Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دے دی

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی تصویر

اسلام آباد — پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے جمعرات کی صبح خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان اور گورنر راج کی توثیق کر دی۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہونے والے اجلاس میں ایمرجنسی کی قرارداد 240 ووٹوں کے حق اور 46 کے خلاف سے منظور ہوئی، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی قرارداد بھی اکثریت سے پاس ہو گئی۔

اجلاس کے آغاز میں پشاور کے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے جاں بحق بچوں کے لیے نماز اور فاتحہ خوانی کی گئی۔

کارروائی کا آغاز ایک طریقہ کار کی تحریک سے ہوا۔ وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے پارلیمنٹ (مشترکہ اجلاس) رولز 1973 کے رول 232 کے تحت کچھ ذیلی قواعد معطل کرنے کی تحریک پیش کی۔ اپوزیشن کے “ایمرجنسی نامنظور” کے نعروں، پلے کارڈز اور شور کے درمیان سپیکر نے اراکین کو کھڑے ہو کر ووٹ دینے کو کہا — تحریک 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور ہو گئی۔

اس کے بعد چودھری نے دو قراردادیں ایوان کے سامنے رکھیں — ایک آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق، اور دوسری آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے اعلان کی توثیق۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ اجلاس ایمرجنسی کی قرارداد کو کل اکثریت — یعنی 51 فیصد — سے مسترد کر سکتا تھا، اور گورنر راج کی توثیق کے لیے بھی کل اکثریت درکار تھی۔ تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت والی کے پی حکومت کو بار بار دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کا مشورہ دیا گیا، مگر پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والوں کے کسی جنازے میں شرکت نہیں کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے دوران کے پی کے معاملات چلانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے حکمرانوں کے “غلط فیصلوں” کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کہاں ہیں — جن کی حکومت اب غیر فعال ہو چکی ہے اور جن کے حفاظتی حراست میں ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اچکزئی نے کے پی کے معاملے کا موازنہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے کیا۔ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھتے ہوئے انہوں نے کہا: “اگر آپ ان مسائل پر مذاکرات کریں گے تو ہم غیر مشروط حمایت دیں گے۔”

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پی ٹی آئی سے اپنے لانگ مارچ کے ایجنڈے کی وضاحت مانگی اور کہا کہ اپوزیشن حکومت کو حکم نہ دے اور حب الوطنی پر لیکچر نہ دے۔

اس فیصلے کا مطلب کیا ہے؟

آئینی سلسلہ یوں مکمل ہوا: 11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا اعلان کیا تھا۔ بدھ کو قومی اسمبلی اور سینیٹ نے الگ الگ اجلاسوں میں ایمرجنسی کی توثیق کی، جس سے آرٹیکل 232 کی دس روزہ شرط پوری ہو گئی۔ آج کے مشترکہ اجلاس نے اس سلسلے کی آخری کڑی جوڑ دی۔

آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے ہوتا ہے؛ مشترکہ اجلاس کی منظوری سے اس میں توسیع ہو سکتی ہے، مگر مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے دفاتر خالی کریں گے۔ صوبے کا انتظام گورنر فیصل کریم کنڈی 11 رکنی مشاورتی کونسل کے ساتھ وفاق کی نمائندگی میں چلائیں گے، اور فوج سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعینات رہے گی۔

حکومت کا موقف ہے کہ گزشتہ ایک سال میں خیبر پختونخوا میں 3,787 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے، صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی میں وفاق سے تعاون میں ناکام رہی، اور صوبے میں آئینی مشینری ٹوٹ چکی تھی — اسی لیے یہ غیر معمولی اقدام اٹھانا پڑا۔

آگے کیا ہوگا؟

پی ٹی آئی کے پاس اب فوری قانونی راستہ عدالت ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان بدھ کو ہی پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر چکے ہیں — آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواست میں 11 اکتوبر کے اعلان کو غیر آئینی قرار دینے اور وزیراعلیٰ و کابینہ کی بحالی کی استدعا کی گئی ہے۔

سیاسی محاذ پر کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ محمود اچکزئی نے خبردار کیا ہے کہ اگلا گورنر راج سندھ میں لگ سکتا ہے، جبکہ اپوزیشن “ایمرجنسی نامنظور” کی مہم جاری رکھنے کا اعلان کر چکی ہے۔ دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صوبے میں امن کی بحالی تک عارضی ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟

یہ پہلا موقع ہے جب ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں کو پارلیمنٹ کا مکمل آئینی مینڈیٹ مل گیا ہے — قومی اسمبلی، سینیٹ اور مشترکہ اجلاس، تینوں سطحوں سے توثیق۔ اس کے ساتھ ہی خیبر پختونخوا میں وفاق کی براہ راست عملداری کو وہ آئینی تحفظ حاصل ہو گیا ہے جسے عدالت میں چیلنج کرنا پی ٹی آئی کے لیے اب کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔

مزید پڑھیے:

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی — لائیو اپڈیٹس

قومی اسمبلی سے کے پی ایمرجنسی کی توثیق

قرارداد کا متن قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی شائع کیا گیا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *