Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ — مرکز خضدار کے قریب، گہرائی صرف 15 کلومیٹر

خضدار، بلوچستان کا منظر — زلزلے کا مرکز اسی علاقے کے قریب تھا

ہفتے کی صبح وسطی بلوچستان میں 5.8 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا، جس کا مرکز خضدار کے قریب تھا۔ بھارتی قومی مرکز برائے زلزلہ پیمائی (نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی) کے مطابق زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق صبح تقریباً 10 بج کر 7 منٹ پر آیا، جب کہ اس کی گہرائی صرف 15 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی — اس قدر کم گہرائی کے زلزلے سطح پر کہیں زیادہ شدید محسوس ہوتے ہیں۔

زلزلے کے بعد خضدار اور گردونواح کے کئی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک آنے والے شدید جھٹکوں سے عمارتیں لرز اٹھیں اور لوگ گھروں اور دکانوں سے نکل کر کھلے میدانوں کی طرف دوڑ پڑے۔ تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے، اور صوبائی ریسکیو ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جرمن تحقیقی ادارے جیو فزکس ریسرچ سینٹر (جی ایف زیڈ) نے بھی زلزلے کی تصدیق کی ہے، جس کے مطابق اس کی شدت 5.7 اور گہرائی 10 کلومیٹر تھی، اور مرکز خضدار سے تقریباً 48 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے اس زلزلے کے لیے پیلا الرٹ جاری کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کچھ نقصان یا جانی نقصان کا امکان خارج از امکان نہیں — زیادہ سے زیادہ شدت کا تخمینہ 7 (شدید) لگایا گیا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے سرحد پار بھارت کے بعض حصوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

خضدار بلوچستان کا تیسرا بڑا شہر ہے، جس کی آبادی دو لاکھ سے زیادہ ہے، مگر اس کے گرد و نواح پہاڑی اور کم آبادی والے علاقے ہیں۔ ایسے علاقوں میں کسی بھی قدرتی آفت کے نقصانات کا مکمل جائزہ لینے میں وقت لگتا ہے، کیونکہ بکھری آبادی اور دشوار گزار راستے ریسکیو ٹیموں کی رسائی مشکل بنا دیتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو آفٹر شاکس کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں زلزلے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے، کیونکہ یہ انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان بڑی فالٹ لائنوں کے قریب ہونے کی وجہ سے خاص طور پر متاثر ہونے والے علاقے ہیں۔ اسی سال جون میں بھی بلوچستان میں 5.3 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اسی ماہ 9 اکتوبر کو پاناما کے ساحل پر آنے والے 7.6 شدت کے زلزلے کے بعد بھی سونامی کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔

یہ خبر کیوں اہم ہے

5.8 شدت کا زلزلہ کوئی معمولی جھٹکا نہیں — اسے معتدل سے شدید درجے کا زلزلہ مانا جاتا ہے، اور جب یہ صرف 10 سے 15 کلومیٹر کی گہرائی میں آئے تو سطح پر اس کے اثرات کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ خضدار کا پہاڑی اور کم آبادی والا خطہ اس بار حفاظتی دیوار بنا، مگر یہی بکھری آبادی نقصان کے فوری جائزے کو بھی مشکل بناتی ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ پاکستان کی سرکاری سیسمک ایجنسیاں اور صوبائی حکومت کتنی جلدی متاثرہ علاقوں کا باقاعدہ جائزہ جاری کرتی ہیں — کیونکہ ابتدائی چند گھنٹے کسی بھی قدرتی آفت کے بعد سب سے اہم ہوتے ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *