پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے جمعرات کے روز خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی باضابطہ توثیق کر دی۔ یوں وفاقی حکومت کا 11 اکتوبر کا فیصلہ اب پارلیمانی مہر کے ساتھ آئینی شکل اختیار کر گیا ہے۔
واقعات کی ٹائم لائن:
11 اکتوبر: صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے صدارتی احکامات جاری کیے۔ حکومت کا موقف تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے صوبائی انتظامیہ نے “جان بوجھ کر کنارہ کشی” اختیار کر رکھی ہے۔
13 اکتوبر: قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاسوں میں ایمرجنسی کی منظوری کا معاملہ ایجنڈے پر تھا۔
14 اکتوبر: دونوں ایوانوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ووٹنگ ہوئی اور حکومت کو مطلوبہ اکثریت مل گئی۔
15 اکتوبر: اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دو قراردادیں پیش کیں — ایک آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی توثیق کے لیے، دوسری آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے لیے۔ طریقہ کار کی تحریک 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور ہوئی، جس کے بعد دونوں قراردادیں اکثریت سے منظور کر لی گئیں۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ تحریک انصاف کے ارکان “ایمرجنسی نامنظور” اور “گورنر راج نامنظور” کے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور قراردادوں کی کاپیاں پھاڑ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا: “یہ آپشن آخری چارے کے طور پر استعمال کیا گیا۔” ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے گورنر نے صدر اور وزیراعظم کو خط لکھ کر دہشت گردی کے بڑھتے واقعات سے خبردار کیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف خود بھی اجلاس کے کچھ حصے میں شریک ہوئے اور اپوزیشن کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی دعوت دی۔ تاہم اسی روز اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مرکز کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
اب آگے کیا ہوگا؟
آئین کے تحت گورنر راج کا حکم دو ماہ سے زیادہ نافذ نہیں رہ سکتا، جب تک مشترکہ اجلاس اس کی توسیع کی منظوری نہ دے — اور کسی صورت میں یہ چھ ماہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یعنی حکومت کے پاس اب زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کا وقت ہے۔
سیاسی طور پر اصل نقصان مذاکرات کا راستہ بند ہونا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کا مذاکرات ختم کرنے کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق اب بات چیت کے بجائے آئینی اور عدالتی محاذ پر لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست پہلے ہی زیر سماعت ہے، اور آنے والے ہفتوں میں یہ معاملہ عدالتوں میں بھی اتنا ہی گرم رہے گا جتنا ایوان میں رہا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)