Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

ہم نیٹ ورک کا خالص منافع 78 فیصد گر گیا: ڈرامے چل رہے ہیں، اشتہارات کہاں گئے؟

ٹیلی ویژن شوٹنگ کے دوران اسٹوڈیو میں کیمرہ آپریٹر کا منظر

پاکستانی ڈرامے دیکھے جا رہے ہیں — ریکارڈ توڑے جا رہے ہیں۔ مگر وہ پیسے جو ان ڈراموں کو کامیاب بناتے تھے، تیزی سے کہیں اور جا رہے ہیں۔

ہم نیٹ ورک — وہ کمپنی جو ہم ٹی وی، ہم نیوز اور کئی دیگر چینلز کی مالک ہے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر لسٹڈ واحد ٹیلی ویژن نیٹ ورک ہے — نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے نتائج جاری کیے ہیں، اور اعداد و شمار ناخوشگوار ہیں۔ کمپنی کی مجموعی آمدنی 24 فیصد گھٹ کر 8.72 ارب روپے رہ گئی، جبکہ خالص منافع 1.24 ارب روپے سے گر کر محض 26.7 کروڑ روپے رہ گیا — 78 فیصد کی کمی۔

سب سے چونکا دینے والا نمبر آپریٹنگ منافع کا ہے: 1.38 ارب روپے سے سیدھا 8.2 کروڑ روپے — یعنی تقریباً 94 فیصد کی کمی۔ گراس منافع 3.31 ارب سے 2.21 ارب روپے ہو گیا، اور آپریٹنگ مارجن جو پچھلے سال تقریباً 12 فیصد تھا، اب ایک فیصد سے بھی کم رہ گیا۔ ایک ایسی کمپنی جس کا سالانہ منافع FY2024 میں تین ارب روپے کے قریب تھا، اب بمشکل کسر نہیں کھا رہی — اور یہ سب محض دو برس میں ہوا۔

اشتہارات کا بحران

ہم کی یہ حالت اچانک نہیں ہوئی، اور صرف اسی کی نہیں۔ پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (PACRA) کی فروری 2026 کی تحقیق کے مطابق ملک کا کل اشتہاری اخراجات FY2024 کے 114.6 ارب روپے سے گھٹ کر FY2025 میں 101.2 ارب روپے رہ گئے — 11.7 فیصد کی کمی۔ ٹیلی ویژن اشتہارات کو سب سے گہری چوٹ لگی: خرچ 50.1 ارب سے 41.5 ارب روپے رہ گیا، یعنی 17 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ۔

وجوہات کئی ہیں۔ غزہ جنگ کے بعد بین الاقوامی برانڈز کے بائیکاٹ کی مہمات نے ان بڑی کمپنیوں کے اشتہاری بجٹ متاثر کیے جو ٹیلی ویژن کے سب سے بڑے خریدار تھے۔ اکتوبر 2025 کی کارپوریٹ بریفنگ میں ہم کی انتظامیہ نے خود بائیکاٹ مہمات کو اشتہاری کمزوری کی اہم وجہ قرار دیا تھا، اور 2025 میں خطے میں فوجی کشیدگی کے دوران بڑے اشتہار کنندگان کے مہمات روکنے کا ذکر بھی کیا تھا۔

یہ صرف ہم کی کہانی نہیں

سب سے مضبوط ثبوت کہ یہ پوری صنعت کا مسئلہ ہے، حریف کمپنیوں کی حالت سے ملتا ہے۔ PACRA کے مطابق اے آر وائی کمیونیکیشنز کی آمدنی FY2025 میں تقریباً 22 فیصد گھٹ کر 15.2 ارب سے 11.9 ارب روپے رہ گئی، اور خالص منافع 1.34 ارب سے گر کر 19.9 کروڑ روپے رہ گیا۔ یعنی ملک کے سب سے بڑے اور مستحکم نشر کنندگان بھی اپنے مارجن بچانے میں ناکام ہیں۔ ٹیلی ویژن پر اچھی ناظرین تعداد اب منافع کی ضمانت نہیں رہی۔

ڈیویڈنڈ پھر بھی ملا

دلچسپ بات یہ ہے کہ منافع کے اس بحران کے باوجود ہم نے فی شیئر 0.50 روپے حتمی نقد ڈیویڈنڈ کی سفارش کی ہے، جس سے مالی سال کا کل ڈیویڈنڈ ایک روپے فی شیئر ہو جائے گا — تقریباً 1.13 ارب روپے کی تقسیم، جو گروپ کے خالص منافع سے کہیں زیادہ ہے۔ کمپنی کی وضاحت ہے کہ پیرنٹ کمپنی کی انفرادی آمدنی (1.2 ارب روپے، جو خود 43 فیصد کم ہوئی ہے) اس ادائیگی کا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ انتظامیہ شیئر ہولڈرز کا اعتماد قائم رکھنا چاہتی ہے — مگر سوال وہی ہے: اشتہاری مارکیٹ میں منافع کی واپسی کب ہوگی؟

اصل کھیل اب یوٹیوب پر ہے

اشتہارات کے فوری بحران سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ پاکستانی اب ٹیلی ویژن کا مواد ٹیلی ویژن پر دیکھے بغیر دیکھ رہے ہیں۔ مقبول ڈرامے یوٹیوب پر کروڑوں ویوز حاصل کرتے ہیں — ناظرین میں وہ پاکستانی بھی شامل ہیں جو بیرون ملک رہتے ہیں اور روایتی چینلز تک رسائی نہیں رکھتے۔ ہم کے لیے یہ دو دھاری تلوار ہے: یوٹیوب بین الاقوامی آمدنی کا دروازہ کھولتا ہے، لیکن اشتہاری پیکجز اور ریونیو شیئرنگ کے قوانین گوگل طے کرتا ہے، نہ کہ ہم۔ انتظامیہ نے ڈیجیٹل فرسٹ مواد، گیمنگ اور اینیمیشن میں توسیع کا اعلان کیا ہے، مگر ابھی یہ آمدنی براڈکاسٹنگ کے مقابلے میں معمولی ہے۔

یہ خبر کیوں اہم ہے

اس رپورٹ کا سب سے گہرا پیغام یہ ہے کہ ٹیلی ویژن کا پرانا کاروباری ماڈل — مقبول ڈرامے بناؤ، کروڑوں ناظرین لاؤ، انہیں اشتہار کنندگان کو بیچ دو — ٹوٹ رہا ہے، اور اسے توڑنے والا کوئی ایک حریف نہیں بلکہ پوری میڈیا معیشت کا رخ ہے۔ پاکستانی ڈرامے دیکھنا نہیں چھوڑیں گے، لیکن انہیں بنانے والی کمپنیوں کو اب پیسے کمانے کا بالکل مختلف راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔ جو نیٹ ورک اس تبدیلی کو پہلے سمجھے گا اور ڈیجیٹل تقسیم پر قابو پائے گا، وہی اگلے دور میں زندہ رہے گا — باقیوں کے لیے ناظرین کی محبت بل منافع میں نہیں بدلے گی۔

ٹیلی ویژن شوٹنگ کے دوران اسٹوڈیو میں کیمرہ آپریٹر کا منظر
Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *