Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

لاہور میں دو غیر قانونی کال سینٹرز پر این سی سی آئی اے کے چھاپے، 36 افراد زیرِ حراست

این سی سی آئی اے کے اہلکار سائبر کرائم کی تحقیقات کرتے ہوئے — علامتی تصویر

نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور میں دو غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپے مارے اور 36 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ایجنسی کے مطابق یہ سینٹرز غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنا کر دھوکہ دہی کر رہے تھے۔ کارروائیاں 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب فیصل ٹاؤن اور جوہر ٹاؤن کے علاقوں میں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق ملزمان ڈائل اپ سافٹ ویئر کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو کالز کرتے اور خود کو موبائل اپ گریڈ یا ٹیلی کام سروسز کی فراہمی کا ذمہ دار ظاہر کر کے ان سے رقوم ہتھیاتے تھے۔ چھاپوں کے دوران درجنوں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ اور موبائل فونز ضبط کیے گئے جن میں دھوکہ دہی سے متعلق سافٹ ویئر اور ڈیٹا موجود تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسرے کال سینٹر کا سراغ پہلے چھاپے کے دوران ہی ملا۔ پہلی کارروائی میں حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ٹیم نے دوسرے مقام پر بھی دھاوا بول دیا۔ این سی سی آئی اے کے مطابق دوسرے آپریشن کے دوران سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے مزاحمت بھی کی گئی، تاہم ٹیم نے کارروائی مکمل کر لی۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جرائم سے حاصل ہونے والی رقوم سے کئی گاڑیاں بھی خرید رکھی تھیں، جنہیں ضبط کر لیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) اور پاکستان پینل کوڈ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے کہا: “اس کارروائی کا مقصد پاکستان کی ڈیجیٹل اور مالی ساکھ کا تحفظ کرنا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یہ کارروائیاں ایک وسیع تر کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔ محض چند روز قبل این سی سی آئی اے نے راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر سے 61 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن پر غیر قانونی قرض وصولی کی آڑ میں غیر ملکیوں کو دھمکیاں دے کر رقم بٹورنے کا الزام تھا۔ وہاں سے 71 موبائل فونز اور 155 لیپ ٹاپ برآمد ہوئے تھے۔

یہ معاملہ محض ایک مجرمانہ نیٹ ورک کا نہیں۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور فری لانسنگ کی معیشت اس وقت اپنی بہترین شکل میں ہے، اور ہزاروں نوجوان قانونی بی پی اوز اور کال سینٹرز میں روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ مٹھی بھر فراڈیوں کے ایسے نیٹ ورکس سے پورے شعبے کی ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے۔ غیر ملکی کلائنٹس جب “پاکستانی کال سینٹر” کا نام سنتے ہیں تو ان کے ذہن میں دھوکہ دہی کا خدشہ پیدا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں — اور اس خدشے کی قیمت قانونی کاروبار چکا رہے ہیں۔

اصل سوال اب یہ ہے کہ گرفتاریوں کے بعد کیا ہوگا۔ ماضی میں پیکا کے تحت مقدمات کی سزا کی شرح مایوس کن رہی ہے، اور اکثر کیسز تفتیش کی کمزوریوں یا گواہوں کے پیچھے ہٹنے کے باعث دم توڑ جاتے ہیں۔ اگر ان چھاپوں کو واقعی روک تھام کا ذریعہ بنانا ہے تو ایجنسی کو ضبط شدہ ڈیٹا سے پورے نیٹ ورک — کالرز سے لے کر رقم وصول کرنے والوں تک — کا تعاقب کرنا ہوگا، اور استغاثہ کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ورنہ یہ کارروائیاں بھی خبروں کی سرخیوں تک محدود رہ جائیں گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *