Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

مرگی کے مریضوں میں کم عمری میں ڈیمینشیا کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ، نئی تحقیق

سات ٹیسلا ایم آر آئی سے لی گئی انسانی دماغ کی انتہائی واضح اسکین تصویر

اہم نکات:
1۔ مرگی کے شکار افراد میں 65 برس سے پہلے یادداشت کی بیماری (ڈیمینشیا) کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے — یہ بات فرانس اور سویڈن میں تین لاکھ سے زائد افراد کے طبی ریکارڈ پر مبنی نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
2۔ تحقیق 14 اکتوبر کو امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے معروف طبی جریدے “نیورولوجی” میں شائع ہوئی۔
3۔ فرانس میں کم عمری میں ڈیمینشیا کے شکار 11,360 افراد میں سے 12.5 فیصد کو پہلے مرگی کی تشخیص ہو چکی تھی، جبکہ صحت مند افراد کے مقابلتی گروپ میں یہ شرح صرف 1.2 فیصد تھی۔ سویڈن میں بھی نتائج تقریباً ایک جیسے رہے۔
4۔ تحقیق مرگی کو ڈیمینشیا کی براہِ راست وجہ ثابت نہیں کرتی — صرف ایک مضبوط تعلق ظاہر ہوا ہے، اور مجموعی خطرہ اب بھی کم ہے۔
5۔ ماہرین کی سفارش: مرگی کے مریضوں میں دماغی صحت کی جلد جانچ اور ہائی بلڈ پریشر جیسے قابلِ علاج خطرات پر قابو ضروری ہے۔

پیرس: مرگی محض دورے پڑنے کی بیماری نہیں — ایک بڑی بین الاقوامی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ مرگی کے مریضوں میں 65 برس کی عمر سے پہلے یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت متاثر کرنے والی بیماری ڈیمینشیا کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

فرانس کی سوربون یونیورسٹی کے نیورولوجسٹ ڈاکٹر ونسنٹ ناوارو کی قیادت میں کی گئی یہ تحقیق 14 اکتوبر کو امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے “نیورولوجی” میں شائع ہوئی۔ محققین نے دو مختلف طریقوں سے دو ملکوں کے قومی صحت کے ڈیٹا بیس کا جائزہ لیا: ایک طرف انہوں نے کم عمری میں ڈیمینشیا کے شکار مریضوں کے پچھلے دس برس کے ریکارڈ دیکھے، اور دوسری طرف مرگی کے مریضوں کو آگے چل کر فالو کر کے دیکھا کہ ان میں سے کن کو ڈیمینشیا ہوا۔

فرانس میں کم عمری میں ڈیمینشیا کے 11,360 مریضوں کا موازنہ اسی عمر اور جنس کے 113,600 صحت مند افراد سے کیا گیا۔ نتیجہ حیران کن تھا: ڈیمینشیا کے مریضوں میں سے 12.5 فیصد کو پہلے مرگی کی تشخیص ہو چکی تھی، جبکہ صحت مند گروپ میں یہ شرح محض 1.2 فیصد تھی۔ مرگی کی ادویات استعمال کرنے والوں میں بھی فرق واضح تھا — ڈیمینشیا کے 27.3 فیصد مریض یہ ادویات لے چکے تھے، جبکہ دوسرے گروپ میں یہ شرح 10.3 فیصد رہی۔ سویڈن میں 16,433 ڈیمینشیا مریضوں اور 164,330 افراد کے موازنے میں بھی تقریباً یہی نتائج سامنے آئے۔

ڈاکٹر ناوارو کے مطابق “ان نتائج سے مرگی کے مریضوں کی دیکھ بھال میں ڈیمینشیا سے بچاؤ کو شامل کرنے کی حمایت ہوتی ہے۔ ایسے مریض اپنی دماغی صحت کے خطرات کی جلد جانچ اور ہائی بلڈ پریشر جیسے قابلِ علاج خطرات پر سخت قابو سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔” تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ مطالعہ مرگی کو ڈیمینشیا کی براہِ راست وجہ ثابت نہیں کرتا — صرف ایک تعلق دکھاتا ہے — اور ڈیمینشیا کا مجموعی خطرہ ویسے بھی کم ہے۔

یہ تحقیق اس لیے بھی اہم ہے کہ دماغی امراض پر سائنسی توجہ مسلسل بڑھ رہی ہے — رواں ماہ طب کا نوبیل انعام بھی دماغ کی تحقیق پر ملا تھا۔ پاکستان کے تناظر میں اس مطالعے کا پیغام خاصا عملی ہے: یہاں مرگی کو اب بھی اکثر توہمات سے جوڑا جاتا ہے اور مریض علاج میں تاخیر کرتے ہیں۔ یہ نئی شہادت بتاتی ہے کہ مرگی صرف دوروں کا معاملہ نہیں، بلکہ دماغ کی طویل مدتی صحت کا سوال ہے — اور بلڈ پریشر پر قابو جیسی سادہ احتیاط سے خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے نزدیک اگلا قدم اب یہ ہے کہ مرگی کے مریضوں کے معمول کے چیک اپ میں یادداشت کی جانچ کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ خبردار کرنے والی علامات جلد پکڑی جا سکیں۔ دماغی صحت کی حفاظت ویسے بھی عمر بھر کا کام ہے — بچپن میں جسمانی سرگرمی بھی دماغی صحت سے جڑی ہے، جیسا کہ ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آیا تھا۔ مرگی کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے اصل خبر یہ ہے: گھبرانے کی نہیں، بلکہ بروقت نگرانی اور علاج کی ضرورت ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *