Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

وائٹ ہاؤس کے حکم پر یوکرین کا اسٹار لنک سست — فرنٹ لائن پر رابطے منقطع، زیلنسکی: شہریوں کی جانیں خطرے میں

رات کو لانچ ہوتا فالکن 9 راکٹ جو اسٹار لنک کے سیٹلائٹس کو مدار میں لے جا رہا ہے

رائٹرز نے جمعرات کو دو امریکی اہلکاروں اور ایک مغربی اہلکار کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ یوکرین کی فوج کے لیے سیٹلائٹ مواصلاتی سسٹم اسٹار شیلڈ کو سست کرنے کا حکم امریکی وائٹ ہاؤس کے اندر سے آیا تھا۔ تینوں اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ محکمہ دفاع کے رہنماؤں کو پیغام موصول ہوا کہ اسپیسی ایکس کے اسٹار شیلڈ سسٹم کی رفتار کم کی جائے — تاہم اہلکاروں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وائٹ ہاؤس میں فیصلہ کس نے کیا اور اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری کس کو سونپی گئی۔

رائٹرز کی ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں 14 اکتوبر کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے نافذ ہوئیں: یوکرینی فوج کے لیے اسٹار لنک سسٹم کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ (100 میل فی گھنٹہ) تک محدود کر دی گئی۔ تیز رفتار حرکت کرنے والی اشیاء پر لگے فوجی درجے کے اسٹار لنک ریسیورز نے کام کرنا بند کر دیا، جس سے یوکرین کے درمیانی فاصلے کے حملہ آور ڈرونز اور روس کے جیٹ سے چلنے والے حملہ آور ڈرونز کو روکنے والے انٹرسیپٹر ڈرونز کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی۔ یوکرین کی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے بتایا کہ جمعرات کو ریسیورز حرکت میں تو دوبارہ کام کرنے لگے، مگر صرف 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک؛ جبکہ ڈرون انڈسٹری کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ “کہیں سسٹم بالکل ٹھیک چل رہا ہے، کہیں نہیں”۔

فرنٹ لائن پر اس کے اثرات فوری اور سنگین نکلے۔ مشرقی یوکرین کے ڈونباس علاقے میں لڑنے والی توپ خانے کی ایک یونٹ کے 28 سالہ اہلکار، جسے اس کے کوڈ نام “یوکرلان” سے شناخت کیا گیا، نے رائٹرز کو بتایا کہ ہیڈکوارٹر سے رابطہ منقطع ہو گیا اور ان کی پوزیشن پر انٹرنیٹ کی رفتار نمایاں طور پر گر گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اسٹار لنک کی خرابی کی خبر پھیلی، اثر محسوس ہونے لگا۔ یہ اس جنگ میں ہوا ہے جہاں ڈرونز کا مسلسل خطرہ منڈلاتا ہے اور اہداف و خطرات کی تازہ ترین معلومات زندگی اور موت کا فرق بنا سکتی ہیں۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعے کو برسلز میں یورپی رہنماؤں کو بتایا کہ اسٹار لنک کی سروس بہتر تو ہوئی ہے مگر ابھی مکمل بحال نہیں ہوئی — اور ان کے بقول اس سے شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ زیلنسکی پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ “کوئی تکنیکی مسئلہ نہیں تھا، یہ مرضی تھی” — یعنی پابندی جان بوجھ کر لگائی گئی۔

البتہ ایک سینئر امریکی اہلکار نے رائٹرز سے اس حکم کی تردید کی اور کہا کہ “صدر کی جانب سے ایسی کوئی درخواست کبھی نہیں کی گئی۔” وائٹ ہاؤس نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا انتظامیہ کے کسی اور اہلکار نے یہ درخواست کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپیسی ایکس کے سربراہ ایلون مسک خود کہہ چکے ہیں کہ اسٹار شیلڈ امریکی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے اور اس پر پابندیاں امریکی فوج اور بالآخر صدر کی مرضی سے لگتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق یہ پابندیاں اس وقت لگیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین پر زور دے رہے تھے کہ وہ روسی تیل ریفائنریوں پر حملے بند کرے — ٹرمپ ان حملوں کو عالمی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، جو ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے سیاسی خطرہ بن رہی ہیں۔ ٹرمپ جمعرات کو ان حملوں کو “رسواکن” قرار دے چکے ہیں۔ ماہرین البتہ کہتے ہیں کہ توانائی کی قیمتوں میں اصل اضافہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ہوا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے؟

یہ انکشاف جنگ کے دوران اتحادی ملک کے جنگی مواصلاتی نظام کو محدود کرنے کا بے مثال اقدام ہے — اور امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں فروری 2025 کے اوول آفس ٹکراؤ کے بعد سب سے بڑی کھلی دراڑ۔ یوکرین کی فوج ڈرون جنگ، توپ خانے کی ہدایت کاری اور فرنٹ لائن رابطوں کے لیے عملی طور پر اسی نظام پر انحصار کرتی ہے؛ اس کا سست ہونا محض تکنیکی نہیں، بلکہ براہِ راست جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے — خود زیلنسکی کہہ چکے ہیں کہ انٹرسیپٹر ڈرونز کے رکنے سے لوگ ہلاک ہوئے۔

پاکستانی قارئین کے لیے بھی اس کے دو براہِ راست اثرات ہیں: ایک طرف عالمی ایندھن کی قیمتیں — برینٹ 105 ڈالر کے اوپر ٹکا ہوا ہے اور پاکستان میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں اب روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی ہوتی ہیں؛ دوسری طرف یہ سوال کہ کیا جدید جنگ میں کسی ایک نجی کمپنی کے سیٹلائٹ نظام پر انحصار، اس کمپنی کے مالک یا اس کے ملک کی حکومت کے سیاسی فیصلوں کا یرغمال بن سکتا ہے — یہ سوال صرف یوکرین کے لیے نہیں۔

مزید پڑھیے:

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *