Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

پاناما کے ساحل پر 7.6 شدت کا طاقتور زلزلہ — نو ممالک کے ساحلوں پر سونامی کی وارننگ

پاناما سٹی کا فضائی منظر — زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت میں بھی شدت سے محسوس کیے گئے

جمعے کی رات پاناما کے جنوبی ساحل کے قریب 7.6 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا، جس کے بعد بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی۔ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً گیارہ بجے (17:56 UTC) ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا مرکز چھوٹے ساحلی قصبے پیتالوزا اریبا کے جنوب مغرب میں، سمندر کے نیچے محض 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا — یعنی یہ انتہائی کم گہرائی کا زلزلہ تھا۔ مرکز کے نقاط 7.59 درجے شمالی اور 80.77 درجے مغربی ریکارڈ کیے گئے۔

ابتدائی طور پر USGS نے زلزلے کی شدت 8.0 بتائی تھی، مگر بعد میں نظرثانی کر کے اسے 7.6 کر دیا گیا۔ شدت کے مرکلی پیمانے (MMI) پر اسے “شدید” (VIII) درجہ دیا گیا ہے۔ USGS کے درجہ بندی کے مطابق 7.0 سے 7.9 شدت کے زلزلے “بڑے زلزلے” کے زمرے میں آتے ہیں اور سنگین نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت پاناما سٹی میں بھی شدت سے محسوس کیے گئے، جہاں عمارتیں لرز اٹھیں اور خوفزدہ شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ رائٹرز کے نامہ نگاروں کے مطابق پڑوسی ملک کوسٹا ریکا کے دارالحکومت سان ہوزے میں بھی زمین ہلی، اور ٹیلی ویژن فوٹیج میں لوگوں کو عمارتوں سے باہر نکلتے دیکھا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

زلزلے کے چند منٹ بعد امریکی نیشنل ویدر سروس نے سونامی کی وارننگ جاری کی۔ امریکی سونامی وارننگ سسٹم کے مطابق خطرناک سونامی لہریں تین گھنٹوں کے اندر پاناما، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ایکواڈور، پیرو، نکاراگوا، گوئٹے مالا، ایل سلواڈور اور میکسیکو کے ساحلوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ ہوائی کے لیے بھی ممکنہ خطرے کا انتباہ جاری کیا گیا، جبکہ چلی کی بحریہ کی ہائیڈروگرافک سروس نے بھی الگ سے سونامی الرٹ جاری کیا۔ دوسری طرف نیوزی لینڈ کی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کے ساحلوں کو فی الحال کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

یہ خبر کیوں اہم ہے

محض 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا زلزلہ سطح پر کہیں زیادہ تباہ کن محسوس ہوتا ہے — یہی وجہ ہے کہ دارالحکومت میں بھی عمارتیں لرز گئیں، حالانکہ مرکز ساحل سے دور سمندر میں تھا۔ پاناما بحرالکاہل کے زلزلہ خیز خطے کے قریب واقع ہے، جہاں سمندری اور براعظمی پلیٹوں کی ٹکر اکثر ایسے طاقتور زلزلے پیدا کرتی ہے۔

سونامی وارننگ ایک احتیاطی اقدام ہے، اور ہر وارننگ کا مطلب لہروں کا آنا نہیں ہوتا — مگر نو ممالک اور ہوائی تک اس کا پھیلاؤ اس بات کی علامت ہے کہ سمندر میں آنے والے زلزلے کا خطرہ صرف مرکز کے گرد محدود نہیں رہتا۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ ایک یاددہانی بھی ہے: 2005 کے کشمیر زلزلے نے سکھایا تھا کہ زلزلے کی تیاری، مضبوط عمارتیں اور فوری ردعمل جانیں بچا سکتا ہے۔

حکام نے ساحلی علاقوں کے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔ صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے؛ نقصان کے حتمی اعداد و شمار اور سونامی کی صورتِ حال کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آتے ہی یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *