Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

کے پی میں ایمرجنسی لگے گی یا نہیں؟ پی ٹی آئی کی مشترکہ کمیٹیوں کا ہنگامی اجلاس، وفاقی کابینہ آج فیصلہ کرے گی

پشاور میں خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی فائل فوٹو

اہم نکات:

• ہفتے کی رات پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس؛ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی شدید مخالفت — ایسے کسی اقدام کو «عوامی مینڈیٹ پر حملہ» قرار دے دیا۔

• وزیراعظم شہباز شریف نے آج صبح ساڑھے نو بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس بلایا ہے؛ ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں آپشن زیرِ غور۔

• ہفتے کو صدر آصف زرداری اور وزیراعظم کی ایوانِ صدر میں ملاقات؛ 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق۔

• مولانا فضل الرحمان کی ثالثی جاری؛ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ جاری رہے گا مگر مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا ہے۔

• تجویز کردہ منصوبے کے مطابق ابتدائی طور پر بارہ اضلاع میں دو ماہ کی ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے۔

پشاور/اسلام آباد — خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے سوال نے ملکی سیاست کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر فریق اپنے اگلے قدم کا حساب لگا رہا ہے۔ ہفتے کی رات پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی اور کور کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی کسی بھی ممکنہ کوشش کی شدید مخالفت کی گئی اور اسے صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور جاری لانگ مارچ پر غور کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی قدم سیاسی کشیدگی، عوامی بے چینی اور صوبے میں محرومی کے احساس میں مزید اضافہ کرے گا۔ اجلاس میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق، امن اور ترقی کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

دوسری طرف وفاقی حکومت کا رخ مزید سخت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہفتے کو وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے ایوانِ صدر میں ملاقات کی جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور مشیرِ سیاسی امور رانا ثنا اللہ بھی شریک تھے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے آپشن پر غور ہوا اور طے پایا کہ آج صبح ساڑھے نو بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس بلایا جائے گا جس میں اس تجویز پر حتمی فیصلہ ہوگا۔ رپورٹنگ کے وقت تک کابینہ کی جانب سے کوئی باقاعدہ اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔

ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والے منصوبے کے مطابق ابتدائی طور پر صوبے کے بارہ حساس اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔ ان میں آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع — خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور لوئر وزیرستان — جبکہ چار آباد اضلاع — ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت — شامل ہیں۔ تجویز ہے کہ ان اضلاع کے لیے صوبائی حکومت کے موجودہ نظام سے الگ ایک خصوصی انتظامی ڈھانچہ بنایا جائے جس کی سربراہی گریڈ 21 کے ایک سیکریٹری کریں گے۔ ایمرجنسی ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے لگائی جائے گی جس کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر اس میں توسیع کا فیصلہ ہوگا۔

اس دوران مولانا فضل الرحمان متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہفتے کو وزیراعظم سے ملاقات میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی بجائے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے ذریعے بحران حل کرنے پر زور دیا، جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور اسد قیصر سے ملاقات میں انہیں حکومت کے ممکنہ اقدام سے آگاہ کیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ لانگ مارچ جاری رہے گا، مگر ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی، تاہم مسائل کا حل بات چیت سے ہی نکلنا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے اندر بھی صورتحال سادہ نہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی صدر جنید اکبر نے پارٹی کارکنوں کو صوابی کی بجائے پشاور پہنچنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کمیٹیوں کے درمیان اختلافات کی خبروں کی پارٹی نے تردید کی ہے۔ پی ٹی آئی نے عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور جماعتِ اسلامی کے جمہوری مؤقف کا خیر مقدم بھی کیا اور دیگر جماعتوں سے آئینی بالادستی کے تحفظ میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

یہاں اصل کھیل دباؤ کا ہے۔ وفاقی حکومت کے پاس ایمرجنسی کی دھمکی ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے وہ لانگ مارچ کو صوابی میں روکنے کے لیے پی ٹی آئی پر دباؤ بڑھانا چاہتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اس دھمکی کو اپنے بیانیے کا ایندھن بنا رہی ہے — سڑک پر بھی اور عدالت میں بھی۔ آئین کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کو پارلیمنٹ کی توثیق درکار ہوتی ہے، اور اسی تناظر میں 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانا اہم ہے۔ اگر کابینہ آج منظوری دے دیتی ہے تو مشورہ صدر کو بھیجا جائے گا، اور پھر گیند پارلیمنٹ اور ممکنہ طور پر عدالتوں کے کورٹ میں ہوگی۔

آج صبح کی کابینہ میٹنگ سے یہ واضح ہو جائے گا کہ وفاق دباؤ کی سیاست سے آگے بڑھ کر عملی قدم اٹھاتا ہے یا مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کو ایک اور موقع دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں خیبر پختونخوا اگلے چند دن ملکی سیاست کا مرکز رہے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *