اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز پاکستان تحریک انصاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی لگا دی ہے کہ پہلے لانگ مارچ اور دھرنوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کی سنگِ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ پی ٹی آئی سڑکوں کی سیاست سے ہٹ کر میز پر آئے۔ ان کے الفاظ میں: “اپنا لانگ مارچ ختم کرو۔ اگر تم یہ مارچ اور دھرنے ختم کرو گے تو ہم یقیناً تمہارے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے، تاکہ پاکستان باہمی ہمت، محنت اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے۔”
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ حکومت نے مشاورت کے بعد مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا اور دونوں فریقوں کے نمائندوں کے درمیان قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں دو دن تک بات چیت چلتی رہی۔ “بہت بات ہوئی اور پوری امید تھی کہ ان شاء اللہ یہ مذاکرات اپنے مطلوبہ انجام کو پہنچیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا،” انہوں نے کہا۔
شہباز شریف کے مطابق آخری لمحے میں اپوزیشن نے پہلے سے طے شدہ نکات میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اپوزیشن کا واحد مقصد مذاکرات کو کسی طرح ناکام بنانا تھا۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کا قافلہ اتوار کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف نکلا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس مارچ کی قیادت کر رہے ہیں اور قافلہ لکی مروت اور کرک سے ہوتا ہوا کوہاٹ پہنچا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطالبات میں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے ساتھ سیاسی اور آئینی مسائل کا حل بھی شامل ہے، جب کہ حکومت نے اسلام آباد کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔
وزیراعظم نے خبردار کیا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا پہلا نشانہ ملک کی معیشت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال کی اجتماعی محنت اور ٹیم ورک سے معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا گیا اور اب ترقی کا وقت آیا ہے۔ “اگر آپ کا ورکر یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچے تو نقصان کس کا ہے؟ یہ قوم اور ملک کا نقصان ہے،” انہوں نے کہا۔ ان کے الفاظ میں حکومت کسی کو معیشت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون اپنا راستہ لے گا۔
دوسری طرف وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ خیبر پختونخوا حکومت کا دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر تعاون سے انکار تھا۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے انکشاف کیا کہ طے شدہ مسودے کو چار بار تبدیل کیا گیا، جس سے مذاکرات کا عمل ٹوٹا۔
اپوزیشن کا موقف اس سے مختلف ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف صوبے اور مرکز کے کردار کے ساتھ عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر کوئی اتفاق نہ ہو سکا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نائب چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر کے مطابق اپوزیشن نے غیر مشروط مذاکرات کا جواب دیا، مگر حکومت نے سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔
یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں اور سڑک پر آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ وزیراعظم کا پیغام دوہرا ہے: ایک طرف بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے، دوسری طرف واضح کر دیا گیا ہے کہ دباؤ کی سیاست کے ذریعے حکومت کو جھکایا نہیں جا سکتا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی مارچ روک کر مذاکرات کی میز پر بیٹھے گی، یا حکومت کی یہ پیشکش بھی گزشتہ کوششوں کی طرح بے نتیجہ رہے گی۔ دونوں فریقوں کے اگلے اقدامات ہی بتائیں گے کہ ملک تصادم کی طرف بڑھے گا یا مذاکرات کی میز کی طرف — اور یہی فیصلہ آنے والے دنوں کی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)