نیروبی: کینیا میں ایبولا کے کیسز بڑھ کر 7 ہو گئے ہیں۔ وزارت صحت نے ہفتے کے روز مزید چار کیسز کی تصدیق کی ہے — ان میں تین طبی عملے کے ارکان شامل ہیں جنہوں نے ملک کے پہلے مریض کا علاج کیا تھا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ چاروں نئے مریض پہلے ہی قرنطینہ میں تھے، یعنی وائرس عام آبادی تک نہیں پہنچا۔
نئے مریضوں میں دو مرد (29 اور 35 سالہ) اور ایک 32 سالہ خاتون شامل ہیں جنہوں نے 3 اور 4 اکتوبر کو پہلے مریض کو اسپتال میں سنبھالا تھا۔ یہ تینوں 9 اکتوبر سے قرنطینہ میں تھے۔ چوتھا مریض پہلے متوفی کا ایک مرد رشتہ دار ہے جو 6 اکتوبر سے قرنطینہ میں تھا۔ چاروں کو قرنطینہ میں ہی بخار ہوا تو فوری طور پر الگ تھلگ کر کے ان کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے — نیشنل وائرولوجی ریفرنس لیبارٹری اور کینیا میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ (کیمری) دونوں نے بنڈیبوگیو وائرس کی تصدیق کی۔
اس سے پہلے جمعے کے روز 65 سالہ خاتون میں تیسرے کیس کی تصدیق ہوئی تھی — وہ پہلے دو مریضوں کی قریبی رشتہ دار ہیں اور 6 اکتوبر سے قرنطینہ میں تھیں۔ انہیں بخار، گلے کی سوزش اور شدید جسمانی کمزوری ہوئی تھی۔ وہ اب انفیکشس ڈیزیز یونٹ میں زیر علاج ہیں۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ “خطرہ کم ہے اور کمیونٹی میں وائرس کے پھیلاؤ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔” ڈائریکٹر جنرل برائے صحت ڈاکٹر پیٹرک ایموتھ نے کہا کہ قرنطینہ نے “ان کے خاندان کے باقی افراد اور عام عوام کو وائرس سے محفوظ رکھا۔” دوسرا کیس — 39 سالہ رشتہ دار جس کی تصدیق بدھ کو ہوئی تھی — مستحکم حالت میں ہے اور علاج کا اچھا رسپانس دے رہا ہے۔
پہلا کیس: کینیا کی تاریخ کا پہلا ایبولا مریض
کینیا کا پہلا ایبولا کیس ایک 40 سالہ کینیائی تاجر کا تھا جو جمہوریہ کانگو میں رہتا تھا۔ وہ تقریباً ایک ماہ سے بیمار تھا، زمینی راستے سے یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالہ پہنچا، وہاں سے تین اکتوبر کو نیروبی کی پرواز پکڑی اور پانچ اکتوبر کو انتقال کر گیا۔ یہ کینیا کی تاریخ کا پہلا ایبولا کیس تھا — اس سے پہلے یہ وائرس کبھی کینیا میں نہیں دیکھا گیا تھا۔
رابطوں کی تلاش: 130 میں سے 128 قابو میں
کینیا کی ٹریسنگ ٹیموں نے اب تک 130 رابطے شناخت کیے ہیں، جن میں سے 128 کو ڈھونڈ کر قرنطینہ میں ڈال دیا گیا ہے — یہ 98.5 فیصد بنتا ہے، جو عالمی معیار 85 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ باقی دو افراد کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کی مدت مکمل ہونے سے پہلے قرنطینہ میں موجود مزید رابطوں میں بھی کیسز سامنے آ سکتے ہیں، مگر جس تیزی سے یہ کیسز پکڑے گئے، نئے کیسز بھی اتنی ہی جلدی پکڑے جائیں گے۔
خطے کی صورتحال تشویشناک ہے
بنڈیبوگیو قسم ماضی میں کانگو میں ہزاروں جانیں لے چکی ہے۔ کانگو میں مئی میں اعلان کردہ 17 ویں وبا اب تک 4,000 سے زائد اموات کا باعث بن چکی ہے، جبکہ یوگنڈا میں 20 کیسز اور 2 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں — ان میں زیادہ تر وہ مسافر تھے جو کانگو سے آئے تھے۔ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی وبائی امراض سے نمٹا جا رہا ہے، جیسے بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا۔
یہ خبر دراصل حوصلہ افزا کیوں ہے
سات کیسز سن کر گھبراہٹ فطری ہے، مگر اصل کہانی اس کے الٹ ہے: کینیا کا حفاظتی نظام کام کر گیا۔ تمام نئے مریض علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی نگرانی میں تھے، بخار ہوتے ہی الگ کر دیے گئے، اور وائرس کمیونٹی تک پہنچنے سے پہلے قابو میں آ گیا۔ یہی وہ باریک فرق ہے جو ایک کنٹرول شدہ وبا اور بے قابو پھیلاؤ میں ہوتا ہے — اور یہ فرق قرنطینہ، تیز ٹیسٹنگ اور رابطوں کی مکمل ٹریسنگ سے پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں ڈینگی جیسے وبائی امراض سے نمٹنے کا تجربہ بھی یہی سبق دیتا ہے کہ جلد تشخیص جانیں بچاتی ہے۔
اگلے چند دن اہم ہوں گے۔ اگر قرنطینہ میں موجود رابطوں میں مزید کیسز نکلے تو وہ بھی اسی جال میں پھنسیں گے — اور ہر پکڑا گیا کیس وائرس کی زنجیر کو ایک کڑی اور کمزور کرتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)