Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

عدن ایئرپورٹ پر حوثی میزائل حملہ: قاہرہ جانے والی پرواز بال بال بچی — 151 مسافر محفوظ

عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف لینڈنگ کے لیے آتے طیارے کے کاک پٹ سے رن وے کا منظر

جمعے کو دو میزائل ہوائی اڈے کے احاطے میں گرے

عدن: یمن کے جنوبی شہر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعے کی شام حوثیوں کے دو میزائل گرے — ایسے وقت میں جب قاہرہ جانے والی یمنیہ ایئر ویز کی پرواز 612 کے طیارے میں 151 مسافر سوار تھے اور طیارہ اڑنے ہی والا تھا۔ حکام کے مطابق میزائل طیارے سے صرف پانچ سو میٹر اور رن وے کے درمیانی حصے سے تقریباً سو میٹر دور گرے — طیارے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا اور تمام مسافر و عملہ محفوظ رہے۔

عدن کے دارالحکومت سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دونوں میزائل جمعے کو عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے کے احاطے کے اندر گرے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ٹرانسپورٹ وزارت نے بتایا کہ ایک میزائل ہوائی اڈے کے مغربی گیٹ کے قریب رن وے کی سمت گرا جبکہ دوسرا ہوائی اڈے کے شمال مغرب میں — یمنیہ کے طیارے کے ساتھ فیلکس ایئر ویز کا طیارہ بھی خالی کرا لیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے صحافی نے ہوائی اڈے کے قریب دو زوردار دھماکے سنے، اگرچہ وہ یہ تصدیق نہیں کر سکے کہ نشانہ کیا بنا۔

حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بدر کیمپ میں “سعودی افواج کے کمانڈ ہیڈکوارٹر” اور ہتھیاروں کے ڈپو کو نشانہ بنایا۔ اس کے برعکس یمن کی وزارتِ اطلاعات نے واقعے کو شہری ہوائی اڈے اور مسافروں کی زندگیوں پر براہِ راست خطرہ قرار دیا۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا: “یہ صرف ایک شہری ہوائی اڈے پر حملہ نہیں تھا بلکہ مسافروں اور فضائی عملے کی جانوں، ہوا بازی کی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔”

یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں عدن ایئرپورٹ پر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے ایک روز قبل جمعرات کو حوثیوں نے المعاشیق صدارتی محل پر پانچ میزائل داغے تھے جن میں پانچ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوئے تھے — وزیراعظم شیعہ الزندانی محفوظ رہے تھے۔ مزید پڑھیے: المعاشیق صدارتی محل پر میزائل حملے میں پانچ ہلاک

دوسری طرف سعودی قیادت والے اتحاد نے جمعے اور ہفتے کو جوابی کارروائی تیز کر دی ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ اتحاد نے حوثیوں کے ہتھیاروں کی سمندری سمگلنگ کے ٹھکانوں (صوبہ حدیدہ) پر فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کی اور صعدہ میں حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل لانچر تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ جمعے کو ہی اتحاد نے ینبع کی طرف آنے والا ایک بیلسٹک میزائل، بحیرہ احمر پر دو کروز میزائل اور تین ڈرون بھی مار گرائے تھے۔ مزید پڑھیے: ینبع اور ریاض پر حوثی میزائل، اتحاد کا تمام حملے روکنے کا دعویٰ

اسی دوران ایران نے سعودی الزام — کہ تہران حوثی حملوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے — مسترد کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کشیدگی بڑھانے کو کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں سمجھتا اور “خیر سگالی” سے ثالثی کے لیے تیار ہے۔

یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے: شہری ہوائی اڈوں اور مسافر بردار پروازوں پر براہِ راست میزائل حملے اس کشیدگی کا خطرناک نیا موڑ ہیں۔ عدن یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا عبوری دارالحکومت ہے اور اس کا ہوائی اڈہ معمول کی پروازوں اور انسانی امداد دونوں کا آخری دروازہ ہے — ایک میزائل کا محض پانچ سو میٹر کی دوری پر گرنا یہ پیغام دیتا ہے کہ اب کوئی شہری انفراسٹرکچر محفوظ نہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ خبر براہِ راست اہمیت رکھتی ہے: خلیج میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی آمد و رفت اور خام تیل کی بڑھتی قیمتیں (برینٹ 110 ڈالر فی بیرل) اسی کشیدگی کا شاخسانہ ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *