Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

لندن میں نواز شریف کی گاڑیوں پر حملہ — نقاب پوش افراد شیشے توڑ کر فرار، تیسری واردات

نواز شریف سانگلہ ہل میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے

اہم نکات:

  • سابق وزیراعظم نواز شریف کی دو گاڑیوں (بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز) کو لندن میں ایون فیلڈ ہاؤس کے باہر نشانہ بنایا گیا
  • شریف خاندان کے ترجمان کے مطابق یہ واقعہ دو روز قبل پیش آیا اور لندن میں ان کی گاڑیوں کے ساتھ تیسری ایسی واردات ہے
  • میٹروپولیٹن پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لے لی ہے، جس میں دو نقاب پوش نوجوان گاڑیوں کے شیشے اتارتے دکھائی دے رہے ہیں
  • ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، ملزمان کی شناخت اور مقصد نامعلوم ہے

تفصیلات کے مطابق نامعلوم افراد نے ایون فیلڈ پراپرٹی کے باہر کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑے اور کچھ شیشے نکال کر ساتھ لے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دونوں گاڑیوں کے سائیڈ مرر بھی چوری کر لیے گئے۔ پولیس فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی کوشش کر رہی ہے۔

نواز شریف ان دنوں لندن میں ہیں، جہاں وہ اپنے طبی معائنے کے لیے آئے ہوئے ہیں اور خاندانی رہائش گاہ ایون فیلڈ ہاؤس میں قیام پذیر ہیں۔

ایون فیلڈ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پہلے ہی نجی اسکولوں کی خستہ حالی کے معاملے پر کام کر رہی ہیں۔ دہشت گردی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتا ہے اور اس کا نوٹس لے رہا ہے۔ اپنی صحت کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ وہ ٹھیک محسوس کر رہے ہیں۔

یہ خبر کیوں اہمیت رکھتی ہے

تیسری بار ایک ہی خاندان کی گاڑیوں کو ایک ہی شہر میں نشانہ بنایا جانا اب محض اتفاق نہیں لگتا۔ لندن میں پاکستانی سیاستدانوں کے خلاف احتجاج اور ہنگامے کوئی نئی بات نہیں — 2018 میں ایون فیلڈ رہائش گاہ پر مظاہرین کی دھاوا بولی کی کوشش اور 2021 میں حسن نواز کے دفتر میں گھسنے کی کوشش اس کی مثالیں ہیں — مگر گاڑیوں کو بار بار نشانہ بنانا ایک مختلف اور زیادہ ذاتی نوعیت کا پیغام ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ لندن پولیس ان وارداتوں کو روکنے میں کیوں ناکام ہو رہی ہے؟ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نقاب پوش نوجوان واضح دکھائی دے رہے ہیں، مگر تیسری واردات کے بعد بھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم کی سیکیورٹی برطانوی دارالحکومت میں ایک سفارتی اور سیاسی حساسیت کا معاملہ ہے — اور ہر نئی واردات اس حساسیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *