Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

فتح-2 کا توسیع شدہ ورژن: پاکستان کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کامیاب — ایک ہفتے میں دوسرا بڑا تجربہ

پرواز کے دوران بیلسٹک میزائل کے تجربے کی علامتی تصویر

راولپنڈی — پاکستان نے منگل 13 اکتوبر کو فتح-2 ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کے توسیع شدہ ورژن (ای آر) کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ میزائل جدید نیوی گیشن نظام اور جدید ترین ایویونکس سے لیس ہے، اور اپنے منفرد پرواز کے راستے اور حرکت پذیری کی صلاحیت کے باعث دشمن کے میزائل ڈیفنس نظام کو بھی ناکام بنا سکتا ہے۔

آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں کہا گیا کہ فتح-2 ای آر “اعلیٰ درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے اور اپنی منفرد پرواز کی ساخت اور حرکت پذیری کی خصوصیات کے باعث دشمن کے میزائل ڈیفنس نظام کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے”۔ اعلامیے کے مطابق میزائل کی توسیع شدہ رینج پاک فوج کی گہرے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت مزید بڑھائے گی۔ میزائل کی قطعی رینج تاہم نہیں بتائی گئی — ایسی معلومات عام طور پر ابہام میں ہی رکھی جاتی ہیں۔

تجربے کے موقع پر آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا، پاک فوج کے سینئر افسران اور میزائل پروگرام سے وابستہ سائنسدان و انجینئر موجود تھے۔ کمانڈر اے آر ایف سی نے سائنسدانوں اور انجینئروں کی “لگن اور تکنیکی مہارت” کو سراہا۔

صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے کامیاب تجربے پر ٹیم کو مبارکباد دی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے سائنسدانوں اور انجینئروں نے “قابل ستائش کارنامہ” انجام دیا ہے اور یہ دفاعی شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

یہ ایک ہفتے کے اندر پاکستان کا دوسرا بڑا میزائل تجربہ ہے — گزشتہ ہفتے فتح-4 کے توسیع شدہ ورژن کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا۔

یہ تجربہ کیوں اہم ہے؟ سب سے پہلی بات تو یہ کہ “ہائپرسونک” صرف ایک تکنیکی لقب نہیں۔ ایسا میزائل جو پرواز کے دوران اپنا راستہ بدل سکتا ہے، اسے روکنا عام بیلسٹک میزائل کے مقابلے میں کہیں مشکل ہوتا ہے — یہی وجہ ہے کہ ہائپرسونک صلاحیت کو جدید روک تھام (ڈیٹرنس) کا اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا، اس کی ٹائمنگ۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی ابھی پوری طرح تھمی نہیں، مشرقِ وسطیٰ میں میزائلوں اور ڈرونز کے تبادلے روزانہ کی خبر ہیں، اور اندرونِ ملک ڈی جی آئی ایس پی آر کی اسی ماہ کی اہم پریس بریفنگ کے بعد دفاعی امور خبروں میں ہیں۔ ایسے میں ایک ہفتے میں دو میزائل تجربے محض معمول کی مشق سے بڑھ کر ایک واضح پیغام بن جاتے ہیں: پاکستان کی روک تھام کی صلاحیت نہ صرف موجود ہے بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔

میڈیا کی نظریں اب اس بات پر بھی ہوں گی کہ آیا یہ رفتار برقرار رہتی ہے — کیونکہ جدید ہتھیاروں کی دوڑ میں پیغام اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا خود ہتھیار۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *