بلوچستان میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کی لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ مستونگ میں جمعے کی شام 20 پولیس ٹرینیوں کو مسافر وین سے اتار کر اغوا کر لیا گیا، جبکہ رخشان ڈویژن کے کمشنر اسداللہ کاکڑ ایک روز پہلے سے ہی لاپتہ ہیں۔ گزشتہ دو ماہ میں یہ اس نوعیت کا چوتھا بڑا واقعہ ہے۔ واقعات کی ترتیب یہ رہی:
ستمبر تا اکتوبر: دو اہلکار اغوا، پھر رہا
گزشتہ دو ماہ کے دوران بلوچستان میں پہلے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ اور پھر ایک ڈپٹی کمشنر کو اغوا کیا گیا۔ دونوں اہلکاروں کو بعد ازاں اغوا کاروں نے رہا کر دیا۔ ان واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گشت بڑھانے کا دعویٰ کیا، لیکن اغوا کا سلسلہ رکا نہیں۔
جمعرات، 15 اکتوبر: ڈویژنل کمشنر لاپتہ
جمعرات کو رخشان ڈویژن کے کمشنر اسداللہ کاکڑ اپنے ڈرائیور سمیت اس وقت اغوا کر لیے گئے جب وہ کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے۔ ان کے ہمراہ سفر کرنے والے ایک اور شخص کو اغوا کاروں نے چھوڑ دیا، مگر کمشنر اور ان کا ڈرائیور اتوار تک بازیاب نہیں ہو سکے۔ صوبے کے ایک ڈویژن کے سربراہ کا اغوا سیکیورٹی کی صورتحال کی سنگینی کی علامت ہے۔
جمعہ، 16 اکتوبر کی شام: 20 پولیس ٹرینیوں کا اغوا
جمعے کی شام قلات پولیس ٹریننگ سینٹر کے 20 ٹرینی اہلکار ہفتہ وار چھٹی پر اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ یہ سب رخشان ڈویژن کے نوشکی، خاران، چاغی اور واشک اضلاع کے رہائشی ہیں اور سابق لیویز فورس کے اہلکار ہیں جنہیں پولیس میں ضم کیا گیا ہے۔ مستونگ ضلع کے پہاڑی علاقے گورگینہ کے قریب، قلات اور نوشکی کے درمیان سربند کے مقام پر، موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے ان کی نجی مسافر وین روک لی۔
ایک سینئر صوبائی عہدیدار نے عرب نیوز کو بتایا: «کم از کم 20 پولیس اہلکار ایک مسافر وین میں سفر کر رہے تھے جب مسلح افراد کے ایک گروہ نے ضلع کے دور دراز پہاڑی علاقے گورگینہ میں ان کی گاڑی روکی اور واپس جانے والے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔» اغوا کاروں نے تمام مسافروں کے شناختی دستاویزات چیک کیے، ڈرائیور اور تین عام مسافروں کو چھوڑ دیا اور 20 اہلکاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ہفتہ، 17 اکتوبر: سرچ آپریشن اور نصیر آباد میں دو اہلکار شہید
ہفتے کو واقعے کی خبر عام ہوئی تو سیکیورٹی فورسز نے مستونگ کے قریبی پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا اور چیک پوسٹیں قائم کیں۔ کسی گروپ نے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ماضی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کا دعویٰ کرتی رہی ہیں۔
اسی روز ضلع نصیر آباد میں بیدر پل کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے موٹر سائیکلوں پر گشت کرنے والے دو پولیس اہلکاروں — کانسٹیبل احمد لاشاری اور کانسٹیبل ملک بگٹی — پر فائرنگ کر دی۔ سینئر پولیس افسر غلام سرور کے مطابق دونوں اہلکار متعدد گولیاں لگنے سے شہید ہو گئے، اور حملہ آور ان کے سرکاری ہتھیار بھی ساتھ لے گئے۔ لواحقین اور علاقہ مکینوں نے ملزمان کی گرفتاری کے مطالبے کے ساتھ کوئٹہ-سکھر شاہراہ بلاک کر دی۔
اتوار، 18 اکتوبر: 20 اہلکار اب بھی لاپتہ
اتوار کی صبح تک 20 اغوا شدہ اہلکاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ سیکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے، مگر حکام کے مطابق ان کی جگہ ابھی تک نامعلوم ہے اور اغوا کاروں کی شناخت اور مقاصد بھی واضح نہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مستونگ کے پولیس افسران نے بھی اغوا کی تصدیق کی ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ واقعات عام ڈکیتی یا اتفاقی حملے نہیں — اغوا کار مسافر وینوں کو روک کر شناختی دستاویزات چیک کرتے ہیں اور سرکاری اہلکاروں کو چھانٹ کر ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ منصوبہ بند کارروائیاں ہیں جن کا مقصد ریاستی مشینری کے اہلکاروں میں خوف پھیلانا ہے۔ بلوچستان میں اب سرکاری اہلکاروں کے لیے شاہراہوں کا سفر جان لیوا ہوتا جا رہا ہے، اور رخشان ڈویژن — جس کے کمشنر خود تین دن سے لاپتہ ہیں — میں انتظامیہ کی نقل و حرکت عملاً مفلوج ہے۔ ریاست کے لیے اصل امتحان اب یہ ہے کہ 20 اہلکاروں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے؛ ہر گزرتا دن اغوا کاروں کے حوصلے بڑھاتا ہے اور سرچ آپریشن کی ساکھ گھٹاتا ہے۔ اتوار کی شام تک ان 20 اہلکاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا — ان کے اہل خانہ کے لیے انتظار جاری ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)