Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

مینوپاز کے بعد بھی بیضہ دانی زندہ اور متحرک؟ نئی تحقیق کا حیران کن انکشاف

طبی تحقیقی لیبارٹری — بیضہ دانی کی عمر رسیدگی پر نئی تحقیق

عام تصور یہ ہے کہ مینوپاز کے بعد بیضہ دانی “ریٹائر” ہو جاتی ہے — اپنا کام ختم کر کے خاموش ہو جاتی ہے۔ مگر آج جریدے “ایجنگ سیل” میں شائع ہونے والی ایک نئی انسانی تحقیق اس تصور کو چیلنج کرتی ہے: سائنسدانوں نے پایا ہے کہ مینوپاز کے بعد بھی بیضہ دانی حیاتیاتی طور پر فعال رہتی ہے، عمر کے ساتھ مسلسل بدلتی ہے، اور اس میں ایسی مالیکیولر علامات بھی ملتی ہیں جن کا تعلق اویرین کینسر سے ہے۔

تحقیق میں کیا پایا گیا؟

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی اور بک انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ آن ایجنگ کے سائنسدانوں نے 50 سے 75 سال کی عمر کی 28 خواتین کی بیضہ دانیوں کا مطالعہ کیا۔ جدید پروٹیومکس اور ماس اسپیکٹرومیٹری کے ذریعے نارمل اویرین ٹشو میں 5,812 پروٹین گروپس کا تجزیہ کیا گیا — یہ اس نوعیت کا پہلا بڑا انسانی مطالعہ ہے۔

عمر کے ساتھ کیا بدلتا ہے؟

پچاس کی دہائی والی خواتین کی بیضہ دانیوں میں خلیوں اور ٹشو کی ساخت برقرار رکھنے والے پروٹین زیادہ تھے، جبکہ ستر سے زائد عمر کی خواتین کی بیضہ دانیوں میں سوزش، مدافعتی سرگرمی اور ٹشو کی ٹوٹ پھوٹ و تعمیرِ نو سے جڑے پروٹین زیادہ پائے گئے۔ عمر رسیدہ بیضہ دانیوں میں سیلولر سینی سینس کے مالیکیولر نمونے بھی ملے — ایسے خلیے جو تقسیم ہونا بند کر دیتے ہیں مگر حیاتیاتی طور پر فعال رہ کر ارد گرد کے ٹشو کو سگنل بھیجتے ہیں۔

کینسر کا تعلق کیا ہے؟

سب سے توجہ طلب نکتہ: اویرین کینسر سے پہلے منسلک کیے گئے پروٹین عمر رسیدہ بیضہ دانیوں میں زیادہ مقدار میں پائے گئے — سب سے مضبوط سگنل ساٹھ کی دہائی والی خواتین میں۔ یہ ٹشو نارمل اور کینسر سے پاک تھا۔ محققین کا تجویز کردہ فریم ورک یہ ہے کہ عمر رسیدہ ہونا اویرین کینسر کے لیے ممکنہ “تیسرا دھچکا” ہو سکتا ہے — پہلا جینیاتی، دوسرا ماحولیاتی۔

کیا صحت مند بیضہ دانی نکلوا دینی چاہیے؟

تحقیق اس سوال کا جواب نہیں دیتی — اور یہی اس کی دیانت ہے۔ مطالعے کی شریک سربراہ فرانسیسکا ڈنکن کا کہنا ہے: “کیا بیضہ دانی خواتین میں کوئلے کی کان کی چڑیا ہے؟ کیا بیضہ دانی میں عمر رسیدگی پورے جسم میں تبدیلیوں کا سلسلہ شروع کر دیتی ہے؟” یہ سوال مستقبل کی تحقیق کے لیے اٹھایا گیا ہے، نہ کہ طبی مشورے کے طور پر۔

ایک وضاحت ضروری ہے: اسی لیب کے جون-جولائی 2026 میں چوہوں پر کیے گئے مطالعے الگ اور پرانے ہیں — آج کی خبر صرف انسانی پروٹیومکس کا یہ نیا مطالعہ ہے۔

یہ کیوں اہم ہے؟

خواتین کی صحت کی تحقیق میں بیضہ دانی کو طویل عرصے سے صرف تولیدی عضو کے طور پر دیکھا گیا — مینوپاز کے بعد اس پر تحقیق تقریباً رک جاتی تھی۔ یہ مطالعہ اس خلا کو پُر کرتا ہے اور ایک عملی امید بھی دیتا ہے: اگر عمر رسیدہ بیضہ دانی میں کینسر سے جڑے مالیکیولر سگنل پہچانے جا سکیں تو اویرین کینسر کی جلد تشخیص — جو آج بھی سب سے مشکل کینسرز میں سے ایک ہے — کا راستہ کھل سکتا ہے۔ “کوئلے کی کان کی چڑیا” والا سوال دراصل یہ کہہ رہا ہے کہ بیضہ دانی کی عمر رسیدگی کو سمجھنا صرف ایک عضو کی بات نہیں، پوری خواتین کی صحت کی بات ہے۔

مزید پڑھیے

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *