پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 5.26 فیصد بڑھ کر 5.026 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ادارہ شماریات پاکستان کے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ برآمدات 4.775 ارب ڈالر تھیں۔
سب سے نمایاں کارکردگی تیار ملبوسات (ریڈی میڈ گارمنٹس) کی رہی، جن کی مالیت 15.69 فیصد بڑھ کر 1.223 ارب ڈالر ہو گئی، جبکہ مقدار میں 17.38 فیصد اضافہ ہوا۔ نِٹ ویئر کی برآمدات مالیت کے اعتبار سے 4.14 فیصد بڑھ کر 1.483 ارب ڈالر تک پہنچیں، اگرچہ مقدار میں 0.46 فیصد کمی آئی۔ بیڈ ویئر کی برآمدات میں معمولی کمی دیکھی گئی — مالیت میں 0.07 فیصد اور مقدار میں 0.71 فیصد۔ کاٹن یارن کی برآمدات 24.47 فیصد بڑھ کر 227.1 ملین ڈالر اور تولیوں کی 10 فیصد بڑھ کر 291.56 ملین ڈالر رہیں۔
تاہم یہ اچھی خبر ایک انتباہ کے ساتھ آئی ہے۔ برآمدکنندگان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو دوسری سہ ماہی میں برآمدات کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ان کی مسابقتی صلاحیت کو ختم کر رہی ہے۔
دو بڑے دھچکے پہلے ہی رفتار کو متاثر کر رہے ہیں: اکتوبر 2025 سے افغانستان کے ساتھ تجارت کی معطلی، اور علاقائی جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ — خاص طور پر متحدہ عرب امارات — کو برآمدات میں کمی۔
اسی دوران پاکستان کا تیل کا درآمدی بل پہلی سہ ماہی میں 6.50 فیصد بڑھ کر 4.02 ارب ڈالر ہو گیا۔ خام تیل کی درآمد مالیت کے اعتبار سے 23.10 فیصد بڑھی جبکہ مقدار میں 6.87 فیصد کمی آئی — یعنی مہنگا تیل، کم مقدار۔
مزید پڑھیے:
اعداد کے پیچھے اصل کہانی
سرخی میں اضافہ اچھا لگتا ہے، مگر تفصیل بتاتی ہے کہ یہ اضافہ اتنا مضبوط نہیں جتنا دکھائی دیتا ہے۔ غور کیجیے: تیار ملبوسات کی مقدار 17.38 فیصد بڑھی مگر مالیت صرف 15.69 فیصد — یعنی پاکستانی برآمدکنندگان زیادہ کپڑا بیچ رہے ہیں مگر فی یونٹ کم قیمت پر۔ نِٹ ویئر میں تو الٹا معاملہ ہے: مقدار گھٹی، مالیت بڑھی — یعنی قیمتیں بڑھنے سے آمدنی بچ گئی، فروخت نہیں بڑھی۔
یہ وہی پرانی کہانی ہے جو پاکستانی ٹیکسٹائل دہائیوں سے سنا رہا ہے: بجلی اور گیس کی مہنگی قیمتیں، مہنگا خام مال، اور علاقائی حریفوں کے مقابلے میں کم مراعات۔ افغانستان کے ساتھ تجارت بند ہونے سے وہ منڈی ہاتھ سے نکل گئی جو پاکستانی تاجروں کی روایتی گاہک تھی، اور خلیج کی جنگ نے متحدہ عرب امارات جیسی منڈی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
اصل امتحان اب دوسری سہ ماہی کا ہے۔ اگر حکومت نے توانائی کی قیمتوں اور برآمدی مراعات پر فوری توجہ نہ دی تو پہلی سہ ماہی کا یہ اضافہ محض ایک اچھی شروعات بن کر رہ جائے گا — اور برآمدکنندگان کی وارننگ کے مطابق، اگلی سہ ماہی کی خبر اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)