Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

شجرکاری میں صرف چیڑھ کیوں لگائی جاتی ہے؟ جنگل بچانے والی مہم یا آگ کا ایندھن

چیڑھ کا جنگل

ہر سال شجرکاری مہم میں لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں۔ تصویریں اچھی آتی ہیں، اعداد و شمار متاثر کن لگتے ہیں۔ لیکن ایک سوال کوئی نہیں پوچھتا: یہ پودے ہیں کس درخت کے؟ جواب اکثر ایک ہی ہوتا ہے — چیڑھ۔

اور یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ سائنس ایک تکلیف دہ بات کہتی ہے: ہمالیہ کے جنگلات میں لگنے والی آگ کا سب سے بڑا ایندھن وہی درخت ہے جسے ہم سب سے زیادہ لگا رہے ہیں۔

چیڑھ آگ کیوں پکڑتی ہے

چیڑھ (Pinus roxburghii) ہمالیہ کا مقامی درخت ہے، جو 900 سے 1800 میٹر کی بلندی پر اگتا ہے اور 30 سے 50 میٹر تک اونچا ہو سکتا ہے۔ اس کی لمبی سوئیاں، جنہیں پہاڑوں میں پرول کہا جاتا ہے، گر کر زمین پر موٹی تہہ بنا لیتی ہیں۔ ان سوئیوں میں گوند (resin) ہوتی ہے — وہی مادہ جو آگ کو تیزی سے پکڑتا ہے۔

تحقیق کے مطابق بغیر چھیڑے گئے چیڑھ کے جنگل میں یہ تہہ 10 سے 12 ٹن فی ہیکٹر تک جمع ہو سکتی ہے۔ اپریل سے جون تک، جب ہوا میں نمی 20 فیصد سے کم اور درجہ حرارت 35 ڈگری سے اوپر چلا جاتا ہے، یہ تہہ جنگل کی سب سے خطرناک چیز بن جاتی ہے۔ ایک سگریٹ کا ٹکڑا، سڑک کنارے جلتی آگ — بس ایک چنگاری کافی ہے۔

بھارتی تحقیقی ادارے CSIR-IHBT کی ایک تحقیق کے مطابق مغربی ہمالیہ میں جنگلات کی آگ کے تقریباً 57 فیصد واقعات چیڑھ کے جنگلات میں ہوتے ہیں۔ یعنی ہر دو میں سے ایک سے زیادہ آگ اسی درخت کے جنگل میں لگتی ہے۔

اور یہ صرف بھارت کا مسئلہ نہیں۔ کشمیر میں اپریل 2025 سے فروری 2026 تک 366 جنگلاتی آگ کے واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں تقریباً 972 ہیکٹر جنگل متاثر ہوا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے سردیوں کے مہینوں میں بھی 48 واقعات ہوئے — ان مہینوں میں کبھی آگ نہیں لگتی تھی۔ بھارتی وزارت ماحولیات جموں و کشمیر کو ملک کے بڑے فائر ہاٹ سپاٹس میں شمار کرتی ہے: نومبر 2023 سے جون 2024 تک 43,800 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ آگ کی لپیٹ میں آیا۔

بے جان جنگل

آگ صرف ایک مسئلہ ہے۔ چیڑھ کی سوئیوں کی تہہ تیزابی ہوتی ہے اور زمین پر ایسی چادر بچھا دیتی ہے جس کے نیچے گھاس، جھاڑیاں اور نئے پودے اگ نہیں سکتے۔ نہ پھل، نہ بیج، نہ چارہ — تو پرندے اور جانور بھی وہاں نہیں رہتے۔

نیپال میں ہونے والی ایک تحقیق نے لگائے گئے چیڑھ کے جنگلات کا قدرتی ملے جلے جنگلات سے موازنہ کیا۔ نتیجہ واضح تھا: چیڑھ کے جنگل میں قدرتی افزائش نہ ہونے کے برابر، بار بار آگ، محدود نباتات اور کم حیاتیاتی تنوع۔ اس کے برعکس ملے جلے جنگل میں آگ نہ ہونے کے برابر، بھرپور قدرتی افزائش اور زیادہ حیاتیاتی تنوع پایا گیا۔

مٹی اور پانی کا نقصان

چیڑھ کی سوئیوں کی چادر بارش کا پانی جذب نہیں کرتی۔ مون سون کی بارش اس چادر کو بہا لے جاتی ہے اور ساتھ مٹی بھی — کیونکہ نیچے گھاس اور جھاڑیاں نہیں جو مٹی کو تھامیں۔ اس کے مقابلے میں بلوط (بانج) کے جنگل کی گری ہوئی پتیاں نرم کالی مٹی بناتی ہیں جو بارش کا تقریباً سارا پانی جذب کر لیتی ہے اور چشموں کو زندہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بانج بلوط کو ہمالیائی ماحولیات کی “شہ رگ” کہتے ہیں — یہ مٹی کی نمی برقرار رکھتا ہے اور زیر زمین پانی کو بھرتا ہے۔

چیڑھ کے جنگل میں چشمے سوکھنے کی شکایتیں اسی لیے عام ہیں: درخت پانی روکتا ہی نہیں۔

پھر چیڑھ ہی کیوں لگائی جاتی ہے؟

یہ سوال ایمانداری سے پوچھنا ضروری ہے، کیونکہ اس کا جواب سمجھے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ چیڑھ لگانے کی دو بڑی معاشی وجوہات ہیں: لکڑی اور گوند۔ چیڑھ سے نکلنے والے گوند سے تارپین کا تیل اور روزن بنتا ہے جو پینٹ اور کیمیکل کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے۔ لکڑی بھی کارآمد ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ چیڑھ تیزی سے اگتا ہے اور جلد بیج دیتا ہے — محکمہ جنگلات کے لیے یہ “آسان” درخت ہے۔

یعنی فیصلہ ماحولیات پر نہیں، معیشت پر ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے — لیکن یہ جواز بھی نہیں بنتا کہ پورے پہاڑ کو ایک ہی درخت سے بھر دیا جائے۔

متبادل کیا ہے؟

متبادل کوئی غیر ملکی درخت نہیں — یہیں کے مقامی درخت ہیں: رین/بلوط (بانج)، کہو (جنگلی زیتون)، املوک، بٹنگی اور دھمن۔ یہ درخت آگ کم پکڑتے ہیں، مٹی کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، چشموں کو زندہ رکھتے ہیں اور جنگلی حیات کو خوراک اور گھر دیتے ہیں۔

اور سب سے اہم بات: یہ درخت ملے جلے جنگل میں چیڑھ کے ساتھ بھی اگ سکتے ہیں۔ نیپال کی تحقیق یہی کہتی ہے کہ ملے جلے جنگل میں آگ کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ مسئلہ چیڑھ نہیں — مسئلہ صرف اور صرف چیڑھ لگانا ہے۔

نتیجہ

شجرکاری مہم کا مقصد جنگل بچانا ہے، نہ کہ آگ کا ایندھن تیار کرنا۔ جب تک ہم لاکھوں پودوں کی تعداد پر خوش ہوتے رہیں گے اور یہ نہیں دیکھیں گے کہ لگا کیا رہے ہیں، ہر گرمیوں میں پہاڑ جلتے رہیں گے۔ حل مشکل نہیں: مقامی ملے جلے جنگل لگائیں، چیڑھ کو اس کے قدرتی ساتھیوں کے ساتھ اگنے دیں۔ جنگل تعداد سے نہیں، تنوع سے بچتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *