Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

سمندری طوفان ایسائیس کیٹیگری 2 کے ساتھ فلوریڈا کے ساحل سے ٹکرا گیا — لاکھوں گھروں میں بجلی منقطع

9 اکتوبر 2026 کی شام فلوریڈا کے ساحل کی جانب بڑھتے سمندری طوفان ایسائیس کی سیٹلائٹ تصویر

سمندری طوفان ایسائیس بالآخر امریکی خلیجی ساحل سے ٹکرا گیا ہے۔ امریکی قومی سمندری طوفان مرکز (NHC) کے مطابق طوفان جمعے کی رات مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے (پاکستان میں ہفتے کی صبح ساڑھے چھ بجے) فلوریڈا کے شہر ڈیسٹن کے قریب ساحل پر آیا۔ اس وقت طوفان کی شدت کیٹیگری 2 تھی اور اس کے مرکز کے قریب مسلسل ہوائیں 105 میل (169 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھیں۔

ٹکرانے سے چند گھنٹے قبل ہی ایسائیس کیٹیگری 3 میں پہنچ چکا تھا، مگر ساحل کے قریب “ونڈ شیئر” — ہوا کی رفتار اور سمت میں اچانک تبدیلی — نے طوفان کو کمزور کر دیا اور اس کی ساخت بھی بگڑ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ تھی کہ طوفان بڑے طوفان کی سطح پر پہنچنے کے باوجود قدرے کمزور ہو کر ساحل سے ٹکرایا۔ اس کے باوجود قومی موسمیاتی ادارے (NWS) نے شدید انتباہ جاری کیا کہ یہ “انتہائی خطرناک اور جان لیوا صورتحال” ہے۔

طوفان کے ساتھ آنے والی طغیانی نے ساحلی علاقوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ خلیج کے پانی کی سطح پاناما سٹی بیچ کے قریب اوسط بلند لہر سے ساڑھے پانچ فٹ اوپر ریکارڈ ہوئی، جبکہ الاباما–فلوریڈا سرحد کے آس پاس نو فٹ تک پانی کے اندر چلے جانے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ سانتا روزا ساؤنڈ کے قریب 116 میل فی گھنٹہ اور پینساکولا میں 102 میل فی گھنٹہ کے تیز جھونکے ریکارڈ کیے گئے۔ طوفان کا مرکز رات نو بجے پینساکولا سے تقریباً 50 میل مشرق–جنوب مشرق میں تھا اور شمال کی جانب 19 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا تھا۔

بجلی کے نظام کو سخت دھچکا لگا۔ فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹیس کے مطابق ٹکرانے کے وقت تقریباً دو لاکھ ساٹھ ہزار صارفین بجلی سے محروم تھے، جن میں زیادہ تر پینساکولا سے پاناما سٹی اور ٹالہاسی کے علاقے شامل تھے۔ مقامی رپورٹوں کے مطابق صرف ایسکیمبیا کاؤنٹی میں 70 فیصد صارفین اندھیرے میں ڈوبے تھے۔

گورنر ڈی سینٹیس نے رات ساڑھے نو بجے ٹالہاسی میں ہنگامی آپریشنز سینٹر سے پریس کانفرنس کی اور رہائشیوں سے کہا: “محتاط رہیں اور طوفان کو گزر جانے دیں”۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طوفان کے بعد سڑکوں پر نہ نکلیں، ٹوٹی ہوئی بجلی کی تاروں سے دور رہیں اور ڈوبی ہوئی سڑکوں پر گاڑی نہ چلائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبہ ہٹانے اور تلاش و امداد کی ٹیمیں تیار ہیں اور ہفتے کی صبح تین بجے (وسطی وقت) کے آس پاس متحرک ہو جائیں گی۔ گورنر نے یہ بھی کہا کہ ان کے اداروں کو عام طور پر اتنی تعداد میں امدادی درخواستیں نہیں موصول ہوئیں جتنی ایسے طوفانوں میں ہوتی ہیں — “یہ محتاط طور پر امید افزا علامت ہے”۔

سیاسی اثرات بھی سامنے آئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ٹسکالوسا، الاباما میں یونیورسٹی آف جارجیا اور یونیورسٹی آف الاباما کے درمیان کالج فٹبال میچ دیکھنے کا دورہ طوفان کی وجہ سے منسوخ کر دیا۔ فلوریڈا کے شمال مغربی حصے کے دو ہوائی اڈوں نے پروازیں معطل کر دیں، جبکہ خلیج میکسیکو میں تیل اور گیس کے پلیٹ فارمز خالی کرانے سے پیداوار بھی متاثر ہوئی۔

طوفان کے اثرات اختتام ہفتے بھر جاری رہنے کا امکان ہے۔ پیشگوئی کے مطابق جنوبی الاباما، فلوریڈا پین ہینڈل اور بگ بینڈ میں چار سے آٹھ انچ بارش ہوگی، کہیں کہیں پندرہ انچ تک بارش فلیش فلڈنگ کا خطرہ بڑھا دے گی۔ ساحلی پٹی سے اندرونِ ملک جنوبی الاباما تک طوفانی ہوائیں پھیلنے اور بکھری ٹارنیڈو کا خطرہ بھی ہفتے اور اتوار تک برقرار رہے گا۔ ماہرین کے مطابق ایسائیس ہفتے کے اختتام تک “پوسٹ ٹراپیکل” نظام میں تبدیل ہو جائے گا۔

یہ اہم کیوں ہے؟

ایسائیس 2026 کے بحرِ اوقیانوس طوفانی موسم کا پہلا سمندری طوفان ہے — نواں نامزد طوفان مگر پہلا جو سمندری طوفان بنا — اور 2024 کے طوفان ملٹن کے بعد امریکی سرزمین سے ٹکرانے والا پہلا طوفان بھی۔ موسمِ گرما کی ایک غیر معمولی خاموشی کے بعد، جب ایک مضبوط ال نینو نے بحرِ اوقیانوس میں طوفانوں کو دبائے رکھا، ایسائیس نے ریکارڈ گرم خلیجی پانیوں سے توانائی حاصل کی اور تیزی سے شدت اختیار کی۔ یہ طوفان ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ال نینو کے دباؤ کے باوجود بھی خلیجی ریاستوں پر کوئی ایک طوفان بھاری پڑ سکتا ہے — اور اس بار وہ “صرف ایک” طوفان ساحل سے ٹکرا ہی گیا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *