وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریہ کورینا ماچادو دس ماہ سے زیادہ کی جلاوطنی کے بعد اپنے وطن واپس پہنچ گئیں۔ اتوار کو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صرف چار لفظوں کا اعلان کیا: “میں یہاں ہوں، تم سب کے ساتھ۔” اس کے چند گھنٹوں بعد وہ مغربی صوبے لارا کے شہر بارکیسیمیٹو میں سانتا روزا چرچ میں نمودار ہوئیں، اور رات گئے گاڑیوں کے ایک لمبے قافلے کے ساتھ دارالحکومت کاراکاس پہنچیں، جہاں ہزاروں حامی سڑکوں پر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
ماچادو کی واپسی آسان نہیں تھی۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران انہوں نے کم از کم سات بار وطن لوٹنے کی کوشش کی — کبھی ہوائی جہاز سے، کبھی سمندر کے راستے — مگر ہر بار کوشش ناکام ہو گئی۔ ان کی ٹیم کا الزام رہا ہے کہ حکام ان کی واپسی میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔ آخرکار وہ زمینی راستے سے ملک میں داخل ہوئیں، اور ان کی پہلی عوامی حاضری دیوینا پاستورا کے مزار والے چرچ میں ہوئی، جہاں وہ شکرانے کے لیے گئی تھیں۔ چرچ سے نکلتے ہی ان کے گرد حامیوں کا ہجوم جمع ہو گیا تھا۔
کاراکاس کا سفر ایک جشن میں بدل گیا۔ سفید شرٹ پہنے اور گلے میں کئی تسبیحاں ڈالے ماچادو گاڑیوں کے قافلے میں سب سے آگے تھیں، ان کے ساتھ موٹر سائیکلوں کا ایک ہجوم تھا، اور شاہراہ کے دونوں طرف لوگ جھنڈے لہراتے، قومی ترانہ گاتے اور “انتخابات ابھی” کے نعرے لگاتے کھڑے تھے۔ رات نو بجے کے بعد جب قافلہ کاراکاس پہنچا تو استقبال کرنے والوں کا جوش دیدنی تھا — لوگ پلوں اور شاہراہوں پر جمع تھے، موبائل فونز کی روشنیاں جھلملا رہی تھیں، اور ہر طرف “خوش آمدید” اور “ہم تم سے محبت کرتے ہیں” کی آوازیں تھیں۔
یہ واپسی وینزویلا کی سیاست کے ایک نازک موڑ پر ہوئی ہے۔ ماچادو نے 2023 میں اپوزیشن کے پرائمری انتخابات جیتے تھے، مگر سپریم کورٹ نے ان کی امیدواری کالعدم قرار دے دی تھی، اس لیے وہ 2024 کے متنازع صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لے سکیں۔ جنوری 2025 میں ایک احتجاج کے دوران مختصر گرفتاری کے بعد وہ گیارہ ماہ تک ملک کے اندر روپوش رہیں، پھر خفیہ طور پر ملک چھوڑ کر دسمبر 2025 میں ناروے پہنچیں، جہاں انہیں امن کا نوبیل انعام دیا گیا۔ اس کے بعد جنوری 2026 میں امریکی اسپیشل فورسز نے اس وقت کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا، اور ان کی نائب ڈیلسی روڈریگز عبوری صدر بن گئیں — مگر انتخابات کی کوئی تاریخ اب تک طے نہیں ہوئی، اور واشنگٹن کا اصرار رہا ہے کہ پہلے معیشت کو مستحکم کیا جائے۔
واشنگٹن سے ردعمل ملا جلا رہا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ انہیں ماچادو کی واپسی کا علم نہیں تھا، مگر “وہ بہت اچھی خاتون ہیں، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ محفوظ رہیں گی۔” ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وینزویلا میں حالات “بہت اچھے” جا رہے ہیں، اور ان کی انتظامیہ تاحال روڈریگز کی حمایت کر رہی ہے۔ اس کے برعکس وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایکس پر لکھا کہ ماچادو کی محفوظ واپسی “امریکا کی حمایت یافتہ مفاہمتی مذاکرات کا براہ راست نتیجہ” ہے، جن کے تحت سینکڑوں سیاسی قیدی رہا ہوئے اور سینکڑوں اپوزیشن رہنما جلاوطنی سے لوٹے۔ روبیو نے خبردار کیا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ وینزویلا کی سیاست کے تمام دھڑوں کی آزادیوں کا احترام جاری رہے گا۔
اپوزیشن کیمپ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ 2024 کے انتخابات میں ماچادو کی جگہ امیدوار بننے والے ایڈمنڈو گونزالیز اوروتیا نے تصدیق کی کہ “ہماری رہنما، میری پیاری ماریہ کورینا، وینزویلا کی سرزمین پر ہیں” اور اعلان کیا کہ وہ بھی “بہت جلد” واپس آئیں گے۔ ماچادو کے قریبی مشیر ڈیوڈ اسمولانسکی کے مطابق وہ اب جون کے زلزلوں کے متاثرین کے اہل خانہ، سیاسی قیدیوں کے خاندانوں اور جمہوری تحریک کے رہنماؤں سے ملیں گی، اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کی تاریخ کے لیے دباؤ ڈالیں گی۔ وہ امریکی سینیٹر برنی مورینو کی اس تجویز کی بھی حمایت کر چکی ہیں کہ صدارتی انتخابات 24 جولائی 2027 کو کرائے جائیں۔
یہ واپسی اس لیے اہم ہے کہ اب تک وینزویلا کی منتقلی کا کھیل ماچادو کے بغیر کھیلا جا رہا تھا — واشنگٹن اور روڈریگز حکومت کے درمیان معاہدے ہو رہے تھے، تیل کے سودے طے پا رہے تھے، مگر وہ شخصیت جسے اپوزیشن کا سب سے مقبول چہرہ سمجھا جاتا ہے، اس عمل سے باہر تھی۔ اب وہ ملک کے اندر موجود ہیں، ان کے پاس سڑکوں کی طاقت ہے اور نوبیل انعام کی اخلاقی حیثیت بھی۔ اس سے روڈریگز حکومت اور واشنگٹن دونوں کا امتحان ہو گا: کیا حکومت انہیں آزادانہ سیاسی سرگرمی کی اجازت دے گی، اور کیا امریکا اپنی “پہلے استحکام، پھر انتخابات” والی پالیسی پر قائم رہے گا یا انتخابات کی تاریخ کے مطالبے کو تقویت دے گا؟ یہ سوال صرف وینزویلا کا نہیں — لاطینی امریکا میں جمہوری تحریکوں کے لیے یہ ایک اور بڑا لمحہ ہے، جس ہفتے برازیل میں لولا نے چوتھی بار صدارت جیت لی اور سربیا میں طلبہ کی تحریک نے طویل اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔
اگلے دنوں میں تین باتیں واضح ہوں گی: پہلی، کیا ماچادو ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت اور جلسے کر پائیں گی یا ان پر قدغنیں لگیں گی؛ دوسری، کیا گونزالیز اوروتیا واقعی واپس آتے ہیں؛ اور تیسری، کیا انتخابات کی تاریخ کا مطالبہ محض نعروں تک رہے گا یا اس پر کوئی عملی پیش رفت ہو گی۔ فی الحال ایک بات طے ہے — وینزویلا کی سیاست میں وہ آواز واپس آ گئی ہے جسے گزشتہ ایک سال سے خاموش کرنے کی کوشش ہو رہی تھی، اور اب اسے نظرانداز کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گا۔

قارئین کے تبصرے (0)