Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

نظام شمسی سے باہر پہلی بار کسی سیارے سے ریڈیو سگنل موصول — مگر یہ ایلین نہیں

ایکسوپلینٹ K2-18 b کی فنکارانہ تصویر (ناسا)

ماہرین فلکیات نے پہلی بار نظام شمسی سے باہر کسی سیارے سے براہ راست ریڈیو سگنل ریکارڈ کیے ہیں۔ یہ سگنل 63 نوری سال دور واقع گیس کے دیو سیارے “بیٹا پکٹورس بی” سے آئے ہیں — لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کسی ذہین مخلوق کا پیغام نہیں، بلکہ سیارے کے غیر معمولی طاقتور مقناطیسی میدان کا ثبوت ہے۔

سگنل کہاں سے آیا؟

دہرائے جانے والے ریڈیو دھماکے بیٹا پکٹورس بی سے آتے محسوس ہوئے، جو مشتری سے تقریباً 12 گنا بڑا گیس کا دیو ہے۔ یہ ایک نوجوان ستارے کے گرد گھومنے والے تین سیاروں میں سے ایک ہے، جو سورج سے 1.75 گنا بڑا ہے۔

جنوبی افریقہ کی میرکیٹ ریڈیو دوربین سے ان سگنلوں کو متعدد بار اور متعدد فریکوئنسیوں پر ریکارڈ کیا گیا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈو برگر، جو اس تحقیق کے شریک مصنف ہیں، کہتے ہیں: “ہم نے اسے متعدد بار، متعدد فریکوئنسیوں پر ریکارڈ کیا۔ یہ ہر بار وہیں موجود تھا۔”

ایلین کیوں نہیں؟

برگر واضح کرتے ہیں: “میں جانتا ہوں کہ ریڈیو سگنل عام طور پر خلائی مخلوق کی تلاش سے جوڑے جاتے ہیں۔ لیکن یہ کچھ بالکل مختلف ہے۔” ان کے مطابق یہ سگنل سیارے کے مقناطیسی میدان سے جڑے قدرتی عمل سے پیدا ہوتے ہیں — بالکل ویسے ہی جیسے زمین پر قطبی روشنیاں بنتی ہیں۔

حیران کن بات اس مقناطیسی میدان کی طاقت ہے۔ برگر کے مطابق “اس سیارے کا مقناطیسی میدان مشتری کے مقناطیسی میدان سے کم از کم 200 گنا زیادہ طاقتور ہے۔”

تحقیق کا سفر

یہ دریافت ہارورڈ اور سمتھسونین کے سینٹر فار ایسٹروفزکس کے کیون اورٹز سیبالوس کی سربراہی میں ٹیم نے کی، جس میں اوریگون یونیورسٹی کے محققین بھی شامل تھے۔ مقالہ 15 ستمبر کو آرکائیو پری پرنٹ پلیٹ فارم پر شائع ہوا اور ابھی اس کا ہم مرتبہ جائزہ ہونا باقی ہے۔

ٹیم سیارے کے سگنل کو اس کے میزبان ستارے سے الگ کرنے میں اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ بیٹا پکٹورس ستارہ مقناطیسی طور پر نسبتاً پرسکون ہے، اور دور دراز کوازارز کو حوالہ نقطوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔

تجزیہ: یہ دریافت کیوں اہم ہے؟

مقناطیسی میدان کسی سیارے کے لیے ڈھال کی طرح ہوتا ہے — زمین کا میدان سورج کی ہواؤں سے ہماری فضا کو بچاتا ہے۔ کسی دور دراز سیارے کے مقناطیسی میدان کی پیمائش پہلی بار ہمیں یہ جانچنے کا موقع دیتی ہے کہ وہاں زندگی کے لیے موزوں حالات ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ سگنل ایلین کا پیغام نہیں، مگر یہ اس سوال کا جواب دینے کی طرف ایک قدم ضرور ہے کہ کائنات میں ہم اکیلے ہیں یا نہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *