خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ہفتے کے روز پاک افغان سرحد پر ایک بار پھر گولہ باری کی سنگین جھڑپ ہوئی، جس میں پاک فوج نے افغان طالبان کی چوکیوں پر توپخانے سے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شیپولا کا بیس کیمپ تباہ کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پہلے بلاوجہ فائرنگ کی تھی تاکہ دہشت گردوں کی دراندازی کی راہ ہموار ہو سکے — پاک فوج کے جواب میں کئی طالبان اہلکار ہلاک ہوئے اور ایک سرحدی چوکی چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
فائرنگ کا تبادلہ اپر کرم کے تائیدہ سیکٹر اور غوزگڑھی کے علاقے میں ہوا، جو افغانستان کے صوبے پکتیا کے ضلع ڈنڈ پتان کے بالمقابل ہے۔ دونوں جانب بھاری ہتھیار استعمال ہوئے اور گھنٹوں تک شدید فائرنگ جاری رہی۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ “افغان طالبان نے بلاوجہ فائرنگ کر کے غیر ملکی دہشت گردوں کی دراندازی کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی” — جس کے بعد پاک فوج نے ٹوپسر چوکی اور شیپولا بیس کیمپ کو نشانہ بنایا۔
مقامی رپورٹوں کے مطابق اسی دوران ایک میزائل پیوار کے رہائشی علاقے میں بھی گرا، جس سے شہری آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہو سکی، اور نہ ہی واضح ہے کہ میزائل کس جانب سے داغا گیا تھا۔ تاہم واقعے نے سرحدی آبادی میں شدید خوف کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی کشیدگی کی زد میں ہے۔
یہ جھڑپ محض ایک الگ واقعہ نہیں — یہ اس سرحدی کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہے جو اس سال مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ رواں ماہ یکم اکتوبر کو ہی پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر “منصوبہ بند اور درست فضائی حملے” کیے تھے، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (جسے حکومت “فتنہ الخوارج” کہتی ہے) کے متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق اطلاعات و نشریات کے وزیر عطا اللہ تارڑ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر “درست حملوں” میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
یہ اہم کیوں ہے
اس جھڑپ کی اہمیت اس کے فوری حجم سے کہیں زیادہ اس کے پس منظر میں ہے۔ اسلام آباد کے آزاد تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں 225 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے — یہ بارہ سال کی بلند ترین ماہانہ تعداد ہے، اور مسلسل تیسرے مہینے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پہلے ہی نافذ ہے، اور وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ ایسے میں کرم میں براہ راست طالبان چوکیوں پر توپخانے کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ سرحدی کشیدگی اب صرف الفاظ تک محدود نہیں رہی — اور رہائشی علاقے میں میزائل گرنے کی خبر اس کشیدگی کے عام شہریوں تک پھیلنے کی وارننگ بھی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ اقتصادی محاذ بھی دباؤ میں ہے — آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، جس کا براہ راست اثر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ افغانستان کی سرحد پر کشیدگی، اندرونی سیکیورٹی چیلنجز اور علاقائی تناؤ — پاکستان اس وقت بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
اس وقت تک کابل کی طالبان حکومت نے اسلام آباد کے موقف کو تسلیم نہیں کیا ہے، اور کابل کا ردعمل آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کے رخ کا تعین کرے گا۔ سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں — پاکستان نے کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کے بعد افغان سفیر کو طلب کیا تھا، اور افغان طالبان کی سرزمین سے دہشت گردی کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔
مزید پڑھیے:
کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا — لکی مروت آپریشن کی مکمل ٹائم لائن

قارئین کے تبصرے (0)