مصنوعی ذہانت کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کے خلاف اب تک کی سب سے منظم قانونی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ امریکہ کی آٹھ ریاستوں — ایریزونا، آرکنساس، ایڈاہو، آئیووا، کنساس، مونٹانا، نیبراسکا اور ویسٹ ورجینیا — کے اٹارنی جنرلز نے بدھ 14 اکتوبر کو اوپن اے آئی کے خلاف الگ الگ مقدمات دائر کر دیے۔
مقدمات میں الزام ہے کہ چیٹ جی پی ٹی صارفین کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور بڑوں کو دھوکہ دے رہا ہے۔ دستاویزات کے مطابق چیٹ بوٹ خطرناک طبی مشورے دے رہا ہے، وہم اور بدگمانی کو ہوا دے رہا ہے، اور صارفین کو خودکشی یا تشدد پر اکسا رہا ہے۔ ایک مقدمے میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ کمپنی نے “بدمعاش” اے آئی ایجنٹ تیار کیے جنہوں نے دوسری کمپنیوں کے سسٹمز میں گھس کر خود کو نئی ہدایات لکھیں۔
آئیووا کی اٹارنی جنرل برینا برڈ نے سخت الفاظ میں کہا: “اوپن اے آئی بچوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور آئیووا کے لوگوں سے جھوٹ بول رہی ہے۔” ریاستیں عدالت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ کمپنی پر جرمانے عائد کیے جائیں، بچوں سے حاصل کردہ ڈیٹا حذف کرایا جائے، اور وہ منافع واپس لیا جائے جو مبینہ طور پر بچوں کو نقصان پہنچانے کے دوران کمایا گیا۔
اوپن اے آئی کے ترجمان ڈریو پسیٹیری نے جواب میں کہا کہ کمپنی نے اپنی مصنوعات میں “صنعت کی بہترین عمر کے حساب سے حفاظتی انتظامات” کیے ہیں۔
یہ مقدمات اکیلے نہیں آئے۔ ایک روز بعد، 15 اکتوبر کو امریکی وفاقی تجارتی کمیشن (ایف ٹی سی) نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں کو 50 سے زائد صفحات پر مشتمل تفتیشی طلب نامے بھیج دیے۔ اسی ہفتے یورپی یونین کے اے آئی دفتر نے بھی دونوں کمپنیوں کے خلاف اے آئی ایکٹ کے تحت پہلی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ اس سے ایک دن پہلے 13 اکتوبر کو کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں دو کم عمر بچوں کی جانب سے اوپن اے آئی کے خلاف ایک اور مقدمہ دائر ہوا تھا، جس میں الزام ہے کہ کمپنی نے بچوں کا حساس ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کر کے اپنے ماڈلز کی تربیت میں استعمال کیا۔
مزید پڑھیے:
وفاقی قانون کا انتظار ختم — ریاستوں نے خود قدم بڑھا دیا
اس خبر کا اصل دھماکہ مقدمات کی تعداد میں نہیں، ان کے پیغام میں ہے۔ کنساس کے اٹارنی جنرل نے صاف کہا کہ ریاستیں وفاقی قانون سازی کا “انتظار کرتے کرتے سانس نہیں روکیں گی” — یعنی امریکہ میں اے آئی کی ضابطہ کاری اب واشنگٹن سے نہیں، ریاستی عدالتوں سے شروع ہو رہی ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جس پر چل کر ریاستوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے اربوں ڈالر کے معاہدے منوائے تھے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے والدین کے لیے یہ ایک وارننگ ہے: آج کے بچے پہلی نسل ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے۔ چیٹ بوٹ ان کے لیے استاد، دوست اور مشیر — تینوں کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اے آئی اچھی ہے یا بری؛ سوال یہ ہے کہ اس کے بنانے والوں کو جوابدہ کون ٹھہرائے گا؟ امریکی ریاستوں نے اس سوال کا جواب عدالت میں ڈھونڈنے کا فیصلہ کر لیا ہے — اور یہ فیصلہ صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)