لندن — امریکا اور ایران کی جنگ اب برطانیہ کی سرزمین تک پہنچ چکی ہے۔ یہ پیغام برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پیر کو ایوانِ نمائندگان میں اس وقت دیا جب انہوں نے اعلان کیا کہ ستمبر کے آخری دنوں میں آر اے ایف فیئرفورڈ ایئربیس کے قریب ناکام دہشت گردی کی سازش برطانوی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق “ایران میں مربوط کی گئی تھی اور تقریباً یقینی طور پر ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی ہدایت پر” تیار کی گئی تھی۔
برنہم نے کہا: “ہم اپنی سرزمین پر ان خطرات کو برداشت نہیں کریں گے۔” انہوں نے ایران کے مجرمانہ نیٹ ورکس اور فنڈنگ کے ذرائع کے خلاف کریک ڈاؤن اور “ایران اور پاسداران انقلاب کی ہمیں نقصان پہنچانے کی صلاحیت محدود کرنے کے لیے مزید پابندیوں” کا اعلان کیا۔
واقعہ کیا تھا
27 ستمبر کی صبح سویرے برطانوی پولیس نے گلوسٹرشائر میں واقع فیئرفورڈ ایئربیس کے قریب پانچ برطانوی نوجوانوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد کے شبے میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان سے منسلک تین وینوں سے پٹرول کی مقدار برآمد ہوئی، مگر کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔ پانچوں کو بعد میں بغیر الزام سخت شرائط پر پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے انسدادِ دہشت گردی پولیس نے اسی واقعے سے منسلک ایک 22 سالہ برطانوی شہری کو گرفتار کیا، جبکہ اکتوبر کے اوائل میں لندن سے ایک 25 سالہ برطانوی-ایرانی نوجوان بھی گرفتار ہوا تھا۔
یہ وہی اڈا ہے جو امریکا-ایران جنگ میں ایرانی میزائل ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا — گزشتہ ہفتے ہی ایرانی خطرے کے پیش نظر امریکی بمبار طیارے یہاں سے ہنگامی طور پر واپس بلائے گئے تھے، اور امریکی حکام رائٹرز کو ڈرون حملے کی مشتبہ سازش کی تصدیق بھی کر چکے ہیں۔
لندن کا جواب: پابندیاں، طلبی اور 29 ممالک کا بیان
برنہم کے اعلان کے ساتھ ہی برطانوی خارجہ سیکرٹری ایڈ ملی بینڈ نے دو ایرانی شہریوں پر پابندیوں کا اعلان کیا: روح اللہ بزغ — جو پاسداران انقلاب کے انسدادِ جاسوسی آپریشنز کے سربراہ ہیں — اور شہریام علی رضا تمرزادہ جاکی، جن کا تعلق زنداشتی مجرمانہ نیٹ ورک سے ہے اور جو ایرانی مخالفین پر حملوں کی منصوبہ بندی سے وابستہ ہیں۔ دونوں کے اثاثے منجمد اور سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایران کے سفیر کو بھی دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
وزیر داخلہ شبانہ محمود نے ایوان کو بتایا کہ سازش کو “ایران میں مقیم ایک معروف شخص” نے مربوط کیا تھا۔ اسی روز امریکا سمیت 29 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں برطانیہ کی جانب سے ایران کو ذمہ دار ٹھہرانے کی تائید کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ فیئرفورڈ کا واقعہ “پاسداران انقلاب کی خفیہ نیٹ ورکس اور پراکسی عناصر کے ذریعے اپنی سرحدوں سے باہر دشمنی پھیلانے کی مسلسل آمادگی” کو ظاہر کرتا ہے۔ بیان میں یورپ بھر میں یہودی برادریوں، ایرانی صحافیوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے والی مہم کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کی ذمہ داری حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ نامی گروپ نے قبول کی تھی۔
تہران کا جواب: ثبوت دکھاؤ
ایران نے الزامات سختی سے مسترد کر دیے ہیں۔ لندن میں ایرانی سفیر سید علی موسوی نے ایرنا کے مطابق الزامات “قطعی طور پر” رد کرتے ہوئے برطانیہ کو چیلنج کیا کہ کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ برطانوی حکام “غلط درخت پر بھونک رہے ہیں”، اور وزارت خارجہ نے “انتہائی ممکن” اور “تقریباً یقینی” جیسے الفاظ کو بغیر عوامی ثبوت کے استعمال کو بے بنیاد قرار دیا۔
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: برطانوی حکومت کے یہ دعوے انٹیلی جنس کے اندازے ہیں، عدالت کے فیصلے نہیں۔ اب تک کسی ملزم پر الزام عائد نہیں ہوا، اور ایران سے تعلق کا کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر تہران اپنی ساری سفارتی مزاحمت کھڑا کر رہا ہے۔
اس کا اصل مطلب کیا ہے
“انتہائی ممکن” اور “تقریباً یقینی” — یہ انٹیلی جنس کی زبان ہے، عدالتی فیصلے کی نہیں۔ مگر برنہم نے یہ الفاظ پارلیمنٹ کے فلور پر کہے ہیں، اور 29 ممالک کا مشترکہ بیان اسے برطانیہ کی سرکاری پوزیشن سے مغرب کی مشترکہ پوزیشن میں بدل دیتا ہے۔
فیئرفورڈ کی سازش — اگر واقعی ایرانی ہدایت پر تھی — پہلا موقع ہے جب امریکا-ایران جنگ یورپ کی سرزمین پر اتنی واضح شکل میں سامنے آئی ہے۔ اب تک یہ جنگ آبنائے ہرمز کے ٹینکروں، ریاض کے ایئرپورٹوں پر میزائلوں اور یمن کے فضائی حملوں تک محدود نظر آتی تھی۔ گلوسٹرشائر کی ایک وین اسے برطانیہ کے دروازے تک لے آئی — اور یہی وہ نکتہ ہے جس نے لندن کو محض تحقیقات تک محدود رہنے سے روکا۔
اب تین سوال اہم ہیں: برطانیہ کی مزید پابندیاں کتنی سخت ہوں گی اور یورپی اتحادی ان میں شامل ہوں گے یا نہیں؛ 29 ممالک کے انٹیلی جنس اشتراک سے ایران کے نیٹ ورکس کے خلاف کوئی عملی کارروائی ہوگی یا نہیں؛ اور کیا تہران ثبوت کے مطالبے سے آگے بڑھ کر جوابی قدم اٹھائے گا۔ فیئرفورڈ کی سازش اب ایک سوال بن کر کھڑی ہے: کیا یہ امریکا-ایران جنگ کا یورپی باب تھا، یا اس کا اگلا باب ابھی لکھا جانا باقی ہے؟

قارئین کے تبصرے (0)