اسٹاک ہوم، 12 اکتوبر — رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے پیر کی سہ پہر 2026 کا معاشیات کا نوبیل انعام دو امریکی ماہرینِ معاشیات، رابرٹ ای ہال اور مائیکل وڈ فورڈ، کے نام کرنے کا اعلان کر دیا۔ دونوں کو یہ اعزاز “معاشی استحکام کی خرد معاشی بنیادوں” پر ان کی تحقیق کے اعتراف میں دیا گیا — وہ کام جس نے یہ سمجھنے کی صورت ہی بدل دی کہ معیشت کو کس طرح متوازن رکھا جا سکتا ہے۔
ہال اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر اور ہوور انسٹیٹیوشن کے سینئر فیلو ہیں، جبکہ وڈ فورڈ کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں پڑھاتے ہیں۔ یہ دونوں وہی نام ہیں جن کے ماڈل آج دنیا بھر کے مرکزی بینکوں اور حکومتوں کے فیصلوں کی بنیاد بنے ہوئے ہیں — جب سود کی شرح بڑھائی یا کم کی جاتی ہے، تو اس فیصلے کے پیچھے اکثر انھی کا فریم ورک کام کر رہا ہوتا ہے۔
اکیڈمی کے مطابق ان دونوں نے ایسے میکرواکنامک ماڈل تیار کیے جن کی بنیاد گھرانوں اور کمپنیوں کے چھوٹے، روزمرہ فیصلے ہیں — لوگ کب خریدتے ہیں، کتنی بچت کرتے ہیں، کمپنیاں قیمتوں کا تعین کیسے کرتی ہیں۔ ان ماڈلز نے یہ دکھایا کہ اگر مالیاتی اور مالی پالیسی کے اقدامات صحیح وقت پر اٹھائے جائیں تو معیشت کے اُتار چڑھاؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
انعام کمیٹی کے چیئرمین جان ہاسلر نے اعلان کے موقع پر کہا: “ان دونوں کی تحقیق نے ان ماڈلوں کی مستحکم نظریاتی بنیاد فراہم کی ہے جو آج دنیا بھر میں مرکزی بینک اور حکومتیں استعمال کرتے ہیں۔” انھوں نے مزید کہا کہ اب ہم معیشت پر آنے والے جھٹکوں — جیسے توانائی کے بحران یا گھرانوں کی خریداری میں اچانک تبدیلی — کا مقابلہ کرنے کے لیے کہیں بہتر انداز میں تیار ہیں۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ معاشیات کا یہ انعام دراصل الفریڈ نوبل کے اصل پانچ انعامات میں شامل نہیں۔ اسے 1968 میں سویڈن کے مرکزی بینک نے قائم کیا تھا اور پہلی بار 1969 میں دیا گیا۔ باضابطہ طور پر اسے “سویرئیگس رکس بینک انعام برائے معاشی علوم، الفریڈ نوبل کی یاد میں” کہا جاتا ہے۔ اس سال انعامی رقم 12 ملین سویڈش کرون ہے — تقریباً 12 لاکھ ڈالر۔ تقسیمِ انعامات کی تقریب 10 دسمبر کو اسٹاک ہوم کنسرٹ ہال میں ہوگی۔
رابرٹ ہال کی شہرت صرف اس تحقیق تک محدود نہیں۔ وہ 1978 سے امریکا کے این بی ای آر کے بزنس سائیکل ڈیٹنگ کمیٹی کے چیئرمین ہیں — یعنی وہی ادارہ جو باضابطہ طور پر طے کرتا ہے کہ امریکا میں کساد بازاری کب شروع ہوئی اور کب ختم۔ 2010 میں وہ امریکن اکنامک ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ ان کی سب سے مشہور تصانیف میں الون رابوشکا کے ساتھ مل کر “فلیٹ ٹیکس” کا نظریہ بھی شامل ہے۔
مائیکل وڈ فورڈ کی شہرت مالیاتی پالیسی کے ماہر کے طور پر ہے۔ جولیو روٹمبرگ کے ساتھ مل کر انھوں نے پہلے ایسے میکرواکنامک ماڈل تیار کیے جن میں قیمتوں کے “چپکے” ہونے کے رویے کو خرد معاشی بنیادوں پر سمجھایا گیا۔ ان کی تحقیق افراطِ زر کے اہداف اور سود کی شرح کے اصولوں کے شعبے میں بنیادی حوالہ بن چکی ہے، اور وہ متعدد مرکزی بینکوں کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔
اس اعلان کے ساتھ 2026 کے نوبیل سیزن کا اختتام ہو گیا۔ اس سے تین دن پہلے امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقہ کی نیوی پِلے کے نام ہوا تھا، جبکہ طب کا انعام دماغ کو روشنی سے کنٹرول کرنے والی تکنیک پر، طبیعیات کا برف کو دوربین بنانے والی تحقیق پر، کیمسٹری کا آئینے میں دکھنے والے مالیکیولز کے معمے پر اور ادب کا انعام یونانی دیومالا کو جدید لباس پہنانے پر این کارسن کو دیا گیا۔ گزشتہ سال معاشیات کا انعام جوئیل موکیر، فلپ اگیون اور پیٹر ہاوٹ نے “تخلیقی تباہی” پر تحقیق پر جیتا تھا۔
یہ اعزاز صرف دو سائنسدانوں کی ذاتی کامیابی نہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کا پیغام براہِ راست ہے — جہاں مہنگائی، توانائی کے جھٹکے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پالیسی فیصلے روزانہ کی سیاست کا حصہ ہیں۔ جس دور میں ایک غلط وقت پر اٹھایا گیا شرحِ سود کا فیصلہ کروڑوں گھرانوں کی خریداری کی طاقت بدل سکتا ہے، وہاں ہال اور وڈ فورڈ کے ماڈل کی اہمیت محض علمی نہیں، عملی بھی ہے۔
مزید پڑھیے:

قارئین کے تبصرے (0)