Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب

ایسٹ ریور کے پار سے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر کا منظر، نیویارک۔

نیویارک میں تاریخی موقع

وزیراعظم شہباز شریف آج نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے سیاسی کیریئر میں چوتھی مرتبہ خطاب کر رہے ہیں۔ یہ اعزاز انہیں پاکستان کی تاریخ کے چند منتخب حکمرانوں میں شامل کر دیتا ہے جنہیں عالمی فورم پر ملک کی نمائندگی کا بار بار موقع ملا۔ اس سے قبل وہ 2022، 2024 اور 2025 میں بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کر چکے ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان تین بار اور نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ایک بار یہ موقع حاصل کر چکے ہیں۔

خطاب کے اہم نکات

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے خطاب کا مرکزی محور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، فلسطینی ریاست کا قیام، اور خطے میں پائیدار امن کی ضرورت متوقع ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے واضح کیا جا چکا ہے کہ پاکستان کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط نہ ہو۔ اس کے علاوہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ کردار اور خطے میں ثالثی کی کوششوں کا بھی ذکر متوقع ہے۔

سفارتی سرگرمیاں عروج پر

جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کئی عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پہلے ہی نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ سمیت مختلف ممالک کے حکام سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ پاکستانی وفد کی جانب سے اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی کے موضوعات پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تسلسل

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ چوتھا خطاب پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تسلسل اور استحکام کا عکاس ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے عالمی فورمز پر اپنا مؤقف نہایت واضح انداز میں پیش کیا ہے، خاص طور پر مسئلہ کشمیر، افغانستان کی صورتحال، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر۔ ماہرین کے مطابق اس بار بھی خطاب میں پاکستان کے معاشی چیلنجز، آب و ہوا سے متعلق نقصانات کے ازالے کے لیے عالمی برادری سے تعاون کی اپیل، اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر شامل ہو گا۔

عوامی اور سیاسی حلقوں کا ردعمل

ملک بھر میں سیاسی و عوامی حلقے وزیراعظم کے خطاب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ یہ خطاب پاکستان کے سفارتی وقار میں اضافے کا باعث بنے گا، جبکہ حزبِ اختلاف کے کچھ رہنما داخلی معاشی مسائل کو ترجیح دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بہرحال، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے خطاب ہمیشہ سے پاکستان کے لیے اپنا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھنے کا اہم ذریعہ رہا ہے۔

نتیجہ

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ چوتھا خطاب نہ صرف ذاتی سیاسی کیریئر کے حوالے سے اہم ہے بلکہ پاکستان کی عالمی سفارت کاری کے تناظر میں بھی نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس خطاب کے اثرات اور عالمی برادری کے ردعمل پر مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *