Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

سیسہ بچوں کا مستقبل چھین رہا ہے — سالانہ 35 لاکھ اموات، عالمی ادارہ صحت کی فوری اقدام کی اپیل

گاڑی کی بیٹری — سیسے کے زہر کا ایک بڑا ذریعہ

اہم نکات:

  • عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق سیسے (لیڈ) کا زہر ہر سال دنیا بھر میں 35 لاکھ سے زائد اموات کا باعث بنتا ہے
  • کروڑوں بچے متاثر ہیں — سیسے کی کوئی محفوظ مقدار نہیں، معمولی مقدار بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے
  • زہر کے ذرائع: رنگ، برتن، کاسمیٹکس، مصالحے، غیر رسمی ری سائیکلنگ اور صنعتی آلودگی
  • دنیا کے نصف سے بھی کم ممالک میں سیسے والے رنگ پر قانونی پابندی ہے
  • 18 سے 26 اکتوبر تک سیسے کے زہر سے بچاؤ کا عالمی ہفتہ منایا جا رہا ہے

عالمی ادارہ صحت نے جمعرات کے روز ممالک سے اپیل کی ہے کہ سیسے کے زہر سے بچاؤ کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔ یہ اپیل سیسے کے زہر سے بچاؤ کے عالمی ہفتے کے موقع پر کی گئی، جس کا موضوع “پتہ لگانے سے بچاؤ کی طرف” ہے۔

ادارے کے مطابق سیسہ بچوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ہے، کیونکہ ان کے نشوونما پاتے دماغ اور اعصابی نظام اس کے زہریلے اثرات کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بچے میں زہر کی علامات ظاہر ہوئے بغیر بھی نقصان ہو سکتا ہے — اور جب تک پتہ چلتا ہے، بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بالغوں میں یہ دل اور گردوں کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور صحت کے شعبے کے عبوری ڈائریکٹر بروس گورڈن نے کہا: “سیسے کے زہر کو 2026 میں بچوں کا مستقبل نہیں چھیننا چاہیے۔” ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ زہر کہاں سے آتا ہے اور اسے کیسے روکا جا سکتا ہے — اب ممالک کو بچوں کے خون میں پہنچنے سے پہلے ہی سیسے کو مصنوعات اور ماحول سے نکالنا ہوگا۔

ادارے نے اعلان کیا ہے کہ 2027 میں عالمی صحت اسمبلی کے سامنے سیسے کے خاتمے کا عالمی ایکشن پلان پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے:

پاکستان کے گھروں تک یہ خبر کیوں پہنچنی چاہیے

یہ خبر دور کے کسی ملک کی نہیں — یہ ہمارے کچن اور ہمارے بچوں کے کمرے کی ہے۔ پاکستان میں مصالحوں میں ملاوٹ، سستے کاسمیٹکس، پرانے رنگوں والی دیواریں اور گلی محلوں میں بیٹریوں کی غیر رسمی ری سائیکلنگ — یہ سب سیسے کے وہی ذرائع ہیں جن کی طرف عالمی ادارہ صحت اشارہ کر رہا ہے۔ ہمارے ہاں خون میں سیسے کی مقدار ناپنے کی سہولت بھی عام نہیں، یعنی مسئلہ نظر ہی نہیں آتا۔

بروس گورڈن کی بات غور طلب ہے: آگاہی کافی نہیں، اب پالیسی اور اس پر عمل درآمد چاہیے۔ پاکستان کے لیے پہلا قدم سادہ ہے — سیسے والے رنگ پر پابندی، مصالحوں کی جانچ، اور بیٹری ری سائیکلنگ کو غیر رسمی بھٹیوں سے نکال کر باقاعدہ نظام میں لانا۔ یہ وہ سرمایہ کاری ہے جو اگلی نسل کے دماغوں پر ہوگی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *