مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں ابو فلاح میں جمعے کی صبح زیتون کی فصل چننے آئے فلسطینی کسانوں پر تقریباً پچاس سے اسی نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے دھاوا بول دیا۔ پتھروں کی بارش، جلتی جھاڑیاں، اور پھر ایک ایسی تصویر جو دنیا بھر کے نیوز رومز میں سنسنی بن گئی: زمین پر گری واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر، جس کے گرد کھڑے نقاب پوش اسے لاتیں مار رہے ہیں۔
ہائیڈی لوین — مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو دہائیوں سے کیمرے میں قید کرنے والی 63 سالہ تجربہ کار فوٹو جرنلسٹ — اس وقت حملے کا نشانہ بنیں جب وہ رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع ابو فلاح میں زیتون کی کٹائی کی کوریج کر رہی تھیں۔ انہوں نے ہیلمٹ اور “پریس” کی واضح نشان والی حفاظتی جیکٹ پہن رکھی تھی، لیکن نشان نے کوئی فرق نہیں ڈالا۔
“مجھے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا گیا۔ میرے پاس حفاظتی جیکٹ اور ہیلمٹ نہ ہوتا تو شاید میں آج زندہ نہ ہوتی، کیونکہ وہ مسلسل مجھے لاتیں مارتے رہے،” لوین نے رام اللہ کے اسپتال سے جاری ویڈیو بیان میں کہا۔ ان کے اندازے کے مطابق حملہ دس منٹ تک جاری رہا اور انہیں تقریباً پچاس لاتیں ماری گئیں۔ آبادکاروں نے ان کے کیمرے، فون اور پاسپورٹ والی تھیلی چھین لی۔ فلسطینی ساتھیوں کی مداخلت پر حملہ رکا، اور انہیں ایمبولینس میں پہلے مقامی کلینک اور پھر رام اللہ کے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال کی تصاویر میں ان کی بائیں ٹانگ پر پٹی اور دائیں گھٹنے پر زخم واضح دکھائی دے رہا تھا۔
یہ صرف ایک صحافی پر حملہ نہیں تھا۔ فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق اس دن مغربی کنارے بھر میں زیتون چننے والوں پر ہونے والے حملوں میں لوین سمیت گیارہ افراد زخمی ہوئے۔ ابو فلاح میں ہی چالیس اور ستر سال کے دو فلسطینی بھی زخمی ہوئے، برقعہ اور بیت امر میں مزید پانچ، جبکہ ترمس عایا کے قریب تین افراد کو پیٹا گیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ ایک فلسطینی کو اسرائیلی فوجیوں کی گولی ران میں لگی۔ علاقے میں زندہ گولیوں کی آوازیں سنی گئیں، اور روئٹرز کے مطابق کم از کم ایک آبادکار کو بندوق چلاتے دیکھا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر میٹ مرے نے حملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ اس “بلا جواز حملے” پر برہم ہے اور حکام سے مکمل تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ وہ رپورٹوں سے آگاہ ہے، “مغربی کنارے میں کسی بھی فریق کی مجرمانہ تشدد کی مذمت” کرتا ہے، اور اس نے واشنگٹن پوسٹ سے قونصلر امداد کی پیشکش کے لیے رابطہ کیا ہے۔
اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ ایک غیر ملکی صحافی کے زخمی ہونے کی رپورٹوں کی تحقیقات کی جائیں گی اور ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اسرائیلی فوج نے کہا وہ لوین پر حملے کی تحقیقات کرے گی۔ دوسری طرف وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے مشروط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے “حقائق ابھی واضح نہیں” اور تحقیقات سے یہ طے ہونا چاہیے کہ “تشدد کی ابتدا کس نے کی”۔
زمین پر موجود آزاد صحافی جیسپر نیتھنئیل کے مطابق اسرائیلی فوج کی جیپیں موقع پر پہنچیں، لیکن حملہ جاری رہا اور فوجیوں نے آنسو گیس چلائی۔ نیتھنئیل کا دعویٰ ہے کہ لوین تک صرف اس لیے پہنچ سکے کہ نوجوان فلسطینیوں نے آبادکاروں اور فوجیوں کے خلاف پتھروں سے رکاوٹ ڈالی — اور حملے کے بعد فوج انہی بچوں کے پیچھے پڑی، نہ کہ آبادکاروں کے۔
یہ سب کیوں اہم ہے؟
زیتون کی فصل مغربی کنارے کے ہزاروں خاندانوں کے لیے آمدنی کا اہم ترین ذریعہ ہے، اور اسی فصل کے موسم میں آبادکاروں کے حملے ہر سال باقاعدہ مہم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ فلسطینی کمیشن کے مطابق صرف اکتوبر کے آغاز سے اب تک فصلِ زیتون سے جڑے کم از کم 136 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، اور تنازعات پر نظر رکھنے والے ادارے اے سی ایل ای ڈی کا کہنا ہے کہ آبادکاروں کا تشدد ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔
یہ حملہ اسی سلسلے کی تازہ ترین اور سب سے چونکا دینے والی کڑی ہے — اس لیے نہیں کہ اس میں کوئی نئی قسم کا تشدد ہوا، بلکہ اس لیے کہ نشانہ ایک امریکی اخبار کی تجربہ کار فوٹوگرافر بنی، دن کی روشنی میں، درجنوں گواہوں اور کیمروں کے سامنے، اور فوج کی موجودگی میں۔ دس دن پہلے اے ایف پی کے فوٹوگرافر جعفر اشتیہ کو بھی آبادکاروں نے پیٹا تھا، اگست میں این بی سی نیوز کے صحافی نشانہ بنے تھے — لیکن کسی بڑے امریکی ادارے کی صحافی کا اس طرح زخمی ہونا اسے عالمی خبر بنا گیا ہے۔
سوال اب وہی ہے جو خود لوین نے اسپتال کے بستر سے اٹھایا: کیا اس حملے کے ذمہ داروں کو کبھی سزا ملے گی؟ اسرائیلی پولیس کی تحقیقات کا اعلان اور امریکا کی مذمت اپنی جگہ، لیکن مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کی طویل تاریخ میں سزائیں شاذ و نادر ہی ہوئی ہیں — اور یہی وہ خلا ہے جو ہر فصل کے موسم میں نئے حملوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: مغربی کنارے میں کشیدگی — غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر ہماری تفصیلی رپورٹ۔
تصحیح: اس خبر کے پہلے ورژن میں ہیڈی لوین کی عمر 64 سال کہی گئی تھی۔ 63 سال کی تصدیق کے بعد اسے درست کر دیا گیا ہے۔ 17 اکتوبر 2026

قارئین کے تبصرے (0)