ویٹیکن سٹی: کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے جمعے کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر بات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے روسی مقبوضہ شہر اولیشکی میں خوراک اور ادویات پہنچانے کے لیے جنگ بندی کی جائے۔ ویٹیکن کے مطابق پوپ نے شہر میں شہریوں کی “سنگین انسانی صورتحال” پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہاں پھنسے عام شہریوں کو رضاکارانہ اور محفوظ طور پر نکلنے کی اجازت دی جائے۔
یہ فون کال اس لحاظ سے بھی غیرمعمولی تھی کہ 71 سالہ پوپ نے یہ بات روم کے جیمیلی اسپتال سے کی، جہاں وہ منگل کو پھیپھڑے کے ایک غدود کے آپریشن کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں۔ ویٹیکن کے ترجمان کے مطابق پوپ کی طبیعت میں “مسلسل بہتری” آ رہی ہے اور وہ اب کام کرنے اور روزمرہ کی سرگرمیوں کی حالت میں ہیں۔
اولیشکی میں کیا ہو رہا ہے؟
اولیشکی یوکرین کے جنوبی علاقے خیرسون کا ایک قصبہ ہے جو فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے روسی قبضے میں ہے۔ ویٹیکن کے بیان کے مطابق وہاں خوراک کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے یوکرین میں انسانی حقوق کی نگرانی کے مشن کی سربراہ ڈینیئل بیل کے مطابق جنگ سے پہلے اس شہر کی آبادی تقریباً 24 ہزار تھی، جبکہ اب وہاں صرف تقریباً ایک ہزار سات سو افراد رہ گئے ہیں — جن میں 47 بچے بھی شامل ہیں۔
یوکرین کا الزام ہے کہ روس اولیشکی میں “جان بوجھ کر انسانی تباہی” پیدا کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس نے تسلیم کیا ہے کہ شہر میں خوراک اور طبی سہولتوں کے سنگین مسائل ہیں، تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس کی فوج ان مسائل کے حل پر کام کر رہی ہے اور امداد کی فراہمی میں رکاوٹ یوکرین ڈال رہا ہے۔
کریملن کا جواب: تعاون پر رضامندی
روسی صدارتی محل کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پیوٹن نے شہر کی آبادی کی حفاظت کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے اور اہم رسد منظم کرنے کے ویٹیکن کے ارادے کی “حمایت” کی ہے۔ بیان کے مطابق “اس معاملے میں تعاون پر اتفاق ہوا ہے۔”
یہ پوپ لیو کے دور میں پیوٹن سے ان کی صرف دوسری فون کال تھی — اس سے پہلے دونوں رہنماؤں کی بات چیت جون 2025 میں ہوئی تھی۔ ویٹیکن نے یہ بھی کہا کہ پوپ نے “امن کے لیے مکالمے اور کوششوں” کے لیے ہولی سی کے عزم کی توثیق کی۔
اسپتال سے ہی ڈیوٹی پر
جمعے کو ویٹیکن نے سرجری کے بعد پوپ کی پہلی تصاویر بھی جاری کیں، جن میں وہ جیمیلی اسپتال کے ایک عارضی چیپل میں قربان گاہ پر کھڑے ہو کر ماس ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ترجمان میٹیو برونی کے مطابق پوپ نے اکیلے یہ مذہبی رسم ادا کی اور طبی عملے کو کمیونین دیا۔ ویٹیکن کے مطابق پوپ اتوار کو روایتی اینجلس دعا پڑھیں گے، جو آپریشن کے بعد ان کی پہلی عوامی ظہور ہوگی۔ ان کی تمام عوامی ملاقاتیں 20 اکتوبر تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ پوپ لیو چہاردہم (اصل نام رابرٹ فرانسس پریووسٹ) مئی 2025 میں پوپ فرانسس کے انتقال کے بعد منتخب ہوئے تھے اور امریکا سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ ہیں۔
یہ خبر کیوں اہم ہے
ویٹیکن ان چند عالمی اداروں میں سے ایک ہے جن سے ماسکو اب بھی بات کرتا ہے — اور مقبوضہ علاقوں میں انسانی راہداریوں کا معاملہ اس جنگ کا ایک مسلسل متنازع نکتہ رہا ہے۔ اس فون کال کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ کریملن کی “تعاون” کی یقین دہانی محض الفاظ رہتی ہے یا اولیشکی کے پھنسے ہوئے شہریوں تک واقعی خوراک اور دوا پہنچتی ہے۔ یوکرین کے لیے یہ سوال محض ایک قصبے کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ آیا بین الاقوامی دباؤ مقبوضہ علاقوں میں شہریوں کی حالت بدل سکتا ہے۔
اس ہفتے یوکرین سے متعلق پیش رفتوں کا سلسلہ جاری ہے — اس سے پہلے یورپی یونین کے سربراہان نے ٹرمپ کی تنقید کے باوجود زیلنسکی کی حمایت کا اعلان کیا تھا، اور رائٹرز نے انکشاف کیا تھا کہ یوکرین کے لیے اسٹار شیلڈ سسٹم سست کرنے کا حکم وائٹ ہاؤس کے اندر سے آیا تھا۔
پاکستان کے لیے بھی اس جنگ کا تسلسل براہ راست اہمیت رکھتا ہے: یوکرین پر روسی حملوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، اور عالمی منڈی میں مہنگا تیل پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر سیدھا اثر ڈالتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)