اسٹاک ہوم — رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے بدھ کو 2026 کا کیمسٹری کا نوبیل انعام فرانس کے هنری بی. کاگن اور جاپان کے کینسو سوائی کے نام کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں سائنس دانوں کو یہ اعزاز “غیر متجانس نامیاتی ترکیب میں غیر خطی اثرات اور خود تحریکی (آٹوکیٹالیسس) کی دریافت” پر دیا گیا — ایک ایسا کام جس نے سائنس کے سو سال سے زیادہ پرانے معمے کا جواب دے دیا۔
مسئلہ بڑا سادہ لگتا ہے، مگر اس کا جواب دہائیوں تک کسی کے پاس نہیں تھا۔ قدرت کے بہت سے مالیکیول دو شکلوں میں پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کی آئینے میں دکھنے والی تصویر ہوتی ہیں — بالکل بائیں اور دائیں ہاتھ کی طرح۔ کیمسٹری میں انہیں “کائرل” مالیکیول کہا جاتا ہے، یہ لفظ یونانی زبان کے “ہاتھ” سے آیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ زندگی اپنے پروٹین اور خلیوں میں تقریباً ہمیشہ صرف ایک ہی شکل استعمال کرتی ہے۔ دوسری شکل قدرت میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی رجحان کو “ہوموکائرلٹی” کہتے ہیں، اور ایک صدی سے کیمیا دان یہی پوچھ رہے تھے: آخر قدرت نے ایک ہی ہاتھ کیوں چنا؟
95 سالہ کاگن نے 1986 میں پہلا فیصلہ کن قدم اٹھایا تھا۔ انہوں نے دکھایا کہ کیمیائی ردعمل کو اس طرح موڑا جا سکتا ہے کہ مطلوبہ شکل پہلے سے کہیں زیادہ مقدار میں بنے۔ یہ دریافت دوا سازی کے لیے انقلابی ثابت ہوئی، کیونکہ آج کی بہت سی دوائیں انہی آئینے جیسی شکلوں پر کھڑی ہیں۔ نوبیل کمیٹی کے رکن پیٹر سومفائی کے بقول، کسی دوا کی ایک شکل علاج کر سکتی ہے تو دوسری بے اثر یا نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے — اسی لیے ہر شکل کو الگ الگ اور خالص بنانے کے طریقے ناگزیر ہیں۔
سوائی نے اس کام کو آگے بڑھایا۔ 1995 میں انہوں نے پہلے ایسے کیمیائی ردعمل کا خاکہ پیش کیا جو خود بخود ہوموکائرل ہو سکتا تھا، اور 2003 میں انہوں نے اسے کر کے دکھا دیا۔ ان کے نام سے موسوم “سوائی ری ایکشن” میں مالیکیول خود اپنی ہی ایک شکل کو بڑھاتا چلا جاتا ہے — ایک چھوٹا سا ابتدائی فرق ردعمل کے دوران بہت بڑے فرق میں بدل جاتا ہے۔ یہ پہلا ٹھوس ثبوت تھا کہ ہوموکائرلٹی محض جانداروں کا خاصہ نہیں، اسے لیبارٹری میں بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔
نوبیل کمیٹی برائے کیمسٹری کے سربراہ ہائنر لنکے نے اعلان کے موقع پر کہا: “هنری کاگن اور کینسو سوائی نے ایک صدی سے زیادہ پرانے کیمیائی معمے کا حل دے دیا ہے: ہوموکائرلٹی خود بخود کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے تیار کردہ کیمیائی ردعمل حیرت انگیز ہیں۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوائی کو یہ خبر اس وقت ملی جب وہ خریداری کے لیے باہر نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے نوبیل پریس کانفرنس میں فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے دلچسپ دن ہے اور وہ کاگن کے ساتھ یہ انعام بانٹ کر خوش ہیں۔ اعلان کے وقت کمیٹی کاگن سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
کاگن کے لیے یہ لمحہ ایک پرانی کسک کا مداوا بھی ہے۔ 2001 میں اسی شعبے — غیر متجانس ترکیب — پر نوبیل انعام تین دیگر سائنس دانوں کو دے دیا گیا تھا، حالانکہ کاگن اس میدان کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس وقت فرانس کے وزیر سائنس نے کھل کر احتجاج کیا تھا۔ پچیس سال بعد، اسی کام کی بنیاد پر ملنے والا نوبیل اس ناانصافی کا ازالہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
دونوں فاتحین بارہ ملین سویڈش کرونر (تقریباً بارہ لاکھ امریکی ڈالر) کی انعامی رقم برابر بانٹیں گے۔ تمغے اور اسناد کی تقریب 10 دسمبر کو اسٹاک ہوم میں ہوگی، جہاں سویڈن کے بادشاہ کارل شانزدہم گستاف یہ اعزاز عطا کریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال یہ انعام دھاتی نامیاتی ڈھانچوں (میٹل آرگینک فریم ورکس) پر کام کرنے والے تین سائنس دانوں کو ملا تھا۔
یہ انعام کیوں اہم ہے
یہ نوبیل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بڑی سائنسی کامیابیاں اکثر شور شرابے والی ایجادات نہیں ہوتیں، بلکہ بنیادی سوالوں کے صبر آزما جواب ہوتی ہیں۔ کاگن کا 1986 کا کام اور سوائی کا 2003 کا تجربہ — دونوں کو تسلیم ہونے میں دہائیاں لگیں، مگر آج دنیا میں بننے والی ہر جدید دوا، ہر خوشبو اور ہر نیا مواد انہی اصولوں پر کھڑا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر، یہ دریافت زندگی کی ابتدا کے سب سے گہرے سوال سے جڑی ہے: اگر کیمسٹری خود ایک ہاتھ چن سکتی ہے، تو شاید اربوں سال پہلے زمین پر زندگی کے آغاز میں بھی یہی عمل کارفرما تھا۔ نوبیل کمیٹی نے اسی لیے اسے “بنیادی کیمسٹری” کا انعام کہا — وہ کیمسٹری جو لیبارٹری سے نکل کر ہماری روزمرہ زندگی اور ہماری ابتدا دونوں کو چھوتی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)