مہنگائی کا نیا وار
مالی سال 2026-27 کے دوسرے ماہ ستمبر کے تیسرے ہفتے کے دوران بھی ملک میں مہنگائی کا رجحان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ہفتے 20 سے زائد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عام صارفین کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں یہ اضافہ مسلسل تیسرے ہفتے بھی برقرار رہا۔
کن اشیاء کی قیمتیں بڑھیں؟
رپورٹ کے مطابق روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے سبزیاں، دالیں، خوردنی تیل، گھی اور بعض ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ تبدیلی کے اثرات بھی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ تاجروں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے بھی درآمدی اشیاء کو مہنگا کر دیا ہے۔
عام آدمی پر اثرات
مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے متوسط اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کا گھریلو بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ خاص طور پر شکایت کر رہا ہے کہ آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکومتی مؤقف اور اقدامات
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات زیر غور ہیں، جن میں درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی میں کمی اور مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کو مراعات دینا شامل ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے حکام کا دعویٰ ہے کہ آئندہ ماہ سے افراطِ زر کی شرح میں کمی متوقع ہے، تاہم ماہرینِ معیشت اس دعوے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ماہرینِ معیشت کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں توانائی کے نرخوں میں عدم استحکام، عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ، اور ملکی سطح پر رسد و طلب کا عدم توازن شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو قلیل مدتی ریلیف پیکجز کے بجائے طویل المدتی پالیسیوں پر توجہ دینی ہوگی تاکہ عام آدمی کو دیرپا سکون میسر آ سکے۔
نتیجہ
ستمبر کے تیسرے ہفتے میں مہنگائی کا یہ تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی چیلنجز اب بھی برقرار ہیں۔ عوام کی نظریں حکومت کے آئندہ اقدامات پر ٹکی ہوئی ہیں کہ آیا وہ قیمتوں کے اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)