Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کھیل

ہرمن پریت کور کے دور کا اختتام: سمرتی مندھانا بھارتی خواتین ٹیم کی نئی کپتان

بھارتی ویمن کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی اسمرتی مندھانا (شرٹ نمبر 18) ورلڈ کپ 2017 کے دوران میدان میں۔

خواتین کرکٹ میں ایک دور کا خاتمہ ہوا اور نئے دور کا آغاز۔ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے منگل، 6 اکتوبر کو اعلان کیا کہ ہرمن پریت کور تینوں فارمیٹس میں کپتانی سے دستبردار ہو گئی ہیں، اور ان کی جگہ اسمرتی مندھانا ٹیم کی نئی مستقل کپتان ہوں گی۔

ہرمن پریت، جو 37 سال کی ہیں، نے اس عہدے پر ایک تاریخی ورثہ چھوڑا ہے۔ ان کی قیادت میں بھارت نے گزشتہ سال اپنے گھر کے میدانوں پر پہلی بار 50 اوورز کا ورلڈ کپ جیتا — وہ خطابی جیت جو بھارتی خواتین کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا لمحہ قرار دی گئی۔ اعداد و شمار بھی ان کے حق میں بولتے ہیں: انہوں نے 5 ٹیسٹ، 51 ایک روزہ اور 155 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ٹیم کی قیادت کی، چار ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ اور دو ایشین گیمز گولڈ میڈل (تازہ ترین گزشتہ ماہ آئیچی۔ناگویا گیمز میں) بھی انہیں کے دور کی سوغات ہیں۔

بلندیوں سے وداع

سوشل میڈیا پر اپنے الوداعی پیغام میں ہرمن پریت نے لکھا کہ یہ آسان فیصلہ نہیں تھا — “اس میں برسوں کی یادیں، جذبات اور قربانیاں شامل ہیں”۔ انہوں نے واضح کیا کہ کھیل سے رخصت نہیں ہو رہیں: “میں نے اس ٹیم کو اپنا سب کچھ دیا۔ کپتانی ختم، مگر سفر جاری رہے گا۔” اور واقعی، زمبابوے کے خلاف ہونے والی ہوم سیریز کے لیے اعلان کردہ دونوں اسکواڈز میں ان کا نام بطور کھلاڑی شامل ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائکیا کے ساتھ گوہاٹی میں ہونے والی ایک اہم میٹنگ کے اگلے ہی دن سامنے آیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس میٹنگ میں خواتین ٹیم کے مستقبل کے روڈ میپ پر بات ہوئی تھی۔ یعنی یہ کسی ہار کے بعد کا ردعمل نہیں، بلکہ حکمت عملی کی منتقلی ہے۔

مندھانا کیوں فطری جانشین ہیں

سمرتی مندھانا 2013 سے بھارتی ٹیم کا ستون ہیں۔ اب تک 9 ٹیسٹ، 120 ایک روزہ اور 179 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل چکی ہیں، اور ہرمن پریت کی نائب کی حیثیت سے 18 ٹی ٹوئنٹی اور 4 ایک روزہ میچوں میں پہلے ہی ٹیم کی قیادت کر چکی ہیں۔ فرنچائز کرکٹ میں ان کا ریکارڈ تو اور بھی زبردست ہے — رائل چیلنجرز بنگلورو کو 2024 اور 2026 میں ویمنز پریمیئر لیگ کے خطاب دلانے والی کپتان۔

اپنی تعیناتی پر مندھانا کا کہنا تھا: “بھارت کی قیادت کی ذمہ داری ملنا میرے لیے ایک خاص اعزاز ہے۔ بھارت کی نمائندگی کرنا ہمیشہ میرے لیے بہت معنی رکھتا تھا، اور اب ٹیم کی قیادت کا موقع میرے لیے قیمتی ہے۔” انہوں نے ہرمن پریت کی خدمات کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس ذمہ داری کی سنگینی سمجھتی ہیں۔

تجزیہ: یہ منتقلی کیوں اہمیت رکھتی ہے

کھیلوں کی دنیا میں کپتان اکثر اس وقت تک عہدے سے چمٹے رہتے ہیں جب تک انہیں نکالا نہ جائے۔ ہرمن پریت نے اس روایت کو توڑا ہے — وہ ٹائٹل جیتنے والی کپتان کے طور پر، اپنی شرائط پر، بلندیوں سے وداع کہہ رہی ہیں۔ یہ بھارتی خواتین کرکٹ کی پختگی کی علامت ہے: ایک ایسا نظام جو جانشینی کی منصوبہ بندی کرتا ہے، نہ کہ بحران کا انتظار۔

مندھانا کے لیے پہلا امتحان جلد ہے۔ زمبابوے کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچ رائے پور میں 16، 18 اور 20 اکتوبر کو ہوں گے، جبکہ تین ایک روزہ میچ وڈودرا میں 23، 25 اور 28 اکتوبر کو شیڈول ہیں۔ شیفالی ورما ٹی ٹوئنٹی میں نائب کپتان اور دیپتی شرما ایک روزہ میں نائب ہوں گی — اور یہ ایک نئی شکل کی ٹیم ہوگی، کیونکہ جمیمہ روڈریگز ہیم اسٹرنگ انجری کے باعث باہر ہیں۔

اصل سوال اب یہ ہے: کیا مندھانا ہرمن پریت کی جارحانہ وراثت کو اپنا بنائیں گی، یا ٹیم کو اپنی شناخت دیں گی؟ خطاب جیتنے والی ٹیم کی کپتانی سنبھالنا آسان کام نہیں — توقعات کا پہاڑ ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی اس بوجھ کو سنبھال سکتی ہے تو وہ مندھانا ہی ہیں، جنہوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک بھارتی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی بن کر دکھایا ہے۔

خطے کے تناظر میں بھی یہ خبر اہم ہے۔ پاکستان سمیت بھارت کی حریف ٹیمیں نئے سائیکل کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، اور بھارت نے اپنا اگلا باب شروع کر دیا ہے۔ مقابلے کی شدت صرف بڑھے گی — اور یہ خواتین کرکٹ کے لیے اچھی خبر ہے۔

باکس: اہم نکات

  • فیصلہ: 6 اکتوبر 2026 کو بی سی سی آئی نے مندھانا کو آل فارمیٹ کپتان مقرر کیا
  • ہرمن پریت کا ریکارڈ: 5 ٹیسٹ، 51 ون ڈے، 155 ٹی ٹوئنٹی میں قیادت؛ 2025 ورلڈ کپ کی فاتح کپتان
  • مندھانا کا تجربہ: 18 ٹی ٹوئنٹی + 4 ون ڈے میں قائم مقام کپتانی؛ آر سی بی کو 2 ڈبلیو پی ایل خطاب
  • آئندہ چیلنج: زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز، ٹی ٹوئنٹی 16 اکتوبر سے رائے پور میں
Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *