک ہی دن میں 1,965 پوائنٹس کی گراوٹ۔
  • جمعرات اور جمعے کو جزوی بحالی ہوئی، مگر برینٹ خام تیل 107 ڈالر فی بیرل اور آبنائے ہرمز کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔
  • اگلا محرک: اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی میٹنگ اور امریکا ایران بات چیت کی پیش رفت — دونوں ہی سمت طے کریں گے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے یہ ہفتہ بھی اچھا ثابت نہ ہو سکا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعے کو 166,419.72 پر بند ہوا — گزشتہ ہفتے کے 167,089.28 کے مقابلے میں 669.56 پوائنٹس یعنی 0.4 فیصد کی کمی۔ ڈان کے مطابق عارف حبیب لمیٹڈ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ مسلسل چوتھا ہفتہ ہے جب انڈیکس سرخ میں بند ہوا۔ مارکیٹ کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 4.68 کھرب روپے رہ گئی، ایک ہفتے میں تقریباً 36.93 ارب روپے کا نقصان۔

ہفتے کی کہانی دراصل پیر کے ایک دن کی کہانی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیر کو انڈیکس 1,965 پوائنٹس لڑھک گیا — سیاسی بے یقینی نے سرمایہ کاروں کو فروخت پر مجبور کر دیا۔ اے کے ڈی سیکیورٹیز کے مطابق یہ ہفتے کی سب سے بڑی ایک روزہ گراوٹ تھی۔ اس کے بعد دباؤ کچھ کم ہوا: جمعرات کو ریفائنری اسٹاکس کی قیادت میں 768 پوائنٹس کی واپسی ہوئی اور جمعے کو انڈیکس 233.55 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا، مگر ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے الفاظ میں کاروبار “بے سمت” رہا — کوئی ٹھوس محرک نہ تھا اور خام تیل کی اونچی قیمتیں حاوی رہیں۔

شعبوں کی سطح پر نقصان کی تصویر واضح ہے: تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کی کمپنیوں نے انڈیکس کو 330 پوائنٹس نیچے گھسیٹا، بینکوں نے 319 اور سیمنٹ نے 136 پوائنٹس کا بوجھ ڈالا۔ انفرادی اسٹاکس میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی 161 پوائنٹس کے ساتھ سب سے بڑی گراوٹ کا باعث بنی، اس کے بعد یونائیٹڈ بینک (136)، حبیب بینک اور پی ٹی سی ایل (دونوں 111) رہے۔ سہارا صرف کھاد کے اسٹاکس نے دیا جنہوں نے 171 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

مارکیٹ پر دباؤ کی دو بڑی وجوہات ہیں، اور دونوں کا تعلق پاکستان سے باہر ہے۔ پہلی: آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے بعد سپلائی میں خلل کا خدشہ، جس نے برینٹ خام تیل کو 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچا دیا — سعودی توانائی تنصیبات پر حوثی حملوں نے آگ مزید بھڑکائی، حالانکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے ہنگامی تیل کے ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا۔ دوسری: توقع کہ اسٹیٹ بینک اپنی آئندہ پالیسی میٹنگ میں شرح سود بڑھا سکتا ہے، کیونکہ مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔ مرکزی بینک نے اسی ہفتے ٹریژری بلز کی نیلامی میں 685.53 ارب روپے اکٹھے کیے، اور کٹ آف ییلڈز کی ملی جلی سمت نے بھی شرح سود کے خدشات کو ہوا دی۔

معاشی پس منظر بھی حوصلہ افزا نہیں: ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 35.6 کروڑ ڈالر رہا اور رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 87.4 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا — گزشتہ سال سے 15.8 فیصد زیادہ۔ اگست میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار ماہانہ بنیاد پر 4.96 فیصد گری۔ مثبت خبر صرف یہ کہ ستمبر میں آئی ٹی برآمدات 43.5 کروڑ ڈالر رہیں، جو معیشت کے ایک روشن گوشے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

اصل نکتہ یہ ہے کہ مارکیٹ کمپنیوں کی کارکردگی پر نہیں گر رہی — جون کے کارپوریٹ نتائج توقع سے بہتر تھے — بلکہ “رسک پریمیم” پر گر رہی ہے: سیاست، تیل اور شرح سود، تینوں ایک ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ ہفتے کے اندر بحالی بھی آئی اور پھر ٹھہر گئی؛ سرمایہ کار خرید تو رہے ہیں مگر ڈرے ہوئے ہیں۔ کے ٹریڈ کی پیش گوئی دو ٹوک ہے: خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکا ایران بات چیت میں پیش رفت سے سہارا مل سکتا ہے، لیکن علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ مندی کو طول دے گا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے علی نجیب کا مشورہ چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ہے: منتخب رہیں، مضبوط بنیادوں والے اسٹاکس کو ترجیح دیں اور جذبات مستحکم ہونے تک جارحانہ پوزیشن نہ لیں۔

آنے والے ہفتے کی واچ لسٹ مختصر ہے: اسٹیٹ بینک کی پالیسی میٹنگ میں شرح سود کا فیصلہ، برینٹ کی سمت، اور امریکا ایران محاذ پر کوئی خبر۔ ان تین میں سے جو بھی پہلے بدلے گا، انڈیکس کی اگلی سمت وہی طے کرے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *